فیبلاگ: میرے حصے کا عذاب


ایک ہوتا ہے قادر۔ ایک قدرت۔ ہم۔ مسلمانوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ذات قادر ہے۔ ہندو مذہب میں بھگوان ایشور کے اختیار میں ہے سب کچھ، یہودیت عیسائیت میں بھی خدا اور یسوح مسیح مطلق ہیں۔ جو دہریے ہیں، ان میں سے اکثر بگ بینگ تھیوری پر یقین رکھتے ہیں، کسی قادر پر نہیں البتہ کئی ایک نظام قدرت اور کسی متوازی، غیر مرئی قوت کے معترف ہیں۔

بات ہو رہی تھی قادر اور قدرت کی۔ قادر نے قدرت کے اصول وضح کردیے۔ انہی اصولوں پر قدرت کاربند ہے۔ جیسے چاند سورج زمین کی گردش۔ جیسے موسموں کاتغیر، دن رات کا پہیہ، سیاروں کی گردش، رفتار۔ جیسے اشیا اجزا کی کیمسٹری، اس کیمسٹری میں بدلاؤ، فزکس فزکس کے اصول۔ ہم۔ کیوں سوچتے ہیں کہ کورونا قادر کا عذاب ہے، یہ قدرت کا ری ایکشن بھی تو ہو سکتا ہے؟ قائم کردہ خودکار نظام کا ردعمل؟ کہ انسان موسمی تغیرات میں حصہ ڈال رہا ہے۔

پلاسٹک کے پھیلاؤ سے گرین ہاؤس گیسز کے اخراج تک، جنگل میں گھس کر، پانیوں کے اندر قہرسامانیوں، پہاڑوں کے اندر سرنگوں تک ہم کہاں کہاں نہیں گھسے ہیں؟ جنگلی و آبی حیات کو اپ سیٹ کردیا ہم نے۔ ان کے جنگل اجاڑ دیے اور ان کے ساتھ قدرت نے جو فاصلے متعین کیے تھے، ان کو ہم پاٹ گئے ہیں۔ کچھ چرند پرند، درند جو انسانوں سے دور ہی خوش تھے ان کی کچھاروں میں ہم گھسے اور ان کواپنی آبادیوں اور پھر اپنی ہنڈیا میں لے ائے۔ اب یہ بیچ چوراہے پھوٹ رہی ہے کیا؟

کرہ ارض کیمیائی اور جوہری تبدیلیوں سے گزر رہا یے۔ یہ کہا جائے کہ یہ سب قدرت کے ایک سائیکل، ایک نظام کے تحت ہے تو کیسا رہے گا؟ ہر تبدیلی کا نام عذاب کیوں؟ جید صحابہ حتی کہ عشرہ مبشرہ میں جن کا نام تھا، وبا میں راہی اجل ہوئے؟ کیا اس کو عذاب کہیں گے۔ نہیں نا؟ یہ سب قدرت کے نظام کے تابع، یہ سب کیمیاوی تبدیلیوں کا نتیجہ بھی تو ہو سکتا ہے نا؟ نیا زہر ہے، نیا تریاق مل جائے گا تو ساری زندگی ہنستے کھیلتے کورونا کے ساتھ گزاریں گے۔ کیا ضروری ہے کہ مرد حضرات خواتین کو قصوروار کہیں، خواتین مردوں کو، کوئی مدرس کا نام ڈرتے ڈرتے زباں پر لائے تو کوئی ماسٹر کو پکڑے، کوئی مسیحا کا گریبان چاک کرے تو کوئی تاجروں کو لیرولیر کرے۔ کوئی منصفوں پر ملبہ ڈالے، کوئی شاہ کو تاراج کرے تو کوئی سالار پر وار؟

اس وقت کم و بیش پوری دنیا میں جتنے بھی نظام ہیں، جمہوریت سے بادشاہت تک، مطلق العنانیت سے ملوکیت تک، تھیوکریسی، ارسٹوکریسی، کچھ بھی۔ جزا سزا کا نظام تو ہے نا۔ اچھا یا برا۔ ہر علاقے، ملک، خطے کے قوانین ہیں، رسم و رواج اور اخلاقی معیارات الگ۔ خلاف ورزیوں کی سزا ہے، ملتی بھی ہے، گردنیں بھی اڑتی ہیں سر بازار۔ اگر مجھے میرے کیے کی سزا یہاں مل رہی ہے اور بحیثیت مسلمان میرا عقیدہ ہے کہ اگلے جہان بھی دوزخ کی آگ میری منتظر ہے تو میرا عمل آپ پر کیوں عذاب کے بلاوے کا سبب بن رہا ہے۔

مجھ مردود کا کورونا میرے مسیحا، میرے ڈاکٹر میری نرس کو کیوں کھا رہا ہے، ان پر عذاب کیوں؟ ہم کیوں سوائے اپنے سب کو رگید کے رکھ دیتے ہیں اور سب کو مہا گناہگاروں کی فہرست میں کھڑا کر کے اپنے لیے قربت خداوند کے اشارے دیتے ہیں؟ البتہ ان لوگوں کو اگلے ہی دن استثنی دے دیتے ہیں جو طاقتور جتھے کی شکل میں گریبان کو آتے ہیں؟ ہم سب گناہ گار۔ سب عاجز ہیں۔ اور ہم۔ میں سے اکثر ڈر ڈر کے جینے والے۔ قانون کا ڈر۔

سماج کا ڈر۔ خالق و قادرکا ڈر۔ میرے جیسوں کو تو دنیا میں ہی لٹکا دیا جاتا ہے، آخرت کی خرابی کے سرٹیفکیٹ کے ساتھ دفن کر دیا جاتا ہے۔ مجھ جیسے کئیوں کا تو جنازہ بھی نہیں ہوتا۔ پھر میرے کیے کی سزا کا خوف آپ جیسے زاہدوں کو کیوں ہے؟ مجھے اپنی کم مائیگی کا علم۔ ہے۔ اس لیے صرف سوال کیا ہے، آپ کی طرح اتھارٹی سے لیبل نہیں لگایا۔ کنفیوز ہوں، بس پیار سے سمجھا دیجیے گا حضرت! کسی کارندے کے ذریعے ”اچھی طرح“ سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

Facebook Comments HS

اسد حسن

اسد احمد وائس آف امریکا کے نشریاتی ادارے سے وابستہ ہیں۔ اور اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے علاوہ کھیلوں بالخصوص کرکٹ کے معاملات پر گہری آنکھ رکھتے ہیں۔غالب امکان ہے کہ آئندہ کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران ّہم سبٗ پڑھنے والے اسد احمد کے فوری، تیکھے اور گہرے تجزیوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

asad-ahmad has 16 posts and counting.See all posts by asad-ahmad