معمارِ قوم کے مایوسی بھرے خیالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ روز قبل ایک پروفیسر صاحب سے غیر رسمی سی گفتگو ہوئی۔ تعلیمی و تدریسی شعبے میں ان کے خاطر خواہ تجربہ کو غنیمت پاتے ہوئے بندہ ناچیز کو فطری طور پر لفظوں کی صورت کچھ سیکھنے کا شغف ہوا۔ الحمدللّٰہ تعلیم و تدریس اور ادبی حلقے کے ساتھ لگاؤ اور دلچسپی کو ذاتی اور معاشرتی لحاظ سے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔ پروفیسر صاحب سے رسمی دعا سلام کے بعد یوں کہیں کہ صورت حال کنویں اور پیاسے والی تھی۔ میری کوشش تھی کہ معمول کی بات چیت کے علاوہ تعلیمی موضوع کو بھی لازمی گفتگو کا حصہ بنایا جا سکے تاکہ ان کے تجربے سے اپنے ناقص و نابالغ علم میں کچھ قیمتی اضافہ ہو جائے۔

ہمیشہ کی طرح تعظیم کے اصولوں کا خیال رکھتے ہوئے کلام ہوا۔ پروفیسر صاحب کے اچھے اور شگفتہ انداز تکلم سے خوشگوار سا احساس ہوا۔ بات تھوڑی سی آگے بڑھی تو موضوع گفتگو قدرے خاص ہو کر تعلیم سے ہوتا ہوا تدریدس کی طرف مڑا۔ میں نے بڑے شوق اور فخر کے ساتھ ان کے سامنے تدریسی شعبے میں اپنی ذاتی دلچسپی اور پسندیدگی کا اظہار کیا۔ سوچا کہ ایک پڑھے لکھے اور ادبی شخص جس کا اپنا کام ہی علم و فہم کے ساتھ چھیڑا چھاڑی کرتے رہنا ہے اور ایک عرصہ اس شعبے میں بتا چکے ہیں وہ ضرور میری سوچ اور خواہش کو نہ صرف سراہیں گے بلکہ ہلکی پھلکی داد دیتے ہوئے مستقبل کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کریں گے۔

اپنے تجربے اور علم کی کچھ باتیں میرے حافظے کے سپرد بھی کریں گے۔ یہاں تک تو میں پرجوش امید اور جستجو کی لہروں میں جھول رہا تھا۔ لیکن خلاف توقع پروفیسر صاحب اچانک ہی میری امید کی دیوار بے دردانہ گرانے لگے۔ میری خواہش کے جواب میں کہنے لگے ”چھوڑو یار کیا کرو گے اس کام میں پڑ کے۔ کوئی پروڈکٹو کام کرو جس کا فائدہ بھی ہو۔“ پہلے تو لگا کہ شاید مزاح کے موڈ میں ہیں لیکن میرا اندازہ غلط تھا۔

جواب سن کر حیرت اور پریشانی میں سوچنے لگ گیا کہ یہ کیا کہ رہے ہیں۔ پریشانی اس بات کی کہ شاید پروفیسر صاحب نے میرے اندر کوئی بڑا نقص دیکھ لیا ہے جو میرے ارادوں پہ پانی پھیرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ جبکہ حیرت زدہ اس لئے ہوا کہ ایک آدمی جو خود جس کام سے وابستہ ہے مجھے کیوں اس سے دور رہنے کی تنبیہ کر رہا ہے۔ میں نے احتراماً دریافت کرنے کی کوشش کی۔ پوچھا، ”سر آپ تو خود استاد ہیں تو پھر؟“ جواب ملا، ”اسی لئے تو آپ کو منع کر رہا ہوں۔

” سن کر میرے اضطراب میں اور بھی اضافہ ہوا۔ مزید کہتے کہ“ اس کام میں کوئی عزت نہیں ہے۔ بس ذلت اور رسوائی ہے۔ بلیک میلنگ اور لیگ پلنگ ہوتی ہے ہر جگہ۔ ”ایک بار پھر سے زور دے کر مشورہ دیا کہ کسی“ پروڈکٹو ”کام کی طرف جاؤ جس میں عہدہ بھی ہو، اثر و رسوخ بھی ہو اور پیسہ بھی۔ جیسا کہ سی ایس ایس وغیرہ۔

پروفیسر صاحب کا واضح اور واشگاف پیغام تھا کہ اس معاشرے میں عزت، سکون اور تحفظ بڑے سرکاری عہدے اور پیسے کی فراوانی کے ساتھ منسوب و مشروط ہے۔ عہدے اور پیسے کا ہر کوئی طواف کرتا ہے۔ بزرگوں کی آزمودہ اور ثابت شدہ کہاوت مشہور ہے کہ ”پیسے کو سلام ہے۔“ اسی کو ہمارے ہاں عزت اور اثر و رسوخ کا پیمانہ کہتے ہیں۔ یہ کڑوی حقیقت اپنی جگہ بالکل بجا لیکن اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے بھی میرا ذہن اس بات کو ماننے کے لئے کسی طور بھی تیار نہ تھا کہ یہ خیالات ایک سرکاری پروفیسر کے ہیں۔

شش و پنج کی سی کیفیت میں مبتلا بار بار میں خود سے یہ سوال کر رہا تھا کہ کاروباری شخص اگر اتنے پرزور انداز میں مادیت پرستی کی بات کرے یا قائل کرنے کی کوشش کرے یہ تو عقل و دانش مانتی ہے۔ لیکن ایک علم و ادب اور تدریس جیسے انتہائی معتبرانہ، روح پرور اور پیغمبرانہ پیشے سے وابسطہ انسان جس نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ اس میں صرف کیا ہو وہ اس کے خلاف اس حد تک جا سکتا ہے یہ بات کم از کم میری سمجھ میں نہیں بیٹھ رہی تھی۔

میری امید تو بالکل اس کے الٹ تھی لیکن پروفیسر صاحب کے دل کی بھڑاس نے اس امید کو جلا کر راکھ کر دیا۔ انہوں نے مزید رنجیدگی کا اظہار کیا، کہا، ”طالب علم اب بس نام کا ہی طالب علم رہ گیا ہے، کچھ حاصل نہیں کرنا چاہتا۔ استاد کی بات کا شاگرد پہ اثر ہی نہیں ہوتا۔ تعلیمی اداروں میں تہذیب اور اخلاق کی دھجیاں اڑتی ہیں۔“ بات میں کسی حد تک سچائی تو ہے۔ مگر یہ کیوں ہے وہ بھی ایسے اداروں میں جن کا خالصتاً کام ہی اخلاقی و معاشرتی آداب سکھلانا ہے؟

بہرحال، میں نے جواباً اپنی منطق پیش کرنے کی بھی کوشش کی جو کہ پروفیسر صاحب کی رائے سے شدید ٹکراؤ میں جا رہی تھی۔ کیونکہ استاد کی تدریس تو پتھر بھی پگھلا سکتی ہے۔ لیکن انہوں نے طنزاً اس پہ ہنس دیا۔ اب تو میری عزت نفس واقعی میں مجروح ہو کے رہ گئی۔ وقتی طور پر یوں سمجھئے کہ اندر ہی اندر کھولنے لگا، دل کافی بیزار ہوا، دماغ کی پھرکی گھومی۔ پھر تکلیف زدہ دل کو خود ہی بہلا لیا۔ دماغ کا پارا بھی نیچے آیا۔ اسی دوران اپنا ردّعمل چپھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن اس مختصر سے واقعے میں جو بڑی فکر لاحق ہوئی وہ اپنے آگے سوالیہ نشان لئے مستقل کھڑی ہے۔ ایک نئی اور دل ہلا دینے والی حقیقت آشکار ہوئی مجھ پہ۔

اب تک میرا تصور بالکل دوسری طرح کا تھا۔ میرے لحاظ سے پڑھنے پڑھانے کا عمل ایک ایسا کام ہے جس سے وابستہ لوگ بنیادی طور پر اپنے پروفیشن سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ علم کی روشنی سے اپنے دل و دماغ کو روشن کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور وہی روشنی اپنے اردگرد کے انسانوں میں پھیلا کر ان کو بھی مستفید کرتے ہیں۔ معاشرے میں مثبت رجحانات کے فروغ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ان کی ذات علم نافع میں رچی بسی ہوتی ہے۔ یہی لوگ اپنی قوم کے بہترین معمار ہوتے ہیں جو اپنی آنے والی نسلوں کو ہیرے کی مانند خوب محنت اور لگن کے ساتھ ماہرانہ انداز میں تراش کر ایک نئے رنگ میں ڈھالتے ہیں۔ اپنی قوم کو دانشور، مفکرین، ادیب، قابل انجینئر، ڈاکٹر، وکیل، سائنسدان اور سب سے بڑھ کر اپنے جیسے استاد دیتے ہیں جو اس قیمتی میراث کو اپنا اولین فرض جان کر اگلی نسلوں کو بطریق احسن منتقل کرتے جاتے ہیں۔ اس طرح قوم کی دانشمندانہ نشونما کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔

بقول شاعر:
؏ رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے

اس بات سے انکار نہیں کہ ہر ادارے اور شعبہ ہائے زندگی کی طرح بے شک تدریسی ادارے بھی مختلف مسائل اور بے ضابطگیوں کا اکثر شکار رہتے ہیں۔ لیکن تمام تر معاشی و سماجی اور ادارہ جاتی مسائل کو سمجھنے کے باوجود میری ذاتی رائے اور بنیادی تصور یہی تھا کہ استاد کسی بھی صورت اپنے علمی پیشے سے متنفر نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ استاد کا پیشہ اسی لئے چنتا ہے کہ اس کو علم سے محبت ہوتی ہے اور یہ محبت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ مزید خوبصورت اور کثیف ہوتی چلی جاتی ہے۔ لہٰزا علم ہی ایک استاد کا اوڑھنا بچھونا ہوتا ہے۔ ہاں! ایک شرط ضرور لاگو ہوتی ہے کہ کہیں بھی کسی بھی حال میں علم ہی اس کی پہلی ترجیح رہے۔ بصورت دیگر اخلاقی طور پر استاد اور معلم کے لقب یا عہدے کا دعویٰ مشکوک ہو جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply