کہانی گھر گھر کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اتوار کا دن ہے احمد فیس بک پہ کمنٹ اور لایکس میں مصروف دنیا سے بے خبر اپنے بستر پر لیٹا ہے اس کا چھ ماہ کا بیٹا پاس رو رہا ہے۔ مگر احمد تو جیسے کانوں میں روئی ٹھونسے ہے۔ اتنے میں ناہید کمرے میں داخل ہوتی ہے۔

”تم تو بس موبائل میں ہی گھسے رہو“
بچہ پاس رو رہا ہے مگر تمہیں کچھ ہوش ہی نہیں ”
احمد بھوکلا کر بولا ”ابھی اُٹھا ہے میں بس تمہیں آواز دینے ہی والا تھا کہ اسے دیکھ لو“
”ہاں بس میری ذمہ داری ہے سب کام کرنا اور تم بس پورا دن اس موبائل کے ساتھ جڑے رہو“ ناہید غصے سے بولی
”اچھا اب لیکچر ہی دو گی یا ناشتہ بھی ملے گا؟“
”لاتی ہوں پیمپر بدل لوں پہلے اس کا۔“

احمد ٹی وی آن کر کے خبریں دیکھنے لگتا ہے۔ ناہید ناشتہ بنا کر ٹرے احمد کے پاس رکھ دیتی ہے۔ اور بچے کو سیریل کھلانے لگتی ہے۔

”یہ کیا ناشتہ بنایا ہے انڈے میں نمک ڈالتے ہوئے شیشی اُلٹ گئی تھی کیا“
اور سلایس بھی اپنے لہجے جیسے جلے ہوئے لائی ہو ”
ناہید ماتھے پہ تیوری چڑھاتے ہوئے کہتی ہے ”خود بنا لیا کرو ناشتہ مجھ سے نہیں ہوتے اتنے کام“

”میری جو ذمہ داری ہے وہ میں پوری کر رہا ہوں کماتا ہوں خرچے پورے کرتا ہوں تمہارے ایک دن باہر کام کرو تو تمہیں پتہ چلے“

”تم بھی ایک دن گھر سنبھالو تو تمہیں پتہ چلے کیسے خون جلاتی ہوں پورا دن“ یہ کہہ کر ناہید بچے کو لے کر کمرے سے باہر چلی جاتی ہے۔ احمد دوبارہ خبروں اور فیس بک کی دنیا میں گم ہو جاتا ہے۔ ناہید کا فون بجتا ہے ناہید کی سہیلی سعدیہ کا فون آتا ہے

”ہیلو“ ۔
سعدیہ کچھ کہنے سے پہلے ہی رونے لگتی ہے۔
سعدیہ کیسی ہو؟
کیا ہوا؟
ناہید گھبرا کر پوچھتی ہے۔

سعدیہ روتے ہوئے اسے بتاتی ہے کہ شوہر سے جھگڑا ہوا جو آج کل کسی دوسری عورت کے چکر میں ہے اور اس کا اور بچوں کا بالکل خیال نہیں رکھتا نہ تو وقت دیتا ہے اور نہ ہی گھر کا خرچہ پورا کرتا یے۔ اور یہی نہیں سعدیہ پر ہاتھ بھی اُٹھاتا ہے۔

یہ ساری روداد سُن کر ناہید کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اُسے یقین نہیں آتا کہ اتنی پڑھی لکھی باشعور لڑکی کس حال میں شوہر کے ظلم و ستم برداشت کر رہی ہے۔

احمد جو کہ فیس بک میں محو ہے اچانک ایک خبر اس کی توجہ حاصل کرنے کا باعث بنتی ہے۔ ایک عورت جس نے آشنا کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو قتل کر دیا۔ احمد فون ایک سائیڈ پہ رکھتا ہے اور خبر سن کر ٹی وی بند کر دیتا ہے۔ مختلف خیالات اس کے ذہن کو گھیر لیتے ہیں۔ اور سوچتا ہے۔

”میری بیوی باکردار عورت ہے اور میرا کتنا خیال بھی تو رکھتی ہے ’
پچھلے سال جب مجھے پیسوں کی ضرورت تھی تو اس نے اپنا سب سے پسندیدہ زیور میرے لیے بیچ دیا تھا ”
”میں کتنا خوش نصیب ہوں کہ اتنی اچھی بیوی ملی مگر پھر بھی اُکتایا رہتا ہوں اس سے یہ تو زیادتی ہے“
ناہید بھی شہلا کی کہانی سننے کے بعد کافی پریشان ہو کر کچھ سوچنے لگتی ہے۔
”احمد کتنا پیار کرتے ہیں نا مجھ سے میرے علاوہ کوئی اور لڑکی نہیں ان کی زندگی میں“

اور کتنی فکر کرتے ہیں ہماری، ہر ضرورت کو پورا کرتے ہیں یہاں تک کہ کئی بار دفتر میں اوور ٹائم کام بھی کیا ”

”میں بے وجہ احمد سے بد زن ہو جاتی ہوں اور غصے میں کتنا کچھ کہہ دیتی ہوں مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے“

دونوں یہ سوچ کر یک دم اپنی اپنی جگہ سے اُٹھتے ہیں احمد اپنے کمرے سے کچن کی جانب بڑھتا ہے اور ناہید کچن سے بیڈ روم کی طرف، دونوں ایک دوسرے کے سامنے آ کر رک جاتے ہیں۔ بے ساختہ دونوں کے منہ سے یک دم ایک ہی لفظ نکلتا ہے۔

”سوری“
اور پھر دونوں مسکرانے لگتے ہیں۔

”سوری“ بظاہر کتنا چھوٹا سا لفظ ہے مگر کتنا کچھ ٹھیک کر دیتا ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ جنتا نازک ہے اتنا ہی مضبوط بھی، بات صرف سمجھنے کی ہے۔ انسان جب انا اور ضد میں اپنی ذات کے گرد ایک حصار بنا لیتا ہے تو اسے اپنی ذات کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں تو لباس صرف زینت ہی نہیں عیوب کو بھی چھپاتا ہے۔ جب کسی کی خوشگوار زندگی کو دیکھتے ہوئے ہم اپنے ازدواجی تعلق میں کمیوں پہ نظر رکھنے لگتے تو توقعات بھی بڑھانے لگتے ہیں۔

یہ سوچے بغیر کہ جو لوگ ہمیں بظاہر خوشحال نظر آ رہے ہیں ان کی زندگی میں بھی کوئی نہ کوئی کمی ضرور ہو گی نہ صرف اتنا بلکہ زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے انہوں نے بے انتہا برداشت سے بھی کام لیا ہو گا۔ پھر جا کر کہیں اس مقام پہ پہنچے ہوں گے کہ ایک بے مثال ازدواجی تعلق کی مثال بنے۔ توقعات کو محدود کرنا، غلطیوں کو نظر انداز کرنا اور محبت سے رشتوں کو نبھانا ہی زندگی کو خوبصورت بناتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *