سائرن کا جواب

محترم مولانا محمد اکرم چوہدری صاحب کا مضمون بعنوان سائرن آج مورخہ تیس اپریل 2020 کے نوائے وقت کی زینت بنا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے چند نکات اٹھانے کے بعد حکومت کو وارننگ بھی دی ہے۔ اسی اخبار میں گجرات کے چوہدری صاحبان کا بیان بھی باسی کڑھی میں ابال کی مانند آیا ہے جس میں انہوں نے اقلیتی کمیشن میں احمدیوں کی (جن کو پاکستان کے نیک۔ دیندار اور دیانتدار لوگ قادیانی کہہ کر بزعم خود اپنی صالحانہ برتری کے نشہ سے معمور ہو کر روحانی تسکین محسوس کرتے ہیں ) ممکنہ شمولیّت کی مذمت کی ہے۔

راقم محمد کولمبس خاں اسی جماعت کا ایک ادنیٰ سا رُکن ہے جس کو اس قسم کی ہرزہ سرائی پر شائستہ جواب دینے کی عادت ہو گئی ہے اور اسی بنا پر محترم سائرن نواز صاحب کی دانش ورانہ اسلام پسندی کے جواب میں ترتیب وار حسبِ ذیل عرض کرتا ہے۔

محترم لکھتے ہیں :۔

”ہماری حکومتیں ہر دور میں ایک ایسے طبقے کو سہولیات فراہم کرنے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں جنہیں آئین پاکستان کافر قرار دیتا ہے“ ۔

محترم کو علم ہی نہیں کہ ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کا آئین کسی کو بھی کافر قرار نہیں دیتا۔ البتہ احمدیوں کے متعلق یہ لکھا ہے کہ وہ ”آئین اور قانون کی اغراض“ کے لئے ”ناٹ مسلم“ ہیں۔ اور جہاں تک اس اسلامی قلعہ میں قائم حکومتوں کا اس طبقہ کو سہولیات فراہم کرنے کا تعلق ہے۔ یہ محترم اکرم صاحب کی صحافیانہ درفنطنی ہے۔ کون سی سہولت احمدیوں کو پچھلے چھیالیس سال میں دی گئی ہے جب سے آئینی ترمیم کی گئی ہے؟

۔ احمدیوں کے قومی ملکیّت میں لئے گئے تعلیمی ادارے باوجود قیمت سے کہیں بڑھ کر رقم کی ادائیگی کے مولوی کے خوف سے واگزار نہیں کئیے گئے۔ احمدیوں نے نئے بنا لئے۔ ہر مرحلہ پر ان کے حقوق کی تو ہمیشہ نفی ہی کی جاتی ہے۔ اس بات کے تو دیگر مخالفین بھی اقراری ہیں۔ کوئی ایک سہولت بتا دیں تو دس ہزار یورو کے مستحق ٹھہریں گے۔ جہاں تک عاطف میاں کی خدمات لینے کا تعلق ہے یہ کوئی سہولت نہیں تھی۔ ملک کو ان کی ضرورت تھی۔ نہ لیں ان سے خدمت۔ وہ کون سا منتیں کر رہے تھے۔

لکھتے ہیں :۔

”جب سارا ملک اس آئین کے تحت چل رہا ہے اور آئین میں قادیانیوں کے حوالے سے واضح اور دو ٹوک فیصلہ موجود ہے پھر کیوں ہر دور میں حکمرانوں کے دلوں میں پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم جن کی ختم نبوت پر ہم، ہمارے ماں باپ ہماری اولادیں ہماری مال و دولت و جائیدادیں سب کچھ قربان بھی ہو جائیں تو کچھ نہیں ان کی ختم نبوت کے دشمنوں کے لیے ہر دور میں غیر ضروری ہمدردی کیوں پیدا ہوتی ہے۔“

محترم! ۔ آپ نے اسلام سے شیفتگی کی بنا پر لازماً دین اسلام کا کچھ مطالعہ تو کیا ہوگا۔ لہذا مختصر جواب یہی ہے کہ احمدی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی بیعت کے الفاظ میں یہ شرط مندرج ہے۔ احمدی صدق دِل سے حضرت محمد مصطفے ٰ ﷺ کو ہی آخری نبی مانتے ہیں۔ باقی مسلمان موعود شخصیّت حضرت مسیح علیہ اسلام کے منتظر ہیں۔

سادہ سی گزارش ہے کہ خاکسار نے ایک ہستی کو آمد شدہ ہونے کے گمان میں تسلیم کر لیا ہے۔ آپ جس مسیح کے منتظر ہیں اگر آپ ان کی آمد کی آج خوشخبری سنائیں تو خاکسار کو انہیں تسلیم کر لینے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ لیکن جب تک آپ منتظر ہیں آپ کو یہ حق نہیں کہ مجھے روکیں کہ میں جن کو سچا سمجھتا ہوں ان کو تسلیم نہ کروں۔

لکھتے ہیں :۔

” اگر ان کے جذبات ہیں تو کیا ہمارے کوئی جذبات نہیں ہیں۔ انہیں کیا تکلیف ہے وہ آئین کے مطابق جہاں رہنا چاہتے ہیں رہیں، جو حقوق انہیں آئین دیتا ہے وہ لیں“

نہایت عمدہ بات کی ہے۔ ہم آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں بلکہ آپ کی تمام تر چیرہ دستیوں کے باوجود ہمارا طرز عمل یہی ہے کہ

”اے دل! تو نیز خاطرِ ایناں نگاہ دار
کاخر کنند دعو یٰ ءحُبِّ پیمبرم ”

آپ نے جس الفتِ محمدی کا اقرار کیا ہے، اسی محبت ہی کی وجہ سے احمدیوں کو کسی سے نہ نفرت ہے نہ عناد ہے بلکہ پیار ہے۔ پچھلے سوا سو سال سے مسلمانوں کے دنیاوی معاملات میں صحیح مشورے دیے گئے۔ لیکن مولوی کے پیچھے لگ کر ان کو رد کرنے کی بدولت مسلما ن کہلانے والوں نے نقصان پر نقصان اٹھائے۔ جہاں تک آئین کے مطابق رہنے کا تعلق ہے کسی احمدی نے کبھی کسی حق کا مطالبہ کیا ہی نہیں اور آئین اگر آپ نے پڑھا ہو تو معلوم ہوگا کہ وہ مجھے اپنے عقیدہ کے اختیار اور اظہار کا حق دیتا ہے۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ ”اللہ تے دیندا اے پر امّاں نہیں دیندی“ ۔ آئین ہی کی ایک تشریح بھٹو صاحب کی ہے اور اس کے برعکس ایک ضیا الحق صاحب کی۔ اس آئین کے ساتھ جو کھلواڑ ہوا ہے یہ اس کی کمزوری کی وجہ سے ہے۔ ویسے اگر بھول گئے ہوں تو یاد کروا دیا جاتا ہے کہ لال مسجد والوں کے ہم مسلک پاکستان کے جمہوری آئین کو آغاز سے آخر تک تسلیم ہی نہیں کرتے۔

آپ جیسے حب الوطن کا فرض بنتا تھا کہ ان کو غداری کی سند ہاتھ پکڑاتے۔ لیکن آپ کو زندگی پیاری ہے۔ یہ بھی ذکر کرنا مجبوری ہے کہ اس خطہ زمین پر گزشتہ چار پانچ ہزار سال سے راقم کے آبا و اجداد ضلع شیخوپورہ میں رہتے چلے آ رہے ہیں۔ ہم اس کے مالک ہی نہیں اس مٹی کے عاشق ہیں۔ کوئی باہر سے آ کر ہمیں اس جگہ رہنے کے آداب سکھائے گا تو یہ اس کی حماقت ہوگی۔

محترم اکرم صاحب کا سوال دلچسپ ہے اور فرماتے ہیں :۔

” کیوں خود کو ہر وقت وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں جو وہ نہیں ہیں۔ حکمرانوں کو کیا اعتراض ہے کہ وہ آئین سے ہٹ کر بات کرتے ہیں اور چوری چھپے یا علانیہ ایک طے شدہ چیز میں نرمی پیدا کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔“

پنجابی اکھان کہ۔ گھروں میں آنواں سنہیے توں دیں۔ کے مصداق احمدی ثابت جو کرنا چاہتے ہیں اس سے محترم آپ آگاہ نہیں۔ توغور سے ذہن نشین فرما لیں۔ ہم اپنے محبوب آقا خاتم النبین ﷺ کے فرمان کی، اُسوہ کی روشنی میں اوراپنے عہدِ بیعت کے موافق آپ کی تمام تر عداوتوں اور ایذا رسانیوں کے باوجود آپ سے محبت کرتے ہیں۔ ہمارے کسی قول و فعل میں اس معاملہ میں آپ کو فرق نظر نہیں آئے گا۔ اور سچے دل سے اس وقت اس تحریر کے دوران اپنے نفس کا جائزہ لیتے ہو سچ عرض کر رہا ہوں۔ سچ کے سوا کچھ نہیں۔ رہی بات حکومتی نرمی کی تو جان لیں۔

