مقدس میڈیا اور پاک دامن صحافی

یہ لوگ خود صبح سے لے کر شام تک پوری قوم کو بدعنوان، کاہل، بے کار اور غیر ذمہ دار ہونے کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔ ان کا ہر تیسرا کالم عوام کو کوسنے دینے اور روز افزوں سماجی بگاڑ، معاشی تنزل اور قومی انحطاط کی دہائی پر مشتمل ہوتا ہے، ان کے کالموں کا عنوان اکثر ”ہم دنیا کی سب سے ۔۔۔ قوم ہیں“ کا فقرہ ہوتا ہے جس میں خالی جگہ کو کنایۃً کسی طنزیہ یا صریح کاٹ دار لفظ سے بھر لیا جاتا ہے۔ لیکن آپ انہیں کٹہرے میں کھڑا کر کے یہ نہیں کہہ سکتے کہ صاحب! تم نے کیوں پوری قوم کی توہین اور تذلیل کا ارتکاب کیا ہے۔ اس لیے کہ یہ تو دانشور، مصلح اور مربی ہیں۔ لیکن یہ بات کوئی دوسرا کہہ دے اور ایسے پیرائے میں کہہ دے کہ یہ خود بھی شریک جرم ٹھہرتے ہوں اور ان کی داداگیری پر چوٹ پڑتی ہو تو فوراً ان کی صحافیانہ رگ حمیت پھڑک اٹھتی ہے۔

خود ان کی بہت بڑی تعداد نے نواز شریف کے حق میں کالم لکھے، عمران خان کی شان میں قصیدے کہے، آمروں کی کاسہ لیسی کا عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے بعد ”جمہوریت بچاؤ“ قسم کی خالص سیاسی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا مگر آپ ان پر صحافتی اخلاقیات سے روگردانی کا الزام نہیں لگا سکتے۔ آپ انہیں درباری اور شاہ کا خوشامدی نہیں کہہ سکتے۔ آپ انہیں حکمرانوں کی چوکھٹوں کا اسیر نہیں کہہ سکتے۔ اس لیے کہ انہوں نے حکمرانوں کا قرب ہمیشہ ان کی اصلاح اور قوم کے وسیع تر مفاد میں کیا ہے۔

ہاں یہ جسے چاہیں اس کی اوقات یاد دلا سکتے ہیں۔ یہ ایک عام شہری کا اس بات کا پابند بنا سکتے ہیں کہ وہ ان کے معتوب و مبغوض سیاسی لیڈر کی حمایت یا تعریف کی غلطی نہ کرے۔ اسے دیانت اور امانت کا تمغہ نہ پہنائے۔ ٹھیک ہے اسے بددیانت مان لیتے ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ تم کیوں ایک بد دیانت کے پہلو میں بیٹھ کر چندہ طلبی اور دریوزہ گری کر رہے ہو؟

ان کی صحافتی غیرت کا یہ حال ہے کہ سرمایہ داروں نے انہیں سوالات کی فہرست مع معاوضہ تھما کر ان کے ٹاک شوز میں من پسند انٹرویوز دیے۔ رانا ثناء اللہ نے مونچھوں کا تاؤ دے آن ائر کر انہیں گھٹیا اور نیچ کہا۔ فیصل رضا عابدی نے انہیں ببانگِ دہل امریکی ڈالروں کا پروردہ قرار دیا۔ ہر تیسرے شہری اور چوتھے سیاست دان نے انہیں نام لے لے کر لفافہ اور مفاد پرست کہا۔ وزیروں اور مشیروں نے ان کی گردنوں پر تھپڑ مارے، ان کے چہروں پر طمانچے رسید کیے، انہیں ان کی جوانی کی غربت اور خاندانی پسماندگی کا طعنہ دیا۔

پھر معافی مانگنا تو دور کی بات الٹا ان کے خلاف ٹویٹ کیے اور ٹرینڈ چلوائے مگر مجال ہے جو ان کے پائے استقلال میں لغزش آئی ہو۔ نہ زبان سے کوئی دلخراش آہ نکلی، نہ دل میں کوئی زود اثر کھلبلی مچی۔ پھر تیسرے دن انہی کی جھولی میں جا بیٹھے البتہ ایک فقیر منش کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اس کی تمام تر معافیوں، صفائیوں اور معذرتوں کے باوجود اسے قولاً اور "کالماً” یہ بتانا ضروری سمجھا کہ امام ابو حنیفہؒ اور امام جعفر صادقؒ حکمرانوں سے کس قدر مستغنی اور کنارہ کش رہتے تھے۔

ان کی حیا داری کا یہ عالم ہے کہ پہلے مہینہ بھر قندیل بلوچ کے اسکینڈل ہر خبر نامے میں جلی عنوانات اور اور تصویروں کے ساتھ دکھاتے ہیں، پھر جب بالآخر تنگ آکر اس کے اہلِ خانہ نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں اور اسے جان سے ماردیتے ہیں تو یہی بقراط و سقراط تحفظ حقوقِ نسواں کا پرچم لے کر سڑکوں اور اسکرینوں پر نکل آتے ہیں۔ خود عورت کے تقدس کا بپتسمہ یوں کراتے ہیں کہ ایک روپے کی چیونگم بیچنے کے لیے بھی کم از کم اسے دو منٹ تک نچواتے ہیں اور پھر دن میں پچاس سے زائد مرتبہ اسے نشر کرتے ہیں۔ بے پردگی کو تو یہ لوگ اس لیے بے حیائی نہیں سمجھتے کہ ان کا پورا دھندا ہی اسی کولہو کے گرد گھومتا ہے۔ جن کی کل دینی میراث غامدی صاحب کی وہ تاویلات ہوں جنہوں نے بقول اقبالؒ قرآن کے صریح اور واضح احکام کو پاژند بنا کر کر رکھ دیا ہے، ان سے اس موضوع پر بات کرنا ویسے ہی بے کار ہے۔

ان کا دعوی یہ ہے کہ ہم جمہور کے ترجمان اور معاشرے کے عکاس ہیں۔ جبکہ حال یہ ہے کہ ایک ایسا معاشرہ جہاں نوے فی صد عورتیں گھروں میں بھی اپنے سروں سے دوپٹے کو ڈھلکنے نہیں دیتیں وہاں چلنے والے میڈیا چینلز میں خبرناموں، پروگراموں، ڈراموں اور اشتہاروں میں بھولے سے بھی کسی دوپٹے والی عورت کی عکاسی نہیں کی جاتی۔ اس ملک میں ایک بھی گھرانہ ایسا نہیں ہو گا جہاں نوجوان دوشیزہ غسل خانے سے نکل کر اپنی برہنہ پنڈلی پر ہاتھ پھیرتی ہوئی اپنی استعمال کردہ بال صفا کریم کا تعارف کرا رہی ہو۔

مگر معاشرے کے آئینہ ہونے کے یہ دعویدار اپنے فریبی شیشوں سے یہ عکس آپ کو دن میں بیسیوں مرتبہ دکھاتے ہیں۔ یہاں تو قومی اخبار کے معروف کالم نگار کی عفت مآبی کا یہ عالم ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر خبر نشر فرما رہے ہیں : ”فلاں ہیروئن نے زندگی میں پہلی مرتبہ فحش فلم کب دیکھی؟“ پھر اپنے کالموں میں سوالات کرتے ہیں کہ ہم کب تک مسجد میں گھس کر مغربی دنیا کا انتظار کرتے رہیں گے کہ وہ ویکسین تیار کرے اور ہمیں کورونا سے نجات دلائے۔ جی ہاں صاحب! جس ”شیر دلی“ اور ”مردانہ“ دلیری کے ساتھ آپ ویکسین سازی کی مہم میں برسرِ پیکار ہیں کم از کم اس سے تو مسجد نشینی ہی بہتر ہے۔

اشتیاق احمد کی رحلت کے موقع پر ائر پورٹ انتظامیہ کی غفلت کی خود ساختہ کہانی سے بورس جانسن کی وفات کی خبر تک ان کی انفرادی اور اجتماعی دروغ گوئیوں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ شیطان کی آنت کیا شے ہے۔ ان ساری پیشن گوئیوں اور قیاس آرائیوں کو تو فی الحال ایک طرف رکھیے جو کمال اعتماد اور وثوق کے ساتھ یہ لوگ برس ہا برس سے اپنے کالموں، پروگراموں اور تجزیوں میں حکومتوں کے عروج و زوال اور سیاسی آمد و رفت کے متعلق کر رہے ہیں اور ان میں سے ایک بھی سچی نہیں ہو رہی۔

باقی رہی قوم کی اخلاقی حالت تو یہ ان کھیتوں سے پوچھیے جہاں سے دو دو معصوم بھائیوں کے لاشے اٹھتے ہیں۔ ان کلیوں سے پوچھیے جن کے چٹکنے سے پہلے ہی شہوت پرست درندے انہیں مسل دیتے ہیں۔ ضمیر کے تاریک زاویوں، اندرونِ شہر کے محلوں، بند حویلیوں اور بے چھت چار دیواریوں سے پوچھیے جہاں جنسی درندگی کا عفریت برہنہ ناچ رہا ہے۔

کیا کہا؟ سب لوگ تو ایک جیسے نہیں ہوتے۔ بالکل بجا بات ہے سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں اور جب ”ساری قوم“ اور ”سارا میڈیا“ جیسے لفظ بولے جاتے ہیں تو سب کی کردار کشی مقصود نہیں ہوتی بلکہ ایک مخصوص طبقے کی حالتِ زار بیان کی جا رہی ہوتی ہے۔ جو عام طور پر ”چور کی داڑھی میں تنکا“ کا شور سن کر فوراً اپنی داڑھی کھجانے لگتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words