اگر تم بے حیا نہ ہوتیں


عاقل و دانا اور فاضل عالم کے بیان اور اربابِ اختیار کی خاموش گواہی کے بعد احقر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ آج وطنِ عزیز میں اہلِ وطن جس زبوں حالی اور عذابِ مسلسل کا شکار ہیں اس کا سبب لڑکیوں کی بے حیائی ہے۔

یہ بے حیا لڑکیاں سمجھتی نہیں ہیں کہ اگر ان کے ہاتھ کا ناخن بھی کسی مرد کو نظر آ جائے تو اس کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ کچھ تو بے حیا ہونے کے ساتھ ساتھ بے شرم بھی ہوتی ہیں کیسے سینہ تان کر کہتی ہیں کہ ہمیں انسان نہیں سمجھا جاتا، ہمارے بھی جذبات ہیں اور ہم بھی سب کچھ کر سکتی ہیں۔ اب بندہ کیا ان دو ٹکے کی لڑکیوں کے منہ لگے۔ سیدھی سی بات ہے لڑکی تو لڑکی ہوتی ہے اتنی سی بات ان کو سمجھ نہیں آتی، خیر ایسی لڑکیوں کے زنانہ حملوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے مشہور مصنف قلیل خمری صاحب نے ایسا منہ توڑ جواب دیا تھا کہ یاد رکھیں گی۔ ان کا منہ بند کروانے کے لئے ہی گالیوں میں بھی عورت کا ذکر ضروری ہے۔

ان لڑکیوں کی بے حیائی کی وجہ سے کتنی بار سیلاب آئے، زلزلے آئے، ٹرینیں پٹری سے اتر گئیں اور وبائیں پھوٹ پڑیں۔ ایک کے بعد ایک آفت ہمارا گھیراؤ کرتی رہی۔ اس لئے پاکیزہ حوروں کی محبت میں تڑپتا ہوا دل چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ اے لڑکیو! اگر تم بے حیا نہ ہوتیں تو آج ہم اس طرح منہ چھپا کر نہ گھروں میں قید ہوتے۔ وبا کا نام و نشان تک نہ ہوتا۔ گھر سے باہر نکلتے اور بے حیا لڑکیوں کو محض سبق سکھانے کے لئے گھورتے، موقع ملنے پر ہراساں کرتے لیکن صرف اس لیے کہ وہ ڈریں اور گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ تو فائدہ کس کا ہوا، تمہارا۔

اگر تم بے حیا نہ ہوتیں تو چھوٹی چھوٹی معصوم بچیاں ریپ اور قتل ہونے سے بچ جاتیں۔ مدرسوں کے بچے بھی درندگی کا شکار نہ ہوتے، حتیٰ کہ اندھی ڈولفن بھی ریپ سے بچ جاتی، نہیں نہیں تمہیں منہ کھولنے کی ضرورت نہیں، سنو تم اس کی ذمہ دار ایسے ہو کہ تمہاری بے حیائی کی وجہ سے بھولے بھالے مرد خود پر کنٹرول نہیں رکھ پاتے۔ اگر کوئی چار سال کی بچی زیادتی کا شکار ہوتی ہے تو اس میں اگر اس بچی کی بے حیائی نہ ہو تو اس کی ماں، خالہ، کزن وغیرہ کی بے حیائی وجہ بنتی ہے ورنہ بے چارے مرد اصل میں بہت نیک اور صالح ہوتے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ مرد تو بڑی پیاری چیز ہے۔

اگر تم بے حیا نہ ہوتیں تو صالح نوجوان کسی لڑکی کو محبت کے جال میں پھنسا کر اس کی عزت کو تار تار نہ کرتے۔ ایک باحیا لڑکی تو عشق وغیرہ کے چکر میں پڑتی ہی نہیں، اس کی زندگی کا تو ایک ہی نصب العین ہوتا ہے کہ قربانی کی عظیم ترین مثال بن کر دیگر باحیا لڑکیوں کے لئے مشعلِ راہ بنے چناں چہ وہ کبھی دو خاندانوں کی دشمنی مٹانے کے لئے خود کو پیش کرتی ہے تو کبھی اپنے باپ کی جائیداد کو تقسیم کے مکروہ عمل سے بچانے کے لئے مقدس کتاب کے سائے میں ساری زندگی گزار دیتی ہیں مگر باپ کے گھر کی چوکھٹ نہیں چھوڑتیں۔

با حیا لڑکیاں اپنے سے ستر سال بڑے مرد سے شادی کرنے کے لئے خوشی خوشی راضی ہو جاتی ہیں۔ میرا جسم میری مرضی جیسے غلیظ نعرے نہیں لگاتیں۔

اگر تم با حیا ہوتیں تو ہمارے سارے مسئلے ہی حل ہو جاتے، آج ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا نہ ہوتا، کرپشن کا نشان تک مٹ گیا ہوتا، دودھ خالص ملتا، سرخ مرچوں کی جگہ برادہ نہ کھانا پڑتا، مرتے ہوئے مریضوں کو اصلی دوا ملتی، رمضان کی آمد پر چیزوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ نہ ہوتا، بجلی کی تاروں پر کنڈے نہ ڈالے جاتے، ٹیکس چوری نہ ہوتا، ناجائز قبضے نہ ہوتے، جعلی پولیس مقابلوں کا تصور تک نہ ہوتا، سفارش کی بنیاد پر ٹھیکے نہ ملتے، جعلی ڈگریاں جاری نہ ہوتیں، دو نمبر مال نہ بیچا جاتا، اہل وطن کو طبی سہولتیں میسر ہوتیں، بیروزگاری کا خاتمہ ہو جاتا، غربت کے مارے ہوئے لوگ خودکشیاں نہ کرتے، مگر افسوس صد افسوس کہ تمہاری بے حیائی سب کچھ بگاڑ دیا۔
اب ہمارے پاس یہی آپشن بچا ہے کہ تمہیں لعنت ملامت کریں اور گڑگڑا کر دعا مانگیں کہ تم بے حیائی سے باز آ جاؤ۔ سو ہاتھ اٹھائیں اور دعا کریں۔

Facebook Comments HS