کوڑوں کے بعد سعودی عرب میں نابالغ افراد کی سزائے موت بھی ختم کر دی گئی


گزشتہ دنوں کوڑوں کی سزا کے خاتمے کا اعلان کرنے والے سعودی عرب نے کم عمر افراد کے لئے پھانسی کی سزا بھی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ دنوں سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے حکم پر ملک بھرمیں کوڑوں کی سزا کے خاتمے کااعلان سامنے آیا تھا۔ کم عمر افراد کے لئے سزائے موت کے خاتمے کااعلان سعودی عرب کے انسانی حقوق کے کمیشن نے کیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق سعودی عرب کے انسانی حقوق کے کمیشن کے صدر عوادلعواد نے بتایا ہے کہ شاہی فرمان کے تحت ایسے کیسز میں کم عمری میں جرم کا ارتکاب کرنے والوں کی سزائے موت (پھانسی) کو اب زیادہ سے زیادہ دس سا ل کی سزا میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اور یہ دس سال انہیں بچوں کیلیے بنائے گئے سینٹرز میں گزارنا ہوں گے۔

گذشتہ سال سعودی عرب نے 178 مردوں اور چھ خواتین کو سزائے موت دی۔ جن میں نصف سے زیادہ غیر ملکی تھے۔ ان میں ایک کم عمر شخص بھی شامل تھا۔

خیال رہے کہ چند دن پہلے سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے ملک میں کوڑوں سے سزا کو ختم کرنے کاحکم سنایا تھا۔ خبر ایجنسی رائٹرز نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں جرم پر کوڑے مارنے کی سزا کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حکم کے بعد سعودی عرب میں کوڑوں کی جگہ قید اور جرمانے جیسی سزائیں دی جائیں گی۔

رائٹرز نے سعودی اعلیٰ عدالت کی ایک دستاویز کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ فیصلہ رواں ماہ میں سعودی عرب میں جرم پر ‘کوڑے’ مارنے کی سزا کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

 سعودی عرب میں کئی جرائم پر کوڑوں کی سزا دی جاتی تھی تاہم اب کوڑے مارنے کی سزا سعودی عرب کے ماضی کا حصہ بن گئی ہے

عدالتی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس سزاکا خاتمہ سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان کی ہدایت پر کیا گیا ہے جبکہ یہ اصلاح سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی براہ راست نگرانی میں کی جا رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ انسانی حقوق سے متعلق اصلاحات کا حصہ ہے جو فرمانروا شاہ سلمان کی ہدایات اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی براہ راست نگرانی میں متعارف کروائی گئی ہیں۔

سرکاری انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی) کے سربراہ عواد العواد نے ‘رائٹرز’ کو بتایا کہ ‘یہ اصلاح سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ایجنڈا میں یادگار قدم ہے۔’

Facebook Comments HS