سائنس کی شعریات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے مضمون میں علم کی دوئی اور ایک مشترکہ منطق کی تلاش کے بارے میں اپنی رجائیت پسندی سے متعلق جو طالبعلمانہ دعوی قارئین کے ذوقِ تنقید کی نذر کیا تھا اس کی بنیادوں میں یہ احساس اور مشاہدہ کارفرما تھا کہ تعقلی اور نیم تعقلی رویوں کی دوئی جو زمانۂ قدیم ہی سے انسانی مزاج کا حصہ رہی ہے جدید دور تک پہنچتے پہنچتے کچھ ایسی شدت اختیار کر چکی ہے جس کی اولین بازگشت بہت سے انیسویں اور بیسویں صدی کے بہت سے فلسفیوں کے ہاں سنی جا سکتی ہے۔

نمونے کے طور پر نطشے کی کتاب ’المیے کی پیدائش‘ کا وہ اقتباس تھا جس میں نطشے ایک موسیقار سقراط کی تلاش کے بارے میں سوال اٹھاتا اور آرٹ، سائنس اور مذہب کی باہمی جنگوں کے مستقبل کی جانب کچھ مبہم اشارے کرتا ہے۔ یہ کچھ ایسے واضح اشارے ہیں جن کا مشاہدہ ہماری موجود گلوبل ثقافت پر نظر رکھنے والا اہل علم اور کوئی عام انسان یکساں آسانی کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ زمانۂ جدید میں مختلف علمی میدانوں میں تحقیق و تنقید کے نتائج کی عوام تک منتقلی کی رفتار میں ایک ایسا انقلاب رونما ہوا ہے جسے بجا طور پر ہمارے زمانے میں ثقافت کی اہم ترین جہت کہا جا سکتا ہے۔

بہت سے مثبت فوائد جن میں سب سے اہم ایجادِ علم اور تحقیق و تنقید کی سرحدوں سے قطع نظر انسانیت کی ایک مشترکہ میراث کے طورپر قبولیت ہے، وہیں اس منظرنامے نے کچھ منفی رجحانات کو بھی جنم دیا ہے۔ ہماری رائے میں ان منفی رجحانات میں سے دو اہم ترین ہیں جن میں اول، مختلف علمی مناہج کا شدید باہمی ٹکراؤ اور دوم، مختلف قسم کے تعصبات کے ہاتھوں ایک ایسی فکری جنگ جس سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہونے کی امید پیدا نہیں ہو سکتی۔

چونکہ اس مسئلے کا بنیادی تناظر ثقافت اور علمیات کے دو ستونوں پر استوار ہے لہٰذا تجزیہ اس وقت تک بامعنی نہیں ہو سکتا جب تک اسے اپنے مخصوص سماجی رویوں کے پس منظر میں پیش نہ کیا جائے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ گلوبلائزیشن کے بعد انسانی رویوں کو اٹل سماجی خاکوں تک محدود کرنا اب تقریباً ناممکن ہو چکا ہے لہٰذا یہ مفروضہ بھی بہت زیادہ نامعقول نہیں کہ ہمارے سماجی رویوں کے عکس باآسانی ہمیں ترقی یافتہ اور ہم سے زیادہ ترقی پذیر ممالک میں بھی مل جائیں گے۔

لیکن اس کے باوجود مغرب میں مذہبی تشکیلِ نو، روشن خیالی کی تحریک سے جنم لینے والے علمی و سیاسی مناہج اور بعد ازاں ایشیا اور افریقہ کی کئی اقوام پر نوآبادیاتی تسسل کے نتیجے میں ’ترقی‘ اور ’علم‘ جیسی ناگزیر بنیادی اصطلاحات پر یوروپی اقوام کی ایک خاطر خواہ طویل اجارہ داری کے بعد اب ایک ایسا اتفاقِ رائے پیدا ہو چکا ہے جس کا انکار تو کجا اس پر سوال اٹھانا بھی ایک دیوانے کی بڑ سے زیادہ معلوم نہیں ہوتا۔ یوں ہماری رائے میں بظاہر معلوم ہونے والا یہ علمی مناہج کا ٹکراؤ دراصل خالص علمی مناہج کا ٹکراؤ نہیں بلکہ ایک حقیقی علمی منہج کا کئی تصوراتی اور مبہم علمی مناہج کا ایک ٹکراؤ ہے۔

einstein & tagore

یہاں ایک طرف سائنس ہے جو سرمایہ دارانہ ثقافت میں نہ صرف حقیقت کی دریافت بلکہ حقیقت کی ایک ایسے تشکیل کر رہی ہے جس میں سائنسی علمیت سے برآمد ہونے والے نتائج ایک مجرد تقدیس سے لازمی طور پر منسلک ہیں۔ اس تقدیس کا ظہور بہت منطقی اور معقول بھی ہے کیوں کہ ان نتائج سے ظہور میں آنے والے مظاہر نہ صرف تمام بصارتوں کی دسترس میں ہیں، بلکہ ان کو ایک قدر کے طور پر عوام میں متعارف کروایا جا چکا ہے، جس کے لئے نہ صرف عوامی ادب بلکہ تمام دوسرے ابلاغی وسائل بھی اپنا کام یکسوئی سے جاری رکھے ہیں۔

دوسری طرف مذہبی مبلغین اور متکلمین کا تعلق ایسے مظاہر کی تبلیغ سے نہیں جو تمام بصارتوں کی یکساں دسترس میں ہو بلکہ خالص اخلاقی اور نفسیاتی تجربات سے ہے۔ لیکن اب ان دو دائروں کو بھی سائنس تیزی سے نگل رہی ہے اور یہ عمل کسی کم از کم سطح پر کچھ ایسے سوال پیش کر چکا ہے جن کا جواب تاحال مذہب کے پاس اس طرح موجود نہیں کہ عصرِ حاضر کا ہر انسان اس سے یکساں طور پر معقول ذہنی مناسبت پیدا کر سکے۔ لہٰذا بادی ٔ النظر میں یہ عمومی مذہبی رویہ ایک طرف تو مذہبی منقولات پر اصرار اور دوسری طرف مقابلے میں موجود سائنسی معقولات پر ایک تشکیک آمیز ردعمل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ تجزیہ کچھ بھی ہو، بہرصورت، ہماری رائے میں یہ متعلقہ مسائل کی وہ جہت ہے جہاں دو قدرے مختلف علمی منہج اپنی اپنی قدر اور معنویت پر اٹل یقین رکھتے ہوئے اور ان مناہج کی بنیادوں پر تشکیل پاتے ضوابط پر مکمل حق جتاتے ہوئے باہم نبردآزما ہیں۔

جیسا کہ اوپر عرض کیا دوسرا رجحان خالص علمیت سے جنم لیتی مشکلات نہیں بلکہ کچھ مخصوص تعصبات سے تعلق رکھتا ہے۔ ہماری رائے میں ان تعصبات کی بنیاد علمی بھی ہے اور نفسیاتی بھی۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں یہ تعصبات باجواز بھی ہیں اور بے جواز بھی۔ ہماری رائے میں باجواز تعصبات وہ ہیں جہاں ایک دوسرے کے دائرۂ عمل کو تسلیم کرتے ہوئے ہی کسی بھی مثبت عمرانی تشکیل کی جانب بڑھا جا سکتا ہے، یعنی تفہیم کا عمل جاری رکھتے ہوئے مسلسل اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

اس قسم کے تعصبات نہ صرف مختلف پیش قیاسی مفروضوں بلکہ متوقع نتائج کی پیشین گوئیوں سے بھی منسلک ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بھی بعینہٖ اسی قسم کے سوالوں کا اٹھنا ناگزیر ہے جو تین چار سو سال قبل یوروپی سماج میں جنم لیتی فکری تحریکوں میں اٹھ چکے ہیں اور نہ صرف مغربی تاریخِ فکر بلکہ یوروپی ادب اور آرٹ کا بھی مسلسل موضوع رہے ہیں۔ لہٰذا اہم بات ان سوالات کے جوابات پر اصرار نہیں بلکہ مسلسل تلاش کے اصول پر اتفاق ہے۔

تاریخِ فکر یہی بتاتی ہے کہ کسی بھی علمی منہج کو استبدادی طریقوں سے من پسند دائروں میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مذہب یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اور صنعتی ترقی کی بنیادوں میں موجود سائنسی علمیت پر اخلاقی و فلسفیانہ تناظر میں کچھ سوال اٹھائے تواسی طرح سائنس سے بھی یہ حق سلب کرنا ناممکن ہے کہ وہ مذہب کے من پسند سوالوں سے کامل لاتعلقی ظاہر کردے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 76 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

One thought on “سائنس کی شعریات

  • 07/11/2016 at 9:12 am
    Permalink

    ڈاکٹر عبدالسلام کا المیہ یہ یے کہ وہ کلی حقیقت کے ادراک سے محروم رہے۔مذہب کے معاملے میں وہ اندھی تقلید کے حامل تھے اور اپنے اعتقاد کو عقلی معیار پر پرکھنا تو ایک طرف اسے سادہ سے نقلی معیار پر پرکھنے سے محروم رہے۔

Comments are closed.