جھاڑو دینے والی لڑکی معاشرے کے لئے مثال بن گئی


کچھ دن قبل وہاڑی کی ایک ایم اے پاس لڑکی کی جھاڑو دیتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ملک بھر کے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی توجہ بھی اس پڑھی لکھی مجبور لڑکی کی زندگی کی جانب ہوگئی جو اپنی بوڑھی ماں اور چھوٹی بہنوں کا پیٹ پالنے کے لئے جھاڑو لگانے کو بھی تیار ہوگئی۔ یہ خبریں جب وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے سامنے سے گزریں تو انھوں نے پارس طالب کے لئے وہاڑی میں سرکاری ملازمت کا انتظام کرنے کی ہدایت کی جس پر پارس کوڈویژنل پبلک سکول وہاڑی میں آفس جاب کے لئے تقررنامہ جاری کردیا گیاہے۔

اپنی ملازمت کا لیٹر لیتے ہوئے پارس طالب اور اس کی بوڑھی ماں کی آنکھوں میں آنسو اور دل میں عثمان بزدار کے لئے دعائیں تھیں۔ جس منزل کو پانے کے لئے اس نے دن رات محنت کر کے تعلیم حاصل کی تھی وہ اسے مل چکی تھی۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ پارس جیسی ہونہار بیٹیاں قوم کا روشن مستقبل ہیں۔ اس بیٹی کے ہاتھ میں جھاڑو دیکھ کر دل خون کے آنسو رویا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ایسا نظام وضع کررہے ہیں جہاں پارس جیسی تعلیم یافتہ بیٹیاں عزت سے روزی کما سکیں۔

پارس طالب کی زندگی موجودہ دور کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے ایک بڑی مثال ہے۔ پنجاب کے جنوبی ضلع وہاڑی میں پارس طالب حسین نے غربت کے باوجود دن میں محنت مزدوری اور رات میں پڑھائی کر کے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات فرسٹ ڈویڑن میں پاس کیا۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اسے جب سرکاری یا پرائیویٹ ملازمت نہ ملی تو وہ وہاڑی کی غلہ منڈی میں جھاڑو لگا کر گندم، چاول صاف کر کے محنت مزدوری کرنے لگی۔ دن بھر کی محنت مزدوری کے عوض اسے سو روپے دیہاڑی ملنے لگی جس سے وہ اپنی بوڑھی ماں اور چھوٹی بہنوں کاپیٹ پالنے لگی۔

پارس طالب کا نوکری ملنے سے پہلے یہ کہنا تھا کہ اس نے بہترمستقبل کا خواب دل میں سجائے شوق سے تعلیم حاصل کی لیکن تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی جب اسے نوکری نہ ملی تو اس نے ہمت نہ ہاری اور نہ ہی دل میں مایوسی پیدا ہونے دی بلکہ پارس نے اپنی بوڑھی ماں اور چھوٹی بہنوں کا سہارا بنتے ہوئے ان پڑھ خواتین کی طرح محنت مزدوری حتیٰ کہ جھاڑو دینا شروع کردیا تاکہ اپنا اور گھر والوں کا پیٹ پال سکے۔ ایم اے پاس بے روزگارنوجوانوں کو ریڑھیاں لگاتے تو سنا تھا لیکن جھاڑو لگاتے اور وہ بھی ایم اے اسلامیات فرسٹ ڈویژن میں پاس کسی خاتون کا سڑکوں پر یوں جھاڑو لگانا یقیناً ہمارے معاشرے لے لئے ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔

پارس طالب نے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود نوکری نہ ملنے پر ہمت نہیں ہاری اور نہ ہی زندگی گزارنے کے لئے کوئی غیر اخلاقی، غیر اسلامی یا غلط راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ مردانہ وار زندگی کی مشکلات کا مقابلہ کیا۔ آج بہت سے پڑھے لکھے نوجوان محنت مزداری سے اس لئے بھاگتے ہیں کہ وہ تعلیم یافتہ ہیں، شایدوہ یہ خیال کرتے ہیں کہ محنت مزدوری کرنا صر ف غریب اور ان پڑھ لوگوں کا کام ہے۔ ایسی سوچ کے حامل افرادکے لئے پارس طالب ایک نئی سوچ، نئی ہمت اور جذبے کا نام ہے۔

پارس طالب کبھی زندگی سے مایوس نہیں ہوئی، غلہ منڈی کے لوگ اس کی تعلیم اور محنت کی وجہ سے اس کی بہت عزت کرتے ہیں اس کے باوجود پارس نے کبھی بھی کسی سے ہمدردی لی خواہش نہیں کہ بلکہ جو محنت سے کماتی اسی میں گزارہ کرلیتی۔ پارس کو اس بات کا یقین تھا کہ ایک دن اس کی محنت کا ثمر ضرور ملے گا۔ وہ کہتی تھی کہ کڑا وقت بڑے بڑوں پر آتا ہے لیکن اسے اللہ کی رضا سمجھ کر برادشت کر رہی ہوں۔ اس کے صبر، یقین، محنت اور سب سے بڑھ کر ماں کی دعاؤں نے اس کو اس مقام پر کھڑا کردیا جس کی وہ حقدار تھی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جہاں اس غریب محنت کش پڑھی لکی خاتون کو اس کا حق دلواکر نہ صرف لوگوں کے دل جیت لئے ہیں بلکہ ان گنت دعائیں بھی سمیٹ رہے ہیں۔ پارس طالب کی طرح ہزاروں ایسی پڑھی لکھی خواتین جو محنت مزداری کرنے پر مجبور ہیں، انھیں اس بات کی امید ہوگئی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ان کے لئے بھی ضرور ایسے اقدامات کریں گے۔ نجی و پرائیویٹ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ معاشرے کی اس دلخراش حقیقیت سے منہ نہ موڑیں اور اپنا موثرکردار ادا کریں تاکہ دوبارہ سوشل میڈیا پر ایسی درد بھر ی کہانی دیکھنے کو نہ ملے۔

Facebook Comments HS