سائنس کی شعریات
آج کی دنیا میں سائنس کی عملیت پسند جہت مرغوب ہونے کے باعث یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اس قسم کے سوال سائنس نہیں بلکہ فلسفۂ سائنس سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن یہ مفروضہ ایک ایسے سماج میں مثبت تخلیقی عمل کو ممکن نہیں بنا سکتا جس میں فلسفیانہ مزاج اور آزاد فکری رویے تقریباً مفقود ہوں اور اگر کسی حد تک ہوں بھی تو ان کے ذریعے تدریسی منظرنامے میں کچھ خاطر خواہ تبدیلی لانا ناممکن ہو۔ ہمارے ہاں ریاضیاتی فلسفہ، سائنس کی تاریخِ فکر و ارتقاء اور فلسفۂ سائنس سے جڑے مضامین پڑھانے کے لئے نہ تو اہلِ علم موجود ہیں اور نہ ہی تعلیمی مارکیٹ میں رسد و طلب کے قوانین اور وسائل تاحال ان کی اجازت دیتے ہیں۔
لیکن اس خلا کے ہونے کا سب سے زیادہ نقصان یہی ہے کہ تخلیقی امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سائنس سے جڑی تاریخِ فکر، تخیلاتی جہات اور تصوراتی پیچیدگیوں کو کم از کم اس سطح پر واضح کیا جائے کہ سائنس کے کسی بھی شعبے سے دلچسپی رکھنے والے اساتذہ و طلباء اور کسی حد تک عمومی دلچسپی رکھنے والے قارئین بھی اسافں دہ کر سکیں۔ ہماری رائے میں اس سوال کا جواب کہ ”سائنس کیا ہے؟ “ تجربہ گاہ سے قطعی لاتعلق رہ کر نہیں دیا جا سکتا۔
لہٰذا فلاسفہ ٔ سائنس کی من پسند تنقیدوں پر اندھا دھند اصرار کرتے وہ مذہبی مناظرین و متکلمین جو تنقید کی عملی جہت سے یکسر لاتعلق اور نابلد ہیں، یعنی سائنسی تناظر میں نظری اور تجرباتی بنیادوں استدلال قائم کرنے کے قابل نہیں صرف ایک ایسے کام میں وقت ضائع کر رہے ہیں جس سے ایک حد سے زیادہ نفسیاتی تسکین کا حصول بھی ممکن نہیں۔ اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ ذرا قدرے مشکل کامیں ہاتھ ڈالیں اور بنیادی ریاضی اور سائنس کا کم از کم اتنا احاطہ کریں کہ اپنے بے جواز تعصبات کو باجواز تعصبات سے علیحدہ کر سکیں۔

بالکل اسی طرح وہ سائنسی مفکرین جن کے نزدیک الہامی عقائد محض کچھ کھوکھلے مفروضوں سے زیادہ نہیں فلسفیانہ نکتۂ نگا ہ سے سائنس کی تاریخِ فکر پر نظر ڈالیں تو انہیں باآسانی معلوم ہو جائے گا کہ ان کے زیادہ تر تعصبات بے جواز ہیں اور جس قسم کے اعتراضات وہ مذہبی عقائد پر اٹھاتے رہتے ہیں ذرا سی کوشش سے سائنسی اعتقادات کے بارے میں بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔
اس علمی سرگرمی سے براہِ راست مذہبی عقائد کو کوئی خطرہ نہیں لیکن چونکہ ابھی ہمارا سماج اس حد تک بالغ نظر نہیں ہوا کہ افراد کو نہ صرف متنوع مذہبی تصورات کے اظہارِ رائے کا حق دیا جائے بلکہ ان معاملات پر مثبت مکالمے کی روایت کو اس طرح فروغ دیا جائے کہ نوبت تلخی اور فتوے تک نہ آئے، لہٰذا علمی و سماجی تناظر کی ان تمام تر پیچیدگیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اس وقت ایک ایسی نئی روایت کی ضرورت ہے جو مذہب کے الہامی مفروضوں سے حتی الوسع لاتعلق رہتے ہوئے سائنس، فلسفہ اور تاریخِ فکر سے ایک مربوط استفادے کو ممکن بنائے۔
گمان ہے کہ اس روایت کو ”سائنس کی شعریات“ کہنا زیادہ درست ہو گا اور اس تناظر میں مضامین کے اس سلسلے کو ایک ایسی ”ٹیکسٹ بک“ کے طورپر تصور کیا جا سکتا ہے جو ڈاکٹر ساجدعلی صاحب کی نصیحت کے مطابق غیر استبدادی ہو، یعنی اس میں جواب سے زیادہ سوال اور طالبعلمانہ تشفی سے زیادہ محققانہ تجسس کو مدنظر رکھا گیا ہو۔ مدیر محترم وجاہت مسعود صاحب کی اجازت سے ”ہم سب“ کے صفحات کو اگلے کچھ ماہ ”سائنس کی شعریات“ کے عنوان سے یہ غیر استبدادی ٹیکسٹ بک لکھنے کے لئے استعمال کیا جائے۔


ڈاکٹر عبدالسلام کا المیہ یہ یے کہ وہ کلی حقیقت کے ادراک سے محروم رہے۔مذہب کے معاملے میں وہ اندھی تقلید کے حامل تھے اور اپنے اعتقاد کو عقلی معیار پر پرکھنا تو ایک طرف اسے سادہ سے نقلی معیار پر پرکھنے سے محروم رہے۔