سائنس کی شعریات


یہ ایک ایسا عمومی تناظر ہے جس میں سماج کا اوسط تعلیم یافتہ فرد ہی نہیں بلکہ سائنسی و سماجی علمی شعبوں، فنونِ لطیفہ اور صنعت کاری سے منسلک اعلی تعلیم یافتہ افراد اور جدید و قدیم میں پُل تعمیر کرتا مذہبی عالم یکساں طور پر خود کو دو ایسے متنازعہ فکری رویوں کی سرحد پر ششدر کھڑا پاتے ہیں جن کے بیچ بظاہر مفاہمت و موافقت کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔

اس عمومی پس منظر میں ہم اپنی رجائیت پسندی کے ہاتھو ں مجبور خود کو پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام مرحوم کی اس امید سے متفق پاتے ہیں کہ عملیت اور حقیقت پسندی کو راہنما اصولوں کے طور پر سامنے رکھتے ہوئے اب بھی کوشش کی جا سکتی ہے مسلم ممالک میں حقیقی سائنس پروان چڑھے۔ ان کی طرح ہماری رائے میں بھی پروفیسر ہود بھائی کی تنقید اس حد تک نہایت صائب ہے کہ ایک آزادانہ فکری ماحول کو ممکن بنائے بغیر سائنسی فکر اور تخلیقی روایت کی بنیاد نہیں ڈالی جا سکتی اور ماضی میں کی گئی ”اسلامی سائنس“ جیسی کوششیں مضحکہ خیز وارداتوں سے زیادہ کچھ نہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ہی ہماری رائے میں سائنس کو ایک مخصوص قسم کی فلسفیانہ منطقی اثباتیت سے بھی آزاد کرانے کی ضرورت ہے جو پچھلی صدی کے دوران مغرب میں رواج پاتے پاتے اب سائنسی دنیا کا ایک غالب فکری رویہ ہے۔ ڈاکٹر ہود بھائی کی کتاب کے دیباچے میں ڈاکٹر عبدالسلام کا یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ وہ خدا پر پکے یقین رکھنے والے تھے اور وائن برگ پکا ملحد لیکن دونوں کی باہمی مفاہمت کے نتیجے میں کمزور اور برقیاتی مقناطیسیت کی قوتوں کو متحد کرنے کا نظریہ ٔطبیعات دریافت کیا گیا۔

عبدالسلام مزید فرماتے ہیں کہ اگر اُن کی فکر میں قوتوں کی اتحاد کا کوئی ماقبل تجربی مفروضہ تھا تو وہ غیر شعوری طور پر ان کے اسلامی پس منظر سے ماخوذ تھا۔ ان کے اس دلچسپ اعتراف کا مطالعہ کچھ نہایت اہم نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے جن میں سے بنیادی ترین نتیجہ یہی ہے کہ کوئی بھی تخلیقی عمل بہرحال تخلیق کار کی شعوری اور غیر شعوری ذہنی روش کا نتیجہ ہوتا ہے۔ علمی منہج اور اصول و ضوابط وہ ناگزیر دائرہ مہیا کرتے ہیں جو اس کی تخلیق کو سند عطا کرتا ہے۔

ایک سائنسدان کی دریافت کا سفر ہی اس کی تخلیقی کائنات ہے اور اس راستے کا ہر پڑاؤ یعنی سائنسی نظریہ، اس کی تخلیق۔ با الفاظِ دیگر سائنس اور غیرسائنس میں فرق تو ان اصول و ضوابط کا محتاج ہے جو لازماً سائنسدانوں کے طبقے میں مسلمہ مانے جانے چاہئیں، لیکن فرد کو اولین مقدمات و مفروضات قائم کرنے کے لئے شعوری و غیرشعوری طور پر کچھ مخصوص ذہنی میلانات کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایسا کیا جائے گا وہ تخلیقی عمل کو کسی شکنجے میں قید کرنے کے مترادف ہو گا اور سائنس پر بعینہٖ اسی قسم کے استبداد کا الزام لگنا باجواز ٹھہرے گا جسے عمومی طور مذہب سے منسلک کیا جاتا ہے۔ کسی بھی تخلیقی روایت کو پروان چڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ تجسس کی راہوں کو حتی الوسع کشادہ رکھا جائے۔

البرٹ کامیو اپنے ایک ناول میں لکھتا ہے کہ جنہیں ہم بنیادی اور اٹل سچائیاں کہتے ہیں وہ دراصل وہی ہوتی ہیں جنہیں ہم سب سے آخر میں دریافت کرتے ہیں۔ آج جس وقت ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں اس وقت دنیائے سائنس میں چوٹی کے ماہرینِ مقیاسیات پیمائش کی سات بنیادی اکائیوں یعنی سیکنڈ، میٹر، کلوگرام، مَول، کینڈیلا، کیلون اور ایمپیر کی نئی تعریفات وضع کر رہے ہیں۔ یہ وہ مقدس اکائیاں ہیں جن سے نہ صرف ہماری کائنات کے تمام طبعی مظاہر کی تفہیم بلکہ تسخیر بھی ممکن ہوتی ہے۔

زمان ومکان، مادے کے خوائص اور باہمی کشش، روشنی اور اس کی چمک، اور ان سے جڑے ان گنت مظاہر ہیں جو ان اکائیوں کے بغیر اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ یہ وہ مقدس حروف ہیں جو عصرِ حاضر کی سائنسی ثقافت کی عام فہم زبان کا نامیاتی جزو ہیں۔ یہ ساتوں اکائیاں سات ایسے طبعی مظاہر پر سختی سے منحصر ہیں جو کمرہ ٔ جماعت اور نصابی کتب میں استعمال ہونے والی سائنس کی عمومی تدریسی لغت کے مطابق غیر متغیر ہیں۔ ماہرین مقیاسیات کے نتائج سامنے آتے ہی نصابی کتب میں ان تمام ”غیر متغیر“ طبعی مظاہر کی نئی پیمائش کا اندرج کر لیا جائے گا۔

دنیا کے تمام سائنسی محققین، اساتذہ اور طالبعلم ان نئی پیمائشوں پر کم و بیش ٖ اسی طرح ایمان لے آئیں گے جس طرح الہامی کتابوں کے ماننے والے ان میں موجود عقائد پر ایمان رکھتے ہیں۔ یقیناً یہاں جوش و خروش اس حد تک تو نہیں ہو گا کہ ان میں سے کچھ اپنے عقائد کی خاطر مرنے مارنے پر اتر آئیں لیکن ہمیں صرف سماج میں اعتقاد کی ماہیت کو واضح کرنا مقصود ہے۔

اس مثال سے ہمارا مقصد صرف ہمارے تیسری دنیا کے پسماندہ سماج میں سائنسی تدریس سے جڑے مسائل کو سامنے لانا ہے۔ اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا کہ اس تدریس کا درجہ کیا ہے یعنی اسکول اور کالج کی سطح کی بنیادی تعلیم یا پھر جامعات میں دی جانے والی اعلی تعلیم۔ ہمارے مشاہدے کی حد تک دونوں طر ف معاملات کچھ خاص مختلف نہیں۔ جدید تدریسی نظریات میں استاد اور شاگرد کو ایک منزل کی جانب سفر میں کسی حد تک ہمراہ تو مانا گیا ہے لیکن ہماری رائے میں ہمارا زیادہ بڑا مسئلہ طالبعلم نہیں بلکہ اساتذہ ہیں۔

کمرہ جماعت میں اس حقیقت کا ابلاغ تو لگاتار ہو رہا ہے کہ روشنی کی رفتار کیا ہے لیکن اس سوال کو ابھارنے کی رتی برابر بھی کوشش نہیں کی جا رہی کہ یہ رفتار اتنی کیوں ہے؟ اس کی پیمائش کیسے کی جاتی ہے اور کیا یہ واقعی اتنی ہی اٹل اور غیر متغیر ہے جتنا نیم الہامی نصابی کتب میں لکھا ہے؟ کیا ہمارا استاد اس مقدس سچائی سے واقف ہے کہ ہمارے قمقموں کو منور کرنے والی برقی رو کی پیمائشی اکائی دو ایسی تاروں کو تصور کرتی ہے جو لامتناہی طور پر پتلی اور لامتناہی طور پر لمبی ہیں، اور جنہیں ایک دوسرے سے ایک میٹر دور رکھا گیا؟ حرارت کیا ہے؟ حرکت کیا ہے؟ چمک کیا ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ عدد کیا ہے؟ اگر ریاضی پر گرفت کے بغیر ان تمام تصورات کا خاطر خواہ علم ممکن نہیں تو پھر کیا ہم بطور اہلِ سائنس یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ہمارے سماج کی اکثریت نہ ہی جانتی ہے کہ یہ تصورات کیا ہیں اور نہ ہی جان سکتی ہے؟ کیا ا س کے یہ معنی نہیں کہ ان تصورات کی ریاضیاتی تعریفات کے بعداب ان کے ساتھ ایک تقدیس منسلک ہونا لازمی ہے، یعنی ایک ایسا مقدس تہہ خانہ جس کے دروازے پر پڑے قفل کی کنجی ریاضی ہے؟ لیکن پھر علمِ ریاضی کی حدود اور درجات کیا ہیں، اور کیا ایسا تو نہیں کہ اس مقدس تہہ خانے میں موجود متبرکات کو چھوتے ہی ہمیں کئی اور تہہ خانوں سے واسطہ پڑنے والا ہے؟ سائنسی تجربات، اصول و ضوابط، اٹل معلوم ہونے والے طریقہ ہائے کار کے پیچھے کیا مابعدالطبیعاتی مفروضے ہیں؟ طبیعات، کیمیا، حیاتیات اور اب معاشیات کی بنیادوں میں موجود ریاضیاتی سچائیاں کن فلسفیانہ روایتوں سے جنم لیتی ہوئی یہاں تک پہنچی ہیں اور ان کی کیا افادی حیثیت ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں کے تدریسی رویے اس قسم کے بیسیوں سوالوں سے قطعاً لاتعلق ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

عاصم بخشی

عاصم بخشی انجینئرنگ کی تعلیم و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ ادبی تراجم اور کتب بینی ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔

aasembakhshi has 80 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

One thought on “سائنس کی شعریات

  • 07/11/2016 at 9:12 صبح
    Permalink

    ڈاکٹر عبدالسلام کا المیہ یہ یے کہ وہ کلی حقیقت کے ادراک سے محروم رہے۔مذہب کے معاملے میں وہ اندھی تقلید کے حامل تھے اور اپنے اعتقاد کو عقلی معیار پر پرکھنا تو ایک طرف اسے سادہ سے نقلی معیار پر پرکھنے سے محروم رہے۔

Comments are closed.