اقتصادی راہداری پرتنازع؛ پختونخوا حکومت کا عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"khatak\"

پشاور: اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر تنازع کے باعث خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سی پیک منصوبے میں مغربی روٹ کا اسٹیٹس معلوم کرنے کے لیے اسپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر اورحکمران 3 جماعتی اتحاد کے پارلیمانی لیڈر آج  پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پیٹیشن دائر کریں جب کہ قاضی محمد انور ایڈووکیٹ پیروی کریں گے تاہم رٹ میں اپوزیشن فریق نہیں بنے گی۔ رٹ صوبائی اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد نمبر 882 کے تحت دائر کی جارہی ہے تاہم قرارداد پر دستخط کرنے والی چاروں اپوزیشن جماعتیں جے یو آئی، مسلم لیگ (ن)، اے این پی اور پیپلزپارٹی پیچھے ہٹ گئی ہیں اوراب رٹ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کی جانب سے دائر کی جائے گی۔

صوبائی کابینہ کے رکن مشتاق غنی نے بتایا ہے کہ صوبے کے حصے میں ایک رابطہ سڑک کے سوا کچھ نہیں دیا گیا نہ ہی وفاق نے معاہدے کی دستاویزات دی ہیں، رٹ دائر کرنے کے سلسلے میں اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے بنی گالا میں عمران خان سے مشاورت بھی کی ہے۔ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈر مولانا لطف الرحمٰن نے رابطہ