دل کی سننے والا شاہد آفریدی


موجودہ دور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا دور ہے لیکن 1996 میں شاہد خان آفریدی نے سری لنکا کے خلاف اپنی پہلی اننگز سے ہی، محض 37 بالز پر دنیا کی تیز تیرین سینچری کا ریکارڈبنا کے کرکٹ کے مداحوں کو ٹی ٹوئنٹی کے مزاج سے آشنا کردیا تھا۔ آفریدی کا یہ ریکارڈ تقریباً سترہ سال برقرار رہا۔

پہلی اننگز سے آخری میچ تک، باؤلنگ کے باوجود اس پاور ہٹر کی دنیا بھر میں شہرت اس کی جارحانہ بلے بازی رہی۔ میدان اور میدان سے باہر کچھ نادانیاں، جلد بازی اور اپنے جوشیلے رویے، جو اس کے کھیل کا تقاضا تھا کے سبب اس کا ٹیم میں آنا جانا لگا رہالیکن اس نے کبھی اپنی روش نہیں بدلی۔ باوجود ان سب کے اس کی ایمانداری، صلاحیت، ملنے والی عزت اور بے پناہ مقبولت کا اعتراف اس کے حلیف اور حریف کھل کر کرتے ہیں۔ ناقدین اس کے کھیل پر تنقید کرسکتے ہیں لیکن بین الاقوامی کرکٹ میں آفریدی کے کرداراور ریکارڈز کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ون ڈے انٹرنیشنل کی بات ہو تو 398 میچ کھیل کر پاکستان کا پہلا اور دنیا کا پانچواں کھلاڑی۔ 117 کے اسٹرائیک ریٹ سے 8064 رنز بناکرپاکستان کا چوتھابیٹسمین۔ 395 وکٹیں اور اتفاق سے 104 بولڈ مارنے والا بھی پاکستان کا تیسرا اور دنیا کا پانچواں باؤلر۔ 9 بارمیچ میں پانچ وکٹیں لینے والا پاکستان کا دوسرا اور دنیا کا چوتھا باؤلر۔ معیاری فیلڈنگ کی بدولت 127 کیچز لینے والا بھی دوسرا پاکستانی۔ 24 بار کاٹ اینڈ بال آؤٹ کر کے دنیا کا تیسرا اور پاکستان کا پہلا باؤلر، جو 12 رنز کے عوض 7 وکٹیں لے کر دنیا کے دوسرے بہترین اسپیل کا ریکارڈ بھی رکھتا ہے۔ وہ ورلڈ کپ 2011 میں ظہیر خان کے ساتھ لیڈنگ وکٹ ٹیکربھی رہا، جو کسی ایک ورلڈ کپ میں کسی بھی پاکستانی باؤلر کی وکٹوں کی سب سے بڑی تعدادبھی ہے۔

شاہد آفریدی اکلوتا کھلاڑی ہے جس نے سب سے زیادہ 351 چھکے مارے۔ سب سے زیادہ 3 بارمیچ میں پانچ وکٹیں لے کر نصف سینچری بھی اسکور کی۔ یوں 350 سے زائد وکٹیں لے کر 8000 رنز بنانے والا بھی یہ دنیا کا واحد آل راؤنڈر ہے۔

اپنے رسکی کھیل کے سبب وہ جے سوریا کے بعد سب سے زیادہ 30 بار صفر پر آؤٹ ہوا تو 32 بار مین آف دی میچ لینے والا پاکستان کا پہلا اور دنیا کا چھٹا کھلاڑی بھی ہے۔ آفریدی کی 6 سینچریوں اور 39 نصف سینچریوں کی تعداد زیادہ نہ ہو لیکن اکثر مواقع پر اس کی بڑے اسٹرائیک ریٹ سے باؤنڈریز پر مشتمل چھوٹی اننگزمخالفین سے میچ چھین لیتی تھیں۔

دنیا میں سب سے زیادہ اور پاکستان میں واحد کھلاڑی جو 9 بار اکیس یا اس سے کم بالز پر ففٹی اسکور کرچکا ہے۔ جن میں سے ایک کی بدولت 2014 میں بنگلہ دیش کے خلاف پاکستان نے اپنا سب سے بڑا ہدف 327 حاصل کیا۔ اس میچ سے قبل آفریدی نے بھارت کے خلاف بھی ایک فتح گر اننگ کھیلی تھی جس میں ایشون کو آخری اوور میں لگائے چھکے کافی یادگار ہیں۔

روایتی حریفوں کے خلاف ایسے ہی کئی سنسنی خیز لمحات میں آفریدی نے اپنے روایتی کھیل کا مظاہرہ کرکے جیت کی راہ ہموار کی اور کبھی ناکام بھی ہوا۔ 2005 میں بھارت میں 45 بالز پر کرئیر کی دوسری تیز ترین سینچری بھی داغ دی تو بھارت کے سابق کرکٹر راوی شاستری نے آفریدی کو بوم بوم کا خطاب دیا۔ اس کے مزاج کے برخلاف ٹیسٹ کرکٹ کے مختصر سے کرئیر میں بھی آفریدی کا ریکارڈ بھارت کے خلاف اچھا رہا۔ اس کی بنائی گئی 5 سینچریوں اور 8 نصف سینچریوں میں سے 3,3 بھارت کے خلاف ہی ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی طرف نظر ڈالی جائے تو ورلڈ کپ 2007 کا پہلا مین آف دی سیریز، حالانکے فائنل میں وہ غیر ذمہ داری سے وکٹ گنوانے پر خاصی تنقیدکی زد میں رہا۔ مگر اس کا ازالہ اس نے ورلڈ کپ 2009 کے فائنل اور سیمی فائنل کے مین آف دی میچ ایوارڈ سمیت پاکستان کو عالمی چیمئپن بنوا کے کیا۔ اپنے پچاسویں میچ میں ففٹی، 600 سے زائد رنز کے ساتھ سب سے پہلے 50 وکٹیں۔ سب سے زیادہ 98 وکٹوں کا ریکارڈ، جو اس کی کھیل سے دوری کے تین سال بعد تک قائم رہا۔ ورلڈ کپ مقابلوں میں بھی سب سے زیادہ 39 وکٹیں۔ اب تک رنز کے لحاظ سے اسڑائیک ریٹ اور 11 مین آف دی میچ لے کر پاکستان کا پہلا اور دنیا کا تیسرا کھلاڑی۔

لالا وہ کھلاڑی تھا جس نے دل کی صدا سنی۔ ایسے کھلاڑیوں کا موازنہ کسی دوسرے سے نہیں کیا جاسکتا۔ اگر وہ بھی دوسروں جیسا ہوتا تو اس کے ریکارڈ بھی مختلف ہوتے لیکن پھر کیا وہ بوم بوم آفریدی ہوتا؟ جو شہرت اس کے حصے میں آئی ہے اس کی تمنا تو ہر کھلاڑی کرتا ہے لیکن ایور گرین کھلاڑی کوئی کوئی ہی بنتا ہے۔

Facebook Comments HS