صحابی رسول ﷺ حضرت مازن بن غضوبہؓ کے مزار پر حاضری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلطنت عمان کے دارالحکومت مسقط سے تقریباً سو کلومیڑ دور ”سمائل“ میں صحابی رسولﷺ حضرت سیدنا مازن بن غضوبہ کے مزار شریف سے ابھی ہم کچھ فاصلے پر تھے کہ سرمئی شام نے کجھوروں کے دراز پیڑوں پر اپنے پر پھیلا دیے تھے۔ تارکول بچھی سڑک کی خاموشی گہری ہورہی تھی، آسمان کے گہرے ساغر میں بادلوں کی تیرتی کشتیاں ہمارے سروں پر آکر رک گئیں تھیں۔ سرد ہوائیں دیوانہ وار رقص کرتی ہوئیں بغل گیر ہو رہی تھیں۔ سفر کی تھکن نے چہرو ں کی شادابی کو مد ہم کر دیا تھا۔

مگر پھر بھی دل کے نہاں خانے میں مسرت کا ایک چراغ روشن تھا۔ جس کی لو نے پورے وجود کو تواناکر دیا تھا۔ ہم سفر تھکن کو دور کسی موڑ پر چھوڑ آئے تھے۔ میرے خیال میں کامیابی یہ نہیں ہے کہ آپ اعلیٰ تعلیم حاصل کرلیں۔ لاکھوں روپے ماہوار پر کسی کمپنی میں ملازم ہو جائیں یا تین چارکنا ل پر محیط بنگلے کے صدر دروازے پر آپ کے نام کی تختی لگی ہو۔ بلکہ اصل کامیابی ”سعادت“ ہے۔ ہمیں زندگی میں حاصل ہونے والی سعادتوں کی فہرست بنانی چاہیے نہ کہ کامیابیوں کی۔

سعادت حاصل کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ یہ ”سعادت“ ، روضہ روسول ﷺ پر نفل پڑھنے کی۔ حجر اسود کو بو سے دینے کی، والدین کی خدمت کی، کسی درد مند کے کام آنے کی، کسی کو ڈوبتے کو اچھالنے کی، یتیم کے سرپر ہاتھ رکھنے کی، بھوکے کو روٹی کھلانے اور تپتی دوپہر میں پرندوں کے لیے چھت پر پانی رکھنے کی بھی ہو سکتی ہے۔ ہمیں ایک بڑی سعاد ت حاصل ہو رہی۔ ایک نیم تاریک جگہ پر گاڑی پارک کی تو سب کے چہروں پرعقیدت اورمحبت کی روشنی سے منور تھے۔

قر ب وجوار میں گہری خاموشی تھی۔ اجنبی راستوں پر اجنبی قدموں کی چاپ سننے والا کوئی نہ تھا۔ خم دار راستوں کا تعاقب کرتے ہوئے، درختوں کی جھکی شاخوں سے الجھتے ہوئے ہم چلتے جارہے تھے۔ سماعتوں میں وہ لفظ گونجنے رہے تھے۔ جو ہم نے سنے نہیں تھے۔ آنکھوں میں وہ منظر اتر رہے تھے۔ جو ہم نے دیکھے نہیں تھے۔ ہم مدینے کی فضاؤں میں سانس لینے لگے تھے۔ کتنی جلدی ہم زمانوں کا سفر کر کے ماضی کی دہلیز پر آگئے تھے۔

رحمت دو عالم ﷺ اپنے روشن ستاروں کی بزم میں تشریف فرماں ہوں گے۔ جب حضر ت سید نا مازن بن غضوبہ ؓ حاضر ہوئے ہوں گے۔ عجزو انکساری کے، ساتھ محبت و خلوص کے ساتھ، حق و سچائی کے نور سے اپنے سینے کو منور کرنے کے لیے۔ جناب مازن ؓ نے، عرض کی ہو گی یار سول ﷺ! حضور ﷺ نے نظریں اٹھا ئی ہوں گی، تو دیکھا ہو گا کہ ایک بت پرست کھڑا ہے۔ چہرے پر ریگزار وں کی دھول اور دل میں نور ہدایت کی طلب لیے۔ جناب ماذرن ؓ کی بھی آنکھیں حضور ﷺ سے چار ہوئیں ہوں گی ایک ہی ساعت میں آپؓ نے کتنی سعادتیں حاصل کر لی ہوں گی، حضور ﷺ کا چہرہ مبارک، حضور ﷺ کا عمامہ، حضور ﷺ، کا، لباس، خدو خال، اندازبیان، اندازسماعت، ”قد و قامت، ایک اک کی زیارت کی ہوگی، کچھ دور چلنے کے بعد سب کے قدم منجمد ہوگئے، لرزتے ہونٹ درود پڑھنے لگے، ادب و احترام سے کاندھے جھک گئے، آنکھیں بھیک گئیں

چاروں طرف گہری خاموشی تھی، گھنے درختوں کی اوٹ تھی، اینٹوں کی ایک پگڈنڈی تھی جو مزار شریف تک آتی تھی، درمیانہ سائز کا ایک کمرہ تھا۔ جس کی چھت نہیں تھی۔ فقط چار دیواریں تھیں۔ ایک داخلی دروازہ تھا ”ہم جناب حضرت مازن بن غضوبہ ؓ کی بارگاہ میں کھڑے تھے، تہی دامن، چشم نم لیے چودہ سو سال پہلے حضرت مازن بن غضوبہ چہرے پر یگزاروں کی دھول لیے اونٹنی کی مہار تھامے مدینہ پہنچ تھے۔ اور کہا تھاحضور! میرے لیے دعا کیجئے۔

کئی زمانوں بعد آج ہم۔ چہروں پر اندیشوں کی دبیز تہ لیے، دلوں میں دنیاوی خواہشوں کے بت سجائے، گناہوں سے لتھڑے ہوئے، میلے جسموں کے ساتھ، حضرت سیدنا مازن بن غضوبہ کی بارگاہ میں سرجھکائے کھڑے تھے اور ملتمس تھے حضورؓ! ہمارے لیے دعا کیجئے، ہماری سفارش فرمادیں، مفلسی کا خوف ہے، رسوائی کا ڈر ہے، بیماری کا اندیشہ ہے۔ حضور ؓ! د عا کیجئے ”آپ ؓ دعا نہیں کریں گے تو اندیشے، وسوسے اور ڈر ہمیں دیمک کی طرح چاٹ جائیں گے۔

اس اثنا ء میں ہوا کا ایک سرد جھونکا بغل گیر ہوا اور پھوار پڑنے لگی، نعت ﷺ کی صدائیں احاطہ مزار سے مسلسل باہر جھانک رہی تھیں، بارش کی پھوار میں ہم کاندھے جھکائے اپنی قسمت پر نازاں کھڑے تھے۔ سسکیوں کی صدائیں ہواکے دوش پر محو سفر ہوئیں۔ خاموشی ایک بار پھر ملتمس ہوئی حضور ؓدعا کیجئے! حضور ؓ دعا کیجئے! کتابوں میں درج ہے کہ ایک مر تبہ ”جناب ماز ن ؓ نے بت پر جانور قربان کیا تو آواز آئی“ نیکی عیاں ہو چکی ہے اور برائی نے منہ چھپا لیا ہے۔ اگر تم جہنم کی آگ سے بچنا چاہتے ہو تو پتھروں کی پو جا چھوڑ دو۔ ”

جنا ب مازن فرماتے ہیں کہ یہ آواز سنی تو میں گھبرا گیالیکن بات آگئی ہو گئی۔ کچھ دنوں بعد جب دوبار ہ جانور قربان کیا توپھر آواز آئی ”مکے میں ایک نبی ﷺ معبوث ہوا ہے اس پر ایمان لاؤ تاکہ تم سیدھے راستے سے نہ بھٹکو اور دوزخ کی آگ میں جلنے سے بچ جاؤ“ یہ سن کر حضرت مازن ؓ فرمانے لگے کہ مجھے حیرت ہوئی اور میں جان گیا کہ اس میں ضرور کوئی بھلائی ہے۔

اس دوران حجاز سے آیا ہوا ایک آدمی حضرت ما زن ؓ کو ملا۔ آپؓ نے استفسار کیا کہ کیاتمھارے علاقے میں کوئی نئی بات ہوئی ہے؟ اس نے کہا ہاں ہمارے علاقے میں ایک ”احمد“ نامی شخص کا ظہور ہوا ہے۔ جو کہتا ہے کہ ایک خدا کی عبادت کرو۔ یہ سن کر آپ ؓ بولے کہ یہی بات میں نے سنی ہے۔ چناچہ حضرت مازن ؓ اونٹنی پر سوار ہوئے اور روشنی کے سفرپر روانہ ہو گئے۔ نور ہدایت کے لیے صحراؤں کی خا ک چھانی ”سنگلاخ راستوں پر چلے سفر کی دشواریاں جھیلیں اور حضورﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے۔

عرض کی میں بنو خطامہ سے ہو ں میرا سارا مال و متا ع نا محمود مشاغل کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ چناچہ اب افلاس و بدحالی کی گرفت میں ہوں نیز اللہ مجھے بیٹا عطا دے دعا فرمائیے، آپﷺ نے دعا فرمائی تمام افعال بد سے چھٹکارا حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد نرینہ عطا کی۔ مزار شریف سے رخصت ہوئے تو خوشی و اطمینان کی برکھا سے بدن بھیگ چکا تھا۔ دلوں پر جمی ہوئی سیاہی آنسوؤں سے دھل چکی تھی۔ ہم خو د کو روئی کے گالوں کی طرح محسوس کررہے تھے۔

یہ احسا س نیا تھا ہمیں پہلے کبھی ایسی سرشاری و راحت نصیب نہیں ہوئی تھی۔ گاڑی فراٹے بھر رہی تھی۔ سڑک کے کناروں پر کجھوروں کے درخت اور کنکریٹ سے بنی اونچی عمارتیں پیچھے کی جانب دوڑتی دکھائی دے رہی تھیں۔ گاڑی کسی فلائی اوور سے گزرتی تو دور کھجوروں کے باغات ایک بار پھر دکھائی دیتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *