عقلمندوں کے اقوال کم عقلوں کے ہاتھ
دور حاضر میں علم کو سب سے بڑا خطرہ حوالہ جات کی عدم موجودگی سے ہے۔ تحقیق میں کوئی بھی بات اس وقت تک درست نہیں مانی جاتی جب تک کہ اس کا مناسب اور مکمل حوالہ ساتھ نہ لکھا جائے۔ آپ کوئی بھی ریسرچ پیپر پڑھ کر دیکھ لیں اس میں آپ کو محقق کی طرف سے دی گئی معلومات مکمل حوالہ جات کے ساتھ بیان کی گئی ہوتی ہیں۔ اگر کسی ریسرچ پیپر میں محقق کسی سائنس دان، دانشور یا کسی فلاسفر کا کوئی قول استعمال کرتا ہے تو اسے مکمل حوالہ کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے۔ اور ظاہر ہے ریسرچ پیپر کو مستند جرنلز یا کتابوں میں چھاپا جاتا ہے تاکہ آنے والی نسلیں جب تحقیق کریں تو ان کو مستند حوالہ جات میسر ہوں۔
کسی بھی انسان کی بولی گئی بات، کوئی کام اور تحقیق نسلوں کی امانت ہوتی ہے۔ اسے ہوبہو اسی حالت میں ہی اگلی نسلوں کے پاس پہنچنا چاہیے۔ اور کچھ باتیں تو اتنے نازک اور اہم ہوتی ہیں کہ اگر ان کو غلط ناموں اور بغیر کسی سیاق و سباق کے بغیر آگے منتقل کر دیا جائے تو بہت بڑے فتنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ خاص طور پر مذہب اور عقائد سے منسلک باتیں قوموں کے اندر انتشار، فرقہ بندی، نفرت اور تعصب کا باعث بن سکتی ہیں۔
جب سے سوشل میڈیا پر احادیث مبارکہ، اقوال زریں اور کومنٹس کو فارورڈ اور شیئر کرنے کا فیشن آیا ہے گویا اصلی تحقیق اور علم تو دن بدن کم ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ہر انسان چاہے وہ پڑھا لکھا ہے یا اَن پڑھ ایک بٹن دبا کر اس پیغام کو فارورڈ یا شیئر کر دیتا ہے جو کہ پلک جھپکتے ہی لاکھوں کروڑوں لوگوں تک بغیر کسی تصدیق اور حوالہ کے پھیل جاتا ہے۔ اس عمل سے ہم علم کی بجائے گمراہی اور جہالت پھیلا رہے ہیں۔ بظاہر اپنی حد تک ہمارا ایک اچھا اور نیک عمل دراصل ایک گمراہی کا باعث بن رہا ہے۔ بے شمار احادیث اور اقوال زریں آپ کو سوشل میڈیا پر شئیر ہوتے نظر آئیں گے جن کا سرے سے کوئی حوالہ ہی موجود نہیں ہوتا۔ آپ نے کسی کتاب ریسرچ جرنل سے کوئی اچھی بات کیا تحقیق پڑھی ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے دیگر دوست بھی اس سے مستفید ہوں تو آپ اس تحقیق یا اقوال کو مکمل حوالے کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔
لیکن خیال رکھیے کہ تحقیق یا اقوال اسی انسان کے ہوں اور مکمل حوالہ کے ساتھ ہوں۔ اکثر دیکھنے میں آرہا ہے لوگ سوشل میڈیا پر غلط مواد شیئر کر رہے ہیں۔ حدیث ہے یا نہیں انہوں نے حدیث کا نام کہہ کر کس انگریز دانشور کی بات کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا اور پھر آگے مزید شیئر ہونا شروع ہوجاتی ہے اور کوئی بھی شخص اس پر تحقیق نہیں کرتا۔ خلیل جبران کے اقوال کو حضرت علی کے نام سے منسوب کرکے پوسٹ لگا دی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ ویڈیوز اور آڈیوز ایڈیٹنگ کے ساتھ اپنے پسند کی تبدیلی کر کے جو پوسٹیں ہو رہی ہیں وہ ایک الگ بحث ہے۔ موبائل جب پاکستان میں نیا نیا آیا تو صرف چند لوگوں کے پاس ہوا کرتا تھا اور وہ بھی وہ لوگ جو کاروباری حضرات تھے اور ان کو اپنے کام کے سلسلے میں اکثر گھر یا دفاتر سے باہر رہنا پڑتا تھا۔ اور پھر اس کا استعمال ایسا بڑھا کہ ہر انسان کی ضرورت بن گیا پھر وہ چاہے بہت بڑا کاروبار انسان ہو یا گھر میں فضول لیٹا ہوا بیروزگار انسان جدید ماڈل کا موبائل ہر انسان کے پاس موجود ہوتا ہے۔