ستم گر تجھ سے اُمید کرم ہو گی جنہیں ہو گی

ہمیں تو دیکھنا یہ ہے کہ تو ظالم کہاں تک ہے

اس ساری محبت فشاری کے بعد فرماتے ہیں کہ:۔

”جو آج اقتدار میں ہیں کل نہیں ہوں گے جو کل ہیں پرسوں نہیں ہوں گے لیکن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ختم نبوت کی حفاظت کرنے والے ہر وقت موجود رہیں گے۔ ہم نہ بھی ہوں جو یہ درخت، یہ پہاڑ، یہ دریا، یہ سمندر، یہ ہوائیں، یہ طوفان پیارے نبی کی ختم نبوت کی حفاظت کرنا جانتی ہیں۔ سب جان لیں اگر وہ ایسے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئے ہیں تو اپنا انجام یاد رکھیں۔“

انکی یہ بات بہرحال درست ہے کہ اقتدار آنے جانے والا ہے لیکن مذکورہ محافظین ختم نبوت جن میں درخت اور طوفان بھی شامل ہیں۔ کاش ان میں خدا کا خوف رکھنے والے دینِ اسلام کے شیدائی راسخونَ فی العلم بھی ہوتے جو ختم نبوت پر صحیح ایمان کے نتیجہ میں لوگوں کے اعمال کو خاتم النبین ﷺ کے اُسوہ کے قریب تر کرنے میں معاون ہوتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

نادان دوست کی ایک ٹھوس مثال مضمون نگار کا ذیل کا بیان ہے۔ پڑھئیے اورسر دھنیے۔ لکھتے ہیں :۔

”پاکستان کے عوام بہت ناسمجھ ہوں گے، کم عقل ہوں گے، وسائل اور معاملہ فہمی میں اچھے نہیں ہوں گے،“ جھوٹ بولتے ہوں گے ”، ملاوٹ بھی کرتے ہوں گے لیکن ان تمام برائیوں کے ساتھ ساتھ ان کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ محبت کرتے ہیں“ ۔

اگرچہ جگہ کی قلت کی وجہ سے خرابیوں کی یہ تعداد نامکمل ہے لیکن ڈاکٹر اسرار صاحب مرحوم کا بڑے زور سے پورے پاکستانی عوام کو منافق ترین قرار دینا اور حال ہی میں مولانا جمیل صاحب کا ملک میں جھوٹ کی بہتات پرمتنازع بیان اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ یہ والہانہ محب کا دعویٰ بھی سو فی صد جھوٹا ہے۔ کیونکہ والہانہ محبت کے لئے نفس کُشی کی ضرورت ہے جبکہ اس کے بالکل برعکس یہ جھوٹے دعویداران ِمحبت موقع اور طاقت ملنے پر دوسروں کی جان لینے سے اس کا اظہار کرتے ہیں۔ جو اسلام کی تعلیم کی نفی ہے۔ حیرت ہے کہ جھوٹ کی لعنت کو آپ اتنا معمولی لے رہے ہیں۔ اگر آپ کا یہ اسلام ہے تو محمد رسول اللہ ﷺ کا یہ بہر حال نہیں۔

مضمون نگار نے سازشی تھیوری کے تحت مجید نظامی کے حوالے سے اتحاد ثلاثہ کو مطعون کیا ہے جو ان کے بقول اسلام سے لا تعلق طبقہ کو سامنے لاتا ہے اور یہ مذہبی جنگ ہے۔ اگر ان کے موقف کو درست بھی مان لیا جائے تو یہ جنگ توپ و تفنگ سے تو جیتی نہیں جا سکتی۔ آسان نسخہ دلیل کا اور اخلاق کا ہے اگ رتوفیق ہے تو اس کو بھی استعمال کر دیکھیں۔ اگر توفیق نہیں تو پہلے یہ اللہ تعالیٰ سے مانگیں۔

انکا مشورہ حکومت کو علماء سے علم حاصل کرنے کا ہے۔ بد قسمتی سے یہی علماء کہلانے والے ایک دوسرے پر کفر کے فتاویٰ جاری کر چکے ہیں۔ اور اسی وجہ سے قابلِ اعتماد نہیں رہے کیونکہ کسی کلمہ گو کو کافر کہنے والا خود اپنے اوپرکفر کا فتویٰ صادر کرنے کا قصوروار ٹھہرتا ہے۔ یہ فرمانِ نبوی ﷺ ہے۔ اس فرمان کے ہونے کی تصدیق بے شک تمام علماء سے کروا لیں۔ جہاں تک عمران خاں کو وارننگ کا تعلق ہے اس کا دفاع وہ خود کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words