یہ ملک ٹیلنٹ کا قبرستان ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عرصے سے ایک سوال ذہن میں گھومتا تھا۔ کہ ہم آخر سائنس اور آرٹ کے میدان میں دنیا کا مقابلہ کیوں نہیں کر پا رہے۔ ہمارے ہاں نا کوئی نئی دریافت ہوتی ہے نا کوئی شاہکار پینٹنگ بنتی ہے نا کوئی اچھا فلم، ڈرامہ بن رہا ہے نا کوئی اچھی کتاب لکھی جاتی ہے۔ ان ساری چیزوں پر مغرب کا قبضہ ہے۔ اور تو اور اپنا برادر ملک ترکی اور ایران ہم سے اس معاملے میں کافی آگے ہیں۔ ترکی ادبی دنیا میں کافی اچھی اور مشہور کتابیں دے چکا ہے۔

ڈرامے کی صنف میں بھی ترکی اچھی شہرت رکھتا ہے۔ ایران فلم سازی میں کافی اچھی شہرت رکھتا ہے۔ بھارت فلم سازی میں ہم سے دس گنا آگے ہے۔ میڈیکل کی دنیا میں بھی بھارت ہم سے کافی آگے نکل گیا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں تو پاکستان کا دور دور تک کوئی نام اور نشان نہیں ہے۔ عرصہ ہوا ہم کوئی ایسا میوزک نہیں بنا سکے جوپاکستان سے باہرہمیں شہرت دلوا سکے۔ ایک عرصے سے ہم کھیلوں کے میدان میں تنزلی کی طرف جا رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے۔

اس سوال کا جواب ابھی کچھ دن پہلے مِل گیا ہے۔ اوریہ جواب قارین تک پہنچانے کے لیے ایک اور سوال کی ضرورت ہے۔ اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں کبھی ایسا وقت آئے گا کہ ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی یا ہمیشہ ہی ہر فیلڈ میں ایک مافیا بنا رہے گا جو اپنے سامنے اٹھنے والے نئے ٹیلنٹ اور نئے کوگوں کو پیچھے دھکیلتا رہے گا۔ اس ملک میں ہر جگہ پر ہر قسم کا ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے۔ چاہے وہ کھیل کے میدان ہوں، علوم و فنون کی بات ہو، سائنس کی بات ہو یا کوئی بھی۔ کسی نئے آنے والے کو قطعی موقع نہیں دیا جاتا۔ بلکہ ان کو آگے آنے ہی نہیں دیا جاتا۔

یہ بات اپنے ایک حالیہ تجربے سے کہہ رہی ہوں۔ میری ایک دوست ہے۔ ڈاکٹر ہے اور میرے ساتھ ہی گریجویشن کی ہے اور میرے ساتھ ہی جاب بھی کرتی ہے۔ کہانیاں لکھنا اس کا شوق ہے۔ پرانے اخباروں کا ایک بنڈل جمع کیا ہوا ہے جس میں اس کی بچپن کی تحریریں ”بچوں کا صفحہ“ میں شائع ہو چکی ہیں۔ بڑے ہو کرمیڈیکل کی مشکل پڑھائی کے ساتھ بھی اس نے اپنے شوق کو جاری رکھا۔ مختلف میگزینز میں وقتاً فوقتاً اس کی تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں۔ اس عرصے میں امن و امان کے موضوع پر اپنا ایک ناول بھی پبلش کرانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔

اس نے اپنے شوق کو جاری رکھا اور مزید بھی لکھنے کی کوشش کی۔ دو ڈرامے لکھ چکی ہے جن کی کہانیاں اپنی نوعیت کے حوالے سے کافی اچھی اور مختلف ہے۔ لکھنے لکھانے سے منسلک جس بھی شخص نے ان کو پڑھا داد ضرور دی۔ لیکن مسئلہ وہی آگیا کہ ہم نے جس بھی چینل کو بھیجی یا کسی سے بات کی وہ یہی کہتے ہیں کہ یہاں نئے لکھاری کے لیے جگہ بنانا تقریباً ناممکن ہے اور اگر یہ ممکن ہے بھی تو اس کے لیے آپ کے پاس پہلے سے میڈیا کاکوئی بڑا ریفرنس ہونا چاہیے۔ ورنہ تو چینل صرف اپنے رائٹر پینل کے ڈرامے ہی چلاتا ہے اور ہر چینل کے پینل میں جو لوگ ہوتے ہیں وہ کسی نئے لکھاری کی کہانیوں کی منظوری نہیں دیتے۔ اگر ہ نئے لوگوں کو آنے دیں گے تو ان کی اپنی ذات کے لیے مشکل پیدا ہو جائے گی۔