پھر موبائل کمپنیوں کی مقابلہ بازی شروع ہوئی جس کی وجہ سے ہر شخص پانچ پانچ موبائل سِمز رکھنا شروع ہوگیا۔ کچھ عرصہ کے بعد دہشت گردی کی وجہ سے گورنمنٹ نے کچھ کنٹرول کیا اور یہ سِمز باقاعدہ رجسٹر ہونا شروع ہوئیں جس کی وجہ سے سے ان کی تعداد میں کچھ کمی ہوئی۔ ورنہ اس سے پہلے ہر شخص جیب میں کئی کئی سِمز لئے پھر رہا ہوتا تھا۔
یہی حال آج کل سوشل میڈیا کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ایک انسان کے مختلف سوشل میڈیا پر کئی کئی اکاؤنٹس ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صرف فیس بک پر پاکستانیوں کے تقریبا ستّر کروڑ اکاؤنٹس ہیں جبکہ ملک کی کل آبادی 22 کروڑ ہے۔ ظاہر ہے اکثر اکاؤنٹ جعلی اور غلط مقاصد کے لیے بنائے گئے ہیں۔ زیادہ تر سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ای میل ایڈریس عجیب و غریب ناموں سے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ جناب محترم آپ کا اپنا ایک خوبصورت نام ہے جو کہ بہت پیارا ہے اور والدین نے وہ نام آپ کو دیا ہے۔
آپ اپنے اصلی نام سے اکاؤنٹس کیوں نہیں بناتے اس میں آخر کون سی ایسی شرم والے بات ہے یا کوئی خاص راز پنہاں ہے جس کی وجہ سے پاکستانی قوم کو مختلف عجیب و غریب ناموں سے اپنے کئی کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے پڑتے ہیں۔ آپ سوشل میڈیا پر اکاؤنٹس کے نام پڑھیں تو ہنسی آنے لگتی ہے کہ لوگ کیسے کیسے ناموں سے اپنے اکاؤنٹ بنا لیتے ہیں۔ ان بے نامی اور جعلی اکاؤنٹس پر مذہب کی تبلیغ اور مذہب کے نام پر مر مٹنے کے ایسے ایسے خطابات اور پوسٹ لگائی جاتی ہیں جیسے یہ بہت بڑے مجاہد ہوں۔
ان کا مطالبہ ہوتا ہے کہ ملک میں فوراً مذہب کو نافذ کیا جائے۔ ویسے یہ لوگ صرف اسی دین کو نافذ کرانے کا مطالبہ کرتے ہیں جو اِن کے ذہن میں ہوتا ہے اِن کے اکاؤنٹس کی طرح بے نامی بغیر کسی حوالہ کے اور بغیر کسی تشریح کے۔ یہ لوگ اور اِن کے مطالبات اتنے ہی مستند ہیں جتنا کہ ان کے اکاؤنٹس۔ یہ جعلی پہچان اور سچے مسلمان قِسم کے لوگ ہیں جو اپنی پہچان کو خفیہ رکھتے ہوئے روشن دین کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جس شخص کے سچ بولنے کا عالم یہ ہے کہ اس کا اکاؤنٹ بھی اس کے اپنے نام سے نہیں ہے اور اس کی کوئی پہچان بھی نہیں ہے مگر وہ جھوٹ کی بنیاد پر زندگی گزارنے والا انسان دوسرے لوگوں کی زندگی میں مذہب دیکھنے کا خواہش مند کیوں ہوتا ہے۔
آپ ان لوگوں کے اکاؤنٹس دیکھ لیں کوئی معلومات نہیں ہوں گی کہ یہ کون ہے، کیا نام ہے، تعلیم کیا ہے، ملک یا صوبہ کون سا ہے مگر ان کے بھاشن سْن لیں۔ ایسے لگے گا کہ آپ نے شاید اپنی زندگی ہی ضائع کردی ہے اصل دین اور مذہب کے علمبردار تو یہ لوگ ہیں۔ ان کی میڈیا والز پر ساری باتیں اور معلومات ایسے ہی جعلی ہوتی ہیں جیسا کہ یہ خود۔ ایسے لوگ صرف گمراہی کے علمبردار ہیں اور معاشرے میں گمراہی اور بے راہ روی پھیلانے کا موجب بنتے ہیں۔
میری سوشل میڈیا استعمال کرنے والی تمام نوجوان نسل سے درخواست ہے کہ برائے مہربانی کسی بھی پوسٹ کو امانت سمجھ کر شیئر کریں اور کوشش کریں کہ مکمل حوالہ اور سیاق و سباق کے ساتھ اپنی پوسٹ کریں۔ کیونکہ آنے والے وقتوں میں یہی چیزیں حوالہ جات بن جائیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے گمراہی کا باعث بنیں گی۔

