آسمان بولتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 اگر آپ غور کریں تو آپ کو آسمان بولتا ہوا محسوس ہو گا۔ کچھ ستاروں کے جھرمٹ آپ کو جیومیٹری کی اشکال بناتے نظر آئیں گے۔ کچھ کو ملانے سے کسی جانور کی شکل بن رہی ہو گی۔ دور جدید میں کمپاس اور دیگر ٹیکنالوجی کے آنے سے لوگوں کو ضرورت نہیں رہی کہ وہ آسمان سے راہنمائی لیں۔ جب گھڑیاں اس قدر عام نہیں تھیں تو لوگ ستاروں کی حرکت دیکھ کر تہجد کے لیے اٹھا کرتے تھے۔ اور رات کو فصلوں کو پانی لگانے کا وقت بھی ستاروں کو دیکھ کر متعین کیا جاتا تھا۔

سمندروں میں سفر کرنے والے جانتے ہیں کہ جب ساحل سے کچھ فاصلے پر جہاز سفر کرتا ہے تو اس کے آس پاس تاحد نظر پانی ہی پانی ہوتا ہے اور سمت کا تعین بعض اوقات ناممکن ہوجاتا تھا۔ کپتان یا ملاح دن کو سورج اور رات کو قطبی ستارے سے منازل کا تعین کر کے آگے بڑھتے تھے۔ پھر ٹیکنالوجی آگئی اور کمپاس سے مدد لی جانی لگی۔

صحرا کی تلخیاں اور سراب ہماری تاریخ کی کتابوں کا حصہ ہیں۔ جہاں ہر طرف ریت کا لامتناہی سلسلہ ہوتا ہے۔ ریت سورج کی گرمی سے تپ جاتی ہے اور دن میں صحرا میں سفر کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ جہاں پانی اور چھاوں کا دور دور تک نام ونشاں نہیں ہوتا اور مسافر بھٹک بھٹک کر بھوکے پیاسے مر جاتے ہیں۔ تو مسافر صحرا میں سفر کرنے کے لیے رات کا انتخاب کرتے تھے اور سمت کے تعین کے لیے قطبی ستارے سے راہنمائی لیتے تھے۔

اب سوال یہ ہے کہ قطبی ستارے میں ایسا کیا ہے کہ سمندر میں سفر کرنے والے ملاح اور صحرا کے مسافر اس کی مدد سے منازل تک پہنچتے رہے ہیں۔ اگر آپ رات کے مختلف اوقات میں آسمان پہ ستاروں کی حرکات کو نوٹ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ پورا آسماں ایک نقطے یا ستارے کے گرد گھومتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہ آسمان پہ واحد ستارہ ہے جس کی جگہ تبدیل نہیں ہوتی جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عین قطب شمالی کے اوپر واقع ہے۔ اور قطب پہ ہونے کی وجہ سے یہ ساکن محسوس ہوتا ہے۔ اور یہ کبھی غروب نہیں ہوتا۔

اب بڑھتے ہیں باقی آسمان کی طرف۔

: قطبی ستارے کے بالکل پڑوس میں ایک مزے کا کانسٹیلیشن ہے جو سات ستاروں پر مشتمل ہے جسے دب اکبر کہتے ہیں۔

یعنی کہنے والے کہتے ہیں کہ اس کی شکل ریچھ سے ملتی ہے

مگر مجھے تو ایسی کبھی نہیں لگی۔ شاید ان سات ستاروں کے ساتھ چند اور ستارے ملاے جائیں تو شکل ریچھ جیسی بن بھی جائے۔ مگر مجھے تو یہ ہمیشہ ایک بڑے چمچ یا ڈوئی جیسا ہی نظر آیا۔ اور انگریزی میں تو اسے big dipper ہی کا نام بھی دیا گیا ہے۔ یہ خوبصورت اور اہم ترین کانسٹیلیشن ہے جس کی مدد سے ہم قطبی ستارے کو بآسانی تلاش کر سکتے ہیں۔ اور قطبی ستارے کے ساتھ اس کا عجب رومانس ہے۔

دب اکبر کے بالکل مخالف قطبی ستارے کے دوسری طرف ایک اور اہم کانسٹیلیشن ہے جس میں پانچ ستارے ہیں اور ان ستاروں کی شکل انگریزی کے حرف ڈبلیو سے ملتی جلتی ہے۔ انھیں ڈبلیو سٹارز یا cassiopeia کہتے ہیں۔ اگر رات کے کسی پہر دب اکبر نظر نہ آ رہا ہو اور قطبی ستارے کو تلاش کرنا مقصود ہو، تو آپ ڈبلیو سٹارز کی مدد سے بھی تلاش کر سکتے ہیں۔ ڈبلیو کا منہ ہمیشہ قطبی ستارے کی طرف ہی کھل رہا ہو گا۔ دب اکبر یا ڈبلیو سٹارز ان میں سے ایک کانسٹیلیشن ہمیشہ آسمان پر موجود رہتا ہے اور یہ ایک دوسرے کی جگہ لیتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی دونوں ایک ہی وقت میں بھی نظر آجاتے ہیں

ایک اور کانسٹیلیشن جو بالکل اسی لوکیشن میں ہے گو ذرا مدھم ضرور ہے مگر قطبی ستارے کو کھوجنے میں اہمیت کا حامل ہے۔ وہ ہے دب اصغر یا small dipper۔ میرا دعوٰی ہے کہ اس کے بارے بہت کم لوگوں کو علم ہو گا۔ میں نے اس کانام بچپن میں کسی کتاب میں پڑھا۔ مگر اسے ڈھونڈنے مں بہت عرصہ لگا۔ اگر ویکیپیڈیا نہ ہوتا تو شاید یہ مل ہی نا پاتا۔ اگر کوئی اسے ڈھونڈنا چاہے تو اس کے لیے بتاتا چلوں کہ اس کی شکل بالکل دب اکبر سے ملتی ہے۔ اس میں بھی سات ستارے ہیں۔ ڈھونڈنے کے لیے اشارہ دے دوں کہ۔ قطبی ستارہ اس کانسٹیلیشن کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ چھ اور ستارے ہیں۔ خاصا مدھم کانسٹیلیشن ہے۔ مگر رات بھر رہتا ہے۔

یہ تین کانسٹیلیشن دراصل قطبی ستارے کو ڈھونڈنے کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔ ورنہ آسمان تو اس طرح کے دلچسپ کانسٹیلیشنز سے بھرا پڑا ہے۔ جن۔ کی تعداد ویکیپیڈیا کے مطابق اٹھاسی ہے۔ اور آدمی سچ میں آسمان کی وسعتوں میں کھو جاتا ہے۔

ایک اور کانسٹیلیشن ہے جس کی شکل جیومیٹری کی شکل مخمس سے ملتی جلتی ہے۔ اس میں بھی کل چھ ستارے ہوتے ہیں۔ اور یہ مشرق سے مغرب کی طرف بالکل سروں کے اوپر سے گزرتا ہے۔ اور اسے آسمان پہ ڈھونڈنا بہت آسان ہے۔ اسے Auriga کہتے ہیں۔ جب بھی آسمان کی طرف نگاہ دوڑائیں تو عموماً نظر اسی پہ پڑتی ہے۔

پہلے جن تین کانسٹیلیشنز کا ذکر کیا وہ آسمان پر قدرے شمال میں قطبی ستارے کے پڑوس میں ہوتے ہیں۔ جب کہ یہ آسمان پر وسط میں سے گزرتا ہے۔

۔ auriga سے مزید جنوب کی طرف جائیں تو ہمارا جانا پہنچانا کانسٹیلیشن ہے جس کے بارے ہم نے قصے کہانیاں بزرگوں سے سُنی اور جس کا ذکر پنجابی شاعر ی میں اکثر ملتا ہے۔ جی میری مراد ترنگڑ سے ہے۔ انگریزی میں اسے orion کہتے ہیں۔ چھ ستارے بیچ میں دوقطاروں میں ہوتے ہیں جب کہ چار ستارے چاروں کونوں پر محافظ کی طرح موجود ہوتے ہیں۔ پرانے وقتوں میں لوگ اس کانسٹیلیشن کی مدد سے وقت کا اندازہ لگایا کرتے تھے۔

اگر ہم orion سے مزید مغرب کی طرف جائیں تو ایک اور اہم اور پنجابی زبان میں مستعمل کانسٹی لیشن ملے گا۔ جس کو ہم پنجابی زبان میں ”کِھتی“ کہتے ہیں اور انگریزی میں pleiades کہتے ہیں۔ یہ بہت ہی مدھم۔ اور ان گنت ستاروں کا جھرمٹ ہے۔ اور ترنگڑ کی طرح وقت کا اندازہ لگانے میں کافی مدد گار رہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *