سائنس کی شعریات


Ein Stein and Bergson

دوسری طرف بے جواز تعصبات وہ ہیں جہاں بظاہر یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ سمجھوتے کی راہیں ناممکن ہیں اور کسی بھی صورت استبداد کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اس صورت میں ایک طرف تو سائنسی علمی مناہج مذہبی سماجیات میں آکر کئی الہامی و تہذیبی دعووں کو چیلنج کرتے ہیں جن سے دونوں جانب ایسے رویوں کو بڑھاوا ملتا ہے جو اپنی اصل میں بے جواز تعصبات پر مبنی ہوتے ہیں، کیوں کہ اپنے اپنے مناہج کے اندر رہتے ہوئے بھی ایسے تنقیدی رویے باآسانی تلاشکیے جا سکتے ہیں جو خود اسی منہج کے اندر سے برآمد ہونے والے اصول و ضوابط پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔

یعنی رائج سائنسی علمیات پر فلسفۂ سائنس کی متنوع روایتیں اور مذہبی روایت پسند علمیات پر تجدد پسند مذہبی روایتیں اس قسم کی تنقیدیں فراہم کرتی ہیں۔ اس صورت میں اگر ایک طرف روایتی مذہبی علمیات کو چیلنج کیا جا رہا ہوتا ہے تو دوسری طرف روایتی سائنسی علمیات بھی تنقید سے محفوظ نہیں ہوتیں۔ اس صورت میں یہ عام دیکھا گیا ہے کہ روایتی سائنسی منہج تو مذہبیات پر تنقید کے لئے کچھ خاص محتاج نہیں ہوتا کیوں ایک عمومی مادہ پرستی اور منطقی یا نیم منطقی اثباتیت ہی اس کے لئے کافی ہوتی ہے، لیکن روایتی مذہبی نقاد اور متکلمین عام طور سائنس پر ہوئی مابعد الجدید تنقیدوں کو ایک مخصوص چنیدہ انتخابیت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں ان کا دعوی یہی ہوتا ہے کہ سائنسی ضوابط اور طریقہ ہائے کار تو خود فلاسفہ ٔ سائنس کے ہاں ہی مشکوک ہیں حالانکہ عموماً ان نقادوں کا ان سائنسی ضوابط سے دور پار کا بھی عملی و نظری تعلق نہیں ہوتا۔ یہ سہل پسندی ان کی مجبوری سے جنم لیتی ہے اور اس لئے بے چارگی کی علامت ہے کہ جہاں متشدد اور نیم متشدد بلکہ ہمدرد سائنسی تنقیدیں تک سماج میں مذہبی علمیات کے ڈھانچے کو شدید متاثر کرتی ہیں وہاں مذہبی متکلمین کے حلقوں سے برآمد ہوتی تنقیدیں ایک مخصوص نفسیاتی تسکین کے علاوہ کسی قسم کا کوئی عملی اضطراب پیدا نہیں کرتیں بلکہ باہمی تضحیک و تحقیر کی آگ مزید بھڑکاتی ہیں۔ اس کے برعکس خود فلسفۂ سائنس سے برآمد ہوتی تنقیدیں خواہ ان کی جہت کچھ بھی ہو براہِ راست سائنسی علمیات کے حلقوں میں شدید اضطراب کا باعث بنتے ہوئے ان نادر بحثوں کا آغاز کرتی ہیں جن سے دائرۂ سائنس میں نئے عملی اصول و ضوابط مرتب ہوتے ہیں اور یوں عمومی طور پر ایک مثبت علمی سفر جاری رہتا ہے۔

یہ تسلیم کر لینے میں کوئی حرج نہیں کہ باجواز اور بے جواز دونوں قسم کے تعصبات بہرحال انسانی مزاج کا حصہ ہیں اور حتی الامکان ہمارے محبوب ترین اعتقادات بھی ہمارے ذہنی میلانات، روش ِ استدلال اور متنوع ذاتی تجربات کا ایک پیچیدہ مرکب ہوتے ہیں۔ اگر ہمارے سماج میں اس خطِ تقسیم کے دونوں اطراف کا ایک مفصل جائزہ درکار ہو تو پروفیسر ہود بھائی صاحب کی کتاب ”مسلمان اور سائنس“ (مطبع: مشعل بکس، لاہور) اور محمد ظفر اقبال صاحب کی کتاب ”اسلام اور جدید سائنس نئے تناظر میں“ (مطبع: مکتبہ نوادرات، ساہیوال) کے پہلے پانچ ابواب کا بالموازنہ مطالعہ یقیناً کئی اعتبار سے چشم کشا ہو گا۔