پاکستانی ڈرامے اور فلم کے ایک قاری ہونے کی حیثیت سے ایک بات تو میں نے نوٹ کی ہے کہ آج کل چینلز پر جو ڈرامے چل رہے ہیں زیادہ تر منفی کہانیاں ہیں۔ کہیں پر بھی مثبت سوچ نظر نہیں آتی۔ دوسری بات یہ کہ زیادہ تر ڈرامے بے مقصد کہانیوں پر مشتمل ہوتے ہیں جن کو لکھنے کا مقصد پیسہ کمانے کے علاوہ کچھ سمجھ نہیں آتا۔ حال ہی میں چند ایسے فلاپ ڈرامے اور فلمیں آن ائیر ہو چکے ہیں جن کو دیکھنے والے کو صاف پتا چلتا ہے کہ یہ سکرپٹ میرٹ پر نہیں چلا ہے۔

چالیس قسطیں چلانے کے بعد بھی نا رائٹر کو پتا ہے کہ اب کہانی کو آگے کیسے لے کر جایا جائے اور ختم کیسے کیا جائے اور نا ڈائریکٹر کو معلوم ہے کہ آگے کیا بنانا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بیسویں قسط کے بعد قاری ڈرامہ دیکھنا بند کر دیتا یے۔ پتا نہیں چینلز کو سمجھ کیوں نہیں آرہی کہ اب ہم ساس بہو کے ان بے تکے ڈراموں سے تھک چکے ہیں۔ ہمیں اب ڈراموں میں روتی دھوتی مظلوم عورت نہں چاہیے۔ ہمیں نئی سوچ کے ڈرامے اور فلمیں چاہئیں۔ اس معاشرے میں عورت مرد کی محبت کے علاوہ بھی کچھ موجود ہے جس پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ تب تک ممکن نہیں ہے جب تک رائٹرز کی دنیا میں نئے لوگ اور نئے آئیڈیاز نہیں آئیں گے اور نئے لوگ تب آسکیں گے جب چینلز نئے لوگوں کو آنے دیں گے۔

میری دوست دو سکرپٹس لکھ کر ابھی چھوڑ چکی ہے۔ اس کے مطابق اگر آگے کچھ ہونا ہی نہیں ہے تو اپنی توانائی ضائع کرنے کا فائدہ کیا ہے۔ اور مجھے یہ دیکھ کر کافی افسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک ٹیلنٹ ہے جو ضائع ہو رہا ہے۔ وہ صرف اپنے ٹیلنٹ اور شوق سے لکھتی ہے۔ جو لکھتی ہے وہ اللہ کی طرف سے عنایت کیے گئے ٹیلنٹ سے لکھتی ہے۔ اور بہت اچھا لکھتی ہے۔ لیکن مشکل وہی ہے کہ اس کے پاس ایسا کوئی ریفرنس نہیں ہے جو ایک فون کال کروا کر چینلزکے پینل سے اپنا سکرپٹ منظور کروا سکے۔

لکھنا اس کے لیے کمانے کا ذریعہ نہیں ہے نا ہی وہ کمائی کے لیے لکھتی ہے۔ کمانے کے لیے اس کے پاس ایک اچھی جاب ہے۔ جو بھی لکھتی ہے صرف اپنے شوق کو پورا کرنے کے لیے لکھتی ہے۔ اور جب تک ہمارے معاشرے میں شوقین افراد کو آگے نہیں آنے دیا جائے گا اورفنون ِلطیفہ کی ساری شاخیں ایسے لوگوں کے قبضے میں رہیں گی جن کو یہ ڈر ہو گا کہ اگر نوجوان لوگ آگے آ گئے تو ان کا دانہ پانی بند ہو جائے گا تب تک ہم نا تو کوئی اچھی پینٹنگ بنا سکتے ہیں نا کوئی اچھی فلم نا کوئی اچھی کتاب اور نا کوئی اچھا ڈرامہ اور نا ہی کھیل کے میدانوں میں کوئی کامیابی ممکن ہے۔

یہ تب ممکن ہے جب نئے لوگ، نیا خون اور نئے خیالات سامنے آئیں گے۔ لیکن فی الحال تو ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ میری دوست کی طرح کے شوقین لوگ جب مایوس ہو کر بیٹھ جائیں گے تو آرٹ کی دنیامیں آگے جانا بہت مشکل ہو جائے گا۔ کیونکہ یہ تو دنیا کا اصول ہے کہ فنون کی دنیا میں اچھی چیز تب بنتی ہے جو کوئی بغیر کسی لالچ کے اپنے شوق سے بنائے۔ اور شوقین افراد کو اگر ہم اسی طرح پیچھے دھکیلتے رہے توہمیں ہر چیز کے لیے اسی طرح مغرب کی طرف دیکھنا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *