پابندیوں کی زد میں گھرے ہوئے بچے

ہم بچوں کو خریدنا چاہتے ہیں، اُنکو اپنے طرز پر چلانا چاہتے ہیں لیکن اُس کے لیے ہم جو طریقہ اختیار کر کے اِس گُماں کے ساتھ جیتے ہیں کہ وہ واقعی ہمارے مطابق جا رہے ہیں وہ طرز بھی غلط ہے اور وہ گُماں بھی غلط فہمی سے زیادہ کچھ نہیں۔ پابندیوں کی ذد میں گھِرے ہوئے بچے ایسا آپ کی نظر میں تو کر رہے ہوتے ہیں مگر حقیقتاً ایسا کر نہیں رہے ہوتے۔
اپنے آپ کو غلط فہمیوں اور بے خبری کے جھُرمٹ میں گھیر کے صرف حکم لاگو کر کے اپنی جھوٹی تسکین کر لینے سے بہتر ہے باخبری کی دنیا میں حقیقیت کے ساتھ بچوں کو بھی موقع دیتے ہوئے زندگی گزاری جائے۔ خود کو ان پر جابر حکمران کی طرح مسلط نہ کیا جائے بلکہ فراہمی ہدایات اور دوستانہ تعلقات والا سرپرست بن کے رہا جائے تاکہ اُنکے اعمال پہ خاصی نظر رکھی جا سکے اور اُسکے مطابق اُنھیں سمجھایا جا سکے۔
بچوں کو خریدنا ہے تو اعتبار کی طاقت سے خریدا جا سکتا ہے۔ اس طاقت میں ایسی طاقت ہے جو بچے اور آپ کے دل کے رستوں کو ملا سکتی ہے۔
کچھ چشم دید واقعات بھی پیش خدمت ہوں۔ مصنف کے کچھ ایسے ہم جماعت بھی رہے ہیں جن کو گھر سے کسی ایسے کام جو وہ کرنا چاہیں اُس کی اجازت نہ بھی ہوتی وہ اُسے کہیں نہ کہیں موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کر ہی لیتے اور ایسے طلباء جن کے والدین نے انھیں اجازت دے رکھی ہوتی وہ وہی کام کرتے اور ماں باپ کو اس کی اطلاع دیتے ہوئے قطعاً نہ کتراتے۔
مثال کے طور پر ایک روز کچھ ہم جماعت ساتھیوں نے کہیں باہر جانے کا ارادہ کر لیا، اب اس میں وہ طلباء بھی شامل تھے جن کو گھر سے اجازت تھی جانے کی اور اس کے ساتھ ہی ایسے طلباء بھی شامل تھے جنہیں والدین کی جانب سے اجازت نہ تھی۔ جس فریق کو اجازت نہیں تھی، اُس نے بھی کسی نا کسی طرح کوئی نہ کوئی اسکیم چلا کر اپنا کام پورا کر ہی لیا اور گیا، کیونکہ اُس نے ایسا کرنا تھا سو اس نے کِیا۔ مگر فرق یہ تھا کہ جن کو والدین کی طرف سے اجازت تھی وہ والدین کو بتا کر، اُن سے پوچھ کر، مشورہ لے کر گئے اور واپسی پر بھی ہر چیز کے بارے مطلع کیا یعنی بچے نے جو بھی کیا کم از کم والدین کے علم میں تھا اور ان کی نظر میں تھا۔
اس کے بر عکس جنہوں نے بچوں کو اعتبار سے نہ نوازا وہ لاعلم رہے کہ ان کے بچے کیا کرتے پھر رہے ہیں۔ اُنکے اس طرز سے ان کے بچے ان سے شاید کچھ دُور چلے گئے۔ بچے کہاں گئے، انھوں نے کیا کِیا وہ سب والدین سے چھپایا اور دل میں دُوریاں بڑھیں۔ ایک بار چھُپ چھُپا کے ہمت کر کے بچے نے کوئی قدم اُٹھا لیا تو اب اس میں اگلی بار کے لیے مزید بڑا قدم اُٹھانے کے لیے ہمت مزید بڑھ گئی۔ یوں والدین کی نظر سے بچ کر جو وہ چاہتا رہا وہ کرتا رہا اور والدین سے اندر ہی اندر دُور ہوتا گیا۔
ابھی اگلے دنوں آبائی گاؤں جانا ہوا تو دوسرے گاؤں سے ایک عزیز بھی ہمارے یہاں ٹھہرنے آئی۔ اُس نے دن کا کوئی حصہ بھی ٹی وی دیکھے بغیر خالی نہ جانے دیا ہوگا۔ اتنے لگاؤ کی وجہ پوچھی تو پتا چلا اُسکے والد نے اُسے ٹی وی دیکھنے سے منع کر رکھا تھا اور اُسے گھر پر ٹی وی نہ دیکھنے دیا جاتا تھا۔ سو اب اُسے موقع ملا، والدین کی آنکھ سے اوجھل ہوئی تو اپنا شوق پورا کیا۔ ایسے میں افسوس اُن والدین کی حالت پر ہے جو خود ہی بچوں کو اجازت نہیں دے رہے کہ وہ والدین کی چاہ پر چلیں اور پھر بھی سمجھ بیٹھے ہیں کہ بچے انہی کی چاہ کے مطابق چل رہے ہیں، غلام رعایا کی طرح۔
اگر ذاتی تجربہ شئیر کیا جائے تو بھی یہی اخذ ہوتا ہے۔ میرے والدین نے مجھ پر کبھی کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی، کبھی شک نہ کیا، ہاں جب جب غلط کیا انھوں نے صرف سمجھایا یا جو بات انھیں ناپسند ہوتی اس کی وجہ بتائی کہ یہ بات اس وجہ سے ہمیں پسند نہیں۔ اپنی پسند نا پسند کو مسلط کبھی نہ کیا۔ سیدھی راہ دکھا کر فیصلہ خود کرنے کا موقع دیا۔ یقین جانیے اُنکے اعتماد نے اُنکی غیر موجودگی میں کبھی وہ کام کرنے کی اجازت نہیں دی جو انھیں نا پسند ہو، نہ ہی دل چاہا۔ اُنکا مرتبہ تو ایک طرف، اُنکے لیے دل میں محبت نے اس قدر جگہ کر رکھی ہے کہ بیان نہیں ہو سکتی۔ اُنکی غیر موجودگی میں بھی اُنکی پسند نا پسند کا خیال رکھنا کیا محبت کی کوئی کم نشانی ہے۔
بات کو پھر دہراتی ہوں جس بچے نے جو کرنا ہے، وہ اُس نے ہر حال میں کرنا ہے اور راستے سو طرح سے نکل آتے ہیں۔ نہ کوئی کسی کی نگرانی دن کے چوبیس گھنٹے یا ہفتے کے سات دن لگاتار کر سکتا ہے نہ ہی کوئی کسی کو تمام عمر اپنا غلام بنا سکتا ہے۔
بچوں کو سمجھایا جائے ہر بُرے کام کے خلاف مگر اُن پر پابندیاں عائد نہ کی جائیں۔ جس نے جو کرنا ہو گا وہ ان پابندیوں میں بھی راستہ تلاش کر لے گا۔ یہ پابندیاں کتنا عرصہ لگائیں گے؟ سکول کی عمر تک؟ کالج تک؟ یا بہت ہوا تو مزید ہی کچھ عرصہ آگے تک۔ اُسکے بعد تو بچوں نے پابندیاں خود ہی توڑ دینی ہیں اور شاید آپ کا بھی اب دل نہ مانے اتنی بڑی عمر میں پابندیاں لگانے کا لیکن تب تک آپ کے بچے دل سے آپ سے دُور ہو چکے ہوں گے۔
اُنکے دل میں آپ کا مقام وہ نہیں ہو گا جو آپ کے اعتماد دینے سے ہوتا۔ اب وہ باتیں چھُپانے کے عادی ہو چُکے ہوں گے۔ ایسی بے اعتباری والے رشتوں کا کیا فائدہ۔ جب آپ کے بچے آپ سے ہی اپنے دل کی بات نہ کہہ سکیں۔ بہتر ہے بچوں پر اعتبار کیا جائے، انھیں صحیح غلط کا شعور دیا جائے، سمجھایا جائے اور پھر فیصلے کی آزادی دی جائے نہ کہ ان پر حکمرانی کی جائے۔ ایسے میں آپ کے بچے جو کریں گے کم از کم آپ کے علم میں ہو گا۔ کچھ غلط لگے تو مثال دے کر یا کسی بہتر طریقہ سے سمجھا دیا جائے۔ خُدارا بے جا پابندیاں عائد کر کے اپنے بچوں کو خود سے دُور نہ کریں۔ انھیں بھی کچھ آزادی دیں۔
جن پرندوں کو زبردستی قفس میں قید رکھا جاتا ہے، اگر کسی رات قفس کا دروازہ کھُلا رہ جائے تو وہ پرندے اُڑ جایا کرتے ہیں اور لوٹ کر نہیں آیا کرتے۔ لوٹ کر بس وہی آتے ہیں، وفا بھی بس وہی کبوتر نبھاتے ہیں جنھیں سدھایا جاتا ہے زبردستی قید نہیں کیا جاتا۔

