پی ٹی آئی میں سے کون شاہد خاقان عباسی کو نون لیگ کا صدر بنوانا چاہتا ہے


حکومت نیب قانون میں ترمیم سے پہلے مخالف سیاست دانوں کو ایک بار پھر سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا چاہتی ہے جس سے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال سمیت مسلم لیگ (ن) کے متعدد رہنماؤں کی دوبارہ گرفتاری کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق نیب ترمیمی آرڈیننس جو اتوار کے روز اپنی میعاد پوری کر کے غیر موثر ہو گیا، کے بعد پیدا ہوجانے والی صورتحال پر وزیراعظم نے اپنے قانونی مشیروں، بالخصوص پارلیمانی امور کے مشیر بابر اعوان سے حالیہ دنوں میں مسلسل صلاح مشورہ کیا ہے جن میں وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس غیر موثر ہوجائے سے نیب قانون اپنے ”دانتوں“ کے ساتھ چونکہ بحال ہو گیا ہے لہٰذا اس ضمن میں نئی قانون سازی سے پہلے پہلے بحال شدہ سخت نیب قانون کا سیاسی فائدہ اٹھا لیا جائے۔

اور اپنے سیاسی مخالفین، بالخصوص بطور ”متبادل“ ان کے لئے خطرہ بننے والے ”امیدواروں“ کو دوبارہ پابند سلاسل کروا دیا جائے۔ خاص طور پر شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی جیسے وہ مخالف سیاسی رہنما جو وزیر اعظم عمران خان کو پرائم منسٹر ہاؤس سے بے دخل کروا کے کسی نئے بند و بست کی سازشوں میں مصروف ہیں تاکہ ”اہم شخصیات“ کے ساتھ ان کی مبینہ ملاقاتوں یا بالواسطہ خفیہ رابطوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق مقتدر حلقے اگرچہ حکومت کو نیب کے قانون میں نرمی اور اس مقصد کے لئے اپوزیشن سمیت دیگر سیاسی قوتوں کے اتفاق رائے کے ساتھ قانون سازی تجویز کر رہے ہیں تاہم وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ سوائے شہبازشریف کے باقی اپوزیشن رہنماؤں کو اعتماد میں لیا جائے اور اگر منقسم نون لیگ کا دوسرا دھڑا اس سے پہلے پہلے شہبازشریف کی جگہ شاہد خاقان عباسی کو نیا اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کا صدر بنوانے میں کامیاب ہو جائے تو بہتر ہو گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کے قانون میں سیاسی اتفاق رائے سے ترمیم کے لئے درکار قانون سازی کا پراسیس پورا ہونے میں چونکہ کچھ وقت لگے گا کہ ترمیمی قانون کا مسودہ ایوان میں پیش کر دیے جانے کے بعد پہلے قائمہ کمیٹی میں بحث کے لئے بھیجا جائے گا جس کے بعد ایوان میں بحث مباحثے اور حتمی منظوری کے لئے پیش ہوگا لہٰذا اس عرصے میں ترمیمی آرڈیننس سے toothless یعنی غیر سخت اور بے ضرر ہوجانے والا نیب قانون چیئرمین نیب کے لامحدود اختیارات کے ساتھ اپنی پرانی سخت حالت میں بحال رہے گا، اس لئے انا پرست اور ضدی کپتان اس مرحلے سے بھرپور سیاسی فائدہ اٹھاتے ہوئے خود پر کڑی تنقید کرنے والے مخالف سیاست دانوں کو ایک بار پھر سے کسنا چاہتے ہیں۔

Facebook Comments HS