Epstein with Genesis

یہاں ہرگز یہ موازنہ یا مذکورہ بالا کتب پر تنقید و تبصرہ نہیں بلکہ صرف اس مشاہدے کی دعوت دینا مقصود ہے کہ یہ باجواز اور بے جواز تعصبات کس قسم کے ہیں اور ان سے کس حد تک اوپر اٹھنا ممکن ہے۔ جہاں ہود بھائی ہمیں ایک عملی سائنسدان کے زاویۂ نظر سے یہ دعوی کرتے نظر آتے ہیں کہ سائنس کو ہر قسم کی مابعدالطبیعاتی، مذہبی اور نیم مذہبی آلودگیوں سے آزاد کرنا ترقی و خوشحالی کی ضمانت اور عقل پرستی کا تقاضا ہے، وہاں ظفر اقبال کی کتاب ایک مذہبی مناظر کا نکتۂ نظر قائم کرتے ہوئے، چند مخصوص فلاسفۂ سائنس کے من پسند اقتباسات کی مدد سے یہ ثابت کر تی نظر آتی ہے کہ سائنس معروضی علم ہی نہیں اور حقیقتِ زمان و مکاں تک اس کی رسائی کے تمام دعوے اٹکل پچو ہیں۔

جو بھی کم از کم اپنے بے جواز تعصبات سے بالاتر ہو کر یہ موازنہ کرے گا، وہ یقیناً ہماری اس رائے سے خود کو متفق پائے گا کہ یہ اب بالعموم مسلم سماج اور بالخصوص ہمارے مسلم سماج میں معقولات بمقابلہ منقولات کی بحث نہیں، بلکہ دو ایسے علمیاتی مناہج کا مجادلہ ہے جو بہرحال اپنے اپنے منقولات سے ہی سند لیتے ہیں۔ اگر فی زمانہ ہمارے ہاں مذہبی فکر کی حالت ابتر ہے تو سائنس یا فلسفۂ سائنس کی ذیل میں تو خیر ہم تاریخِ قریب کیا تاریخِ بعید میں بھی کوئی بہت زیادہ قابلِ فخر نام پیش نہیں کر سکتے۔

ایسے میں سائنسی مبلغین کی جانب سے اس ابتر حالت کا سارا ملبہ چند چنیدہ ناموں مثلاً غزالی وغیرہ پر ڈال کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ مسلم فکر بالعموم تعقلی روایت کے خلاف کھڑی رہی ہے اگر صریحاً غلط نہیں تو کم از کم محلِ نظر ضرور ہے۔ لیکن اگر بالفرض اس دعوے سے اتفاق بھی کر لیا جائے تو یہ سوال تو پھر بھی اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے؟

جہاں تک روایتی مذہبی فکر کی بات ہے توبدقسمتی سے اس کا عمومی دھارا کسی نہ کسی حد تک فکری استبداد ہی کا متمنی نظر آتا ہے۔ اس استبداد کی شکلیں متنوع ہو سکتی ہیں، مثلاً کسی مذہبی ریاست کے ذریعے سائنسی علمیات کے تعقلی اور نیم تعقلی مفرضوں کو مذہبی تعبیرات کی چھلنی سے گزارنا، تعلیمی نصاب سے ایسے سائنسی نظریات کو دور رکھنا جن سے مخصوص روایتی مذہبی تعبیرات و مسلمات پر حرف آتا ہو اور سماجی تشکیل کے لئے رائے عامہ کی ہمواری کے دوران ان طبقات کو استبدادی رویوں سے بحث سے باہر رکھنے کی کوشش کرنا جو عقلیت پسندی، تجربیت پسندی اور مذہبی تجدد کے ذہنی میلانات رکھتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

دوسری طرف سائنسی فکر گو اس قسم کے صریح استبدادی رویے تو پیش نہیں کرتی لیکن وہاں بھی ایک ایسا نیم استبدادی رجحان ضرور نظر آتا ہے جہاں مذہبی فکر کو لازمی طور پر عقلیت پسندی اور استدلال کی تعقلی روایت کے خلاف باور کرایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کے مادیت پسند طبقات کا تاریخ ِ فکر کے بارے میں عمومی مفروضہ یہی ہے کہ قرونِ وسطی سے سائنس اپنی تمام قدیم و جدید شکلوں میں تعقل پسند روایت کی امین رہی ہے اور مذہب کی کلسیائی روایت نے اس پر مختلف طریقوں سے استبدادی حربے آزمائے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

عاصم بخشی

عاصم بخشی انجینئرنگ کی تعلیم و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ ادبی تراجم اور کتب بینی ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔

aasembakhshi has 80 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

One thought on “سائنس کی شعریات

  • 07/11/2016 at 9:12 صبح
    Permalink

    ڈاکٹر عبدالسلام کا المیہ یہ یے کہ وہ کلی حقیقت کے ادراک سے محروم رہے۔مذہب کے معاملے میں وہ اندھی تقلید کے حامل تھے اور اپنے اعتقاد کو عقلی معیار پر پرکھنا تو ایک طرف اسے سادہ سے نقلی معیار پر پرکھنے سے محروم رہے۔

Comments are closed.