انسانی جبلت اور عشق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


میرے عشق نوں جاندے ڈھول باشک، لوح قلم تے زمین آسمان میاں (وارث شاہ)

ہیر قاضی کو مخاطب ہو کر کہہ رہی ہے کہ میرا عشق اس وقت سے قائم ہے جب کائنات کی ابتدا ہوئی تھی۔ اس کو ہندو متھالوجی کے مطابق کرۂ زمین کو اپنے سینگوں پر اٹھانے والا بیل، دھرتی کو سہارا دینے والا ناگ، سب جانتے ہیں۔ لوح پر بھی اس کا ذکر موجود ہے اور وہ لوگ جو کسی خدا کو نہیں مانتے وہ بھی جان لیں کہ زمین آسمان میں موجود ہر چیز اس کی گواہ ہے۔

رادھا اور کرشن کا نام محبت کی داستانوں میں سب سے اوپر ہے۔ ہندو ازم کی دیومالائی داستانوں کے مطابق کرشن، صنم اکبروشنو ( نارائن ) کا آٹھواں جنم تھا۔ انائے (آیان) وشنو کا ایک بھگت تھا۔ اس نے اپنے پچھلے جنم میں وشنو کی بیوی لکشمی دیوی کی چاہت میں کئی سال عذلت اور نفس کشی کی زندگی بسر کی۔ جب وشنو دیوتا انائے کی طرف متوجہ نہ ہوا تو اس نے سخت قسم کی فاقہ کشی اور آگ کے دائرے میں چلہ کشی شروع کر دی۔ وشنو اس کی فریاد سننے پر مجبور ہوگیا۔

”کیا چاہتا ہے، بھگت؟“
”لکشمی کو اپنی بیوی بنانا۔“
” یہ ناممکن ہے، وہ ازل تا ابد میری ساتھی ہے۔“

” میرے آقا! تمام کائنات جانتی ہے کہ تم اپنے بھگتوں کو ناراش نہیں کرتے۔ تم ان کی ہر اچھا پوری کرتے ہو۔ پھر میری باری یہ وچار کیوں؟“

تب وشنو بولا، ”ٹھیک ہے، تم لکشمی کو پا لو گے۔ جب میں کرشنا کے روپ میں آؤں گا، لکشمی رادھا کا روپ دھار لے گی اور تم سے شادی کر لے گی۔ تمہارا نام آیان ہو گا، لیکن تم خواجہ سرا ہو گے۔“

لوگ کہتے ہیں کہ رادھا کرشنا کو چھوڑ کر چلی گئی۔

براہما نے کہا، ”رادھا تو کرشنا کا ہی حصہ ہے۔ جس کی شادی ہوئی، وہ تو ’چھیا رادھا‘ ہے، وہ ’میا رادھا‘ ہے (رادھا کا سایہ) ۔ بے وقوف ہیں وہ جو اسے اصل رادھا سمجھ کر دھوکا کھا گئے۔“

ویدوں کے مطابق جب رادھا پندرہ اور کرشنا گیارہ سال کا تھا تو دونوں علیحدہ ہو گئے۔ سو سال کے بعد دوبارہ ملے اور آخری چودہ سال اکٹھے رہے۔ اس کے باوجود کہا جاتا ہے کہ رادھا کے بغیر کرشنا کا کوئی وجود نہیں، دونوں ایک ہی ہیں، ایک ہی وجود کا نام رادھا کرشن ہے۔

رادھا اور کشن کنہیا کا عشق لازوال ہے اور ہندو داستانوں کی طرح ہمارے بزرگوں نے بھی اس کو علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔

بندرابن کے کرشن کنھیا اللہ ہو
بنسی رادھا گیتا گیا اللہ ہو
اسی علامت کو میاں محمد بخش نے استعمال کرتے ہوئے کہا ہے
لوئے لوئے بھرلے کڑئے جے تدھ بھانڈا بھرنا شام پئی بن شام محمد گھر جاندی نے ڈرنا

اے لڑکی! زندگی کی شام ہو چکی ہے اور تمہارا اعمال کا برتن ابھی خالی ہے ابھی دن کی روشنی کچھ باقی ہے اپنا برتن بھر لو کیونکہ شام (کرشنا) کے بغیر تمہیں گھر (آخرت، قبر) واپس جاتے خوف آئے گا۔

اس پوری کہانی میں ہمیں کہیں بھی جنسی تعلقات کا ذکر نہیں ملتا۔ یہ خالصتاً عشق حقیقی کی داستان ہے۔ ہمارے ہاں عشق ہی ہر تعلق کا محرک جاناجاتا ہے اور عشق حقیقی کی منزل ہمیشہ مجازی سے گزر کر ہی ملتی ہے۔

انسان لاکھوں سال سے اس زمین پر موجود ہے اور ہزار ہا سال کی قربانیوں کے بعد تہذیب و تمدن کی موجودہ منزل تک پہنچا ہے۔ وقت کا دھارا گہرے ساگر کی طرح صدیوں بہتا رہا پھر انسان افریقہ کے جنگلات سے نکل کر سات سمندر پار زمین کے ہر ٹکڑے پر بستیاں بسانے میں کامیاب ہوا ہے۔

لاکھوں کروڑوں اعلیٰ انسانوں کی قربانی نے آدمی سے جانوروں کی عادات و اطوار کو دور کر کے اسے قوانین اور مذاہب کی پابندیوں میں جکڑا ہے پھر ہمیں انسان کی موجودہ مہذب شکل دکھائی دینا شروع ہوئی ہے۔ اب تو اس نے جانوروں کو بھی تہذیب سکھانا شروع کردی ہے۔

انسانوں کے آپس میں تعلقات صدیوں کے سفر کی وجہ سے اعلیٰ درجہ پر پہنچ چکے ہیں۔ عشق اس کی معراج ہے۔

جنسی خواہش انسان کی رگ رگ میں رچی بسی ہے۔ انسانی تمدن میں سب سے مقدم اور پیچیدہ مسئلہ ہی یہ ہے کہ عورت اور مرد کا تعلق کس طرح قائم کیا جائے؟ کیونکہ یہی تعلق در اصل انسانی تہذیب کا سنگ بنیاد ہے۔ جنس شادی اور محبت پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جا رہا ہے کیونکہ انسانی تہذیب ابھی کمال کے آخری مرتبہ تک نہیں پہنچی۔ جنسی خواہش انسانی فطرت ہے، جبلت ہے، انسانی بنیادی جذبہ ہے، بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے انسان نے صدیوں کی محنت کے بعد کچھ قواعد و ضوابط بنائے ہیں۔ انسان کی اس خواہش کی تکمیل کے لئے اگر اسے آزاد چھوڑ دیا جائے تو پھر ہم واپس جنگلات میں چلے جائیں گے اور انسان دوبارہ جانور بن جائے گا۔

لُنڈی پاہڑی نوں کھیت ہتھ آیا، پئی اُپروں اُپروں مُرکدی ہے۔

دُم کٹی پاہڑی کھیت میں گھس گئی ہے اسے روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں۔ اب وہ ہر پودے کی کونپلوں کو نوچ رہی ہے۔

انسان کی جبلت یہی ہے کہ وہ ایک پر گزارا نہیں کر سکتا لیکن تہذیب اس کی اس خواہش کے راستے کی رکاوٹ ہے۔ اور یہی پابندی اسے چوپائے سے دوپایہ بناتی ہے۔

اپنی اس خواہش کو ایک تک محدود رکھنا اور اس کو ہی اپنی منزل بنا لینا، یہی عشق ہے۔ پھر اس میں وہ مقام بھی آتا ہے کہ جنسی خواہش بہت پیچھے رہ جاتی ہے اور پھر بھی اسی ایک کے لئے دل تڑپتا ہے۔ یہ عشق کی اگلی منزل ہے

اور اس سے بھی آگے چل کر اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہتی اور وہ دونوں ایک ہو جاتے ہیں اور پھر رادھا کرشن ایک وجود کہلاتے ہیں۔

دوئے جہان بھلائے دل توں خبر نہ رہیا والوں
رانجھے وچ سما محمد چھٹی ہیر جنجالوں۔

جب ہیر دونوں جہانوں کو بھول کر مکمل طور پر رانجھے کے اندر سما گئی، اس نے خود کو اس کی چاہت میں مٹا دیا اور ان کے درمیان بال برابر بھی فاصلہ نہ رہا تو اس کے تمام جنجال بھی ختم ہو گئے۔

یہی عشق انسان کی معراج ہے،
خود کو کردار سے اوجھل نہیں ہونے دیتا
وہ کہانی کو مکمل نہیں ہونے دیتا
عالم ذات میں درویش بنا دیتا ہے
عشق انسان کو پاگل نہیں ہونے دیتا

انسان نے صدیوں کی مسافت طے کر کے اپنے آپ کو عشق کی اس منزل کے قریب پہنچایا ہے۔ اب اسے واپس اُسی طرف لے کر جانا، جبلت کی بنیاد پر اسے کھلا چھوڑ دینا، اسے اجازت دے دینا کہ وہ جس سے چاہے جنسی تعلقات بناتا پھر ے، ارتقا کے پھیرکوالٹا گھمانا ہے جو کہ ناممکن ہے۔ اور اس طرح کی خواہش رکھنے والوں کے لئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے مہذب انسان کی پچھلی کئی صدیوں کی ترقی کو پرکھا ہی نہیں۔

وہ تو صدیوں کا سفر کر کے یہاں پہنچا تھا
تو نے منہ پھیر کے جس شخص کو دیکھا بھی نہیں

(میرے مضمون ”جنس اور شادی کی نفسیات“ پر پنجابی زبان و ادب کے ماہر، فلاسفر ڈاکٹر یوسف رشید کے تبصروں کو مد نظر رکھ کر یہ مضمون لکھا گیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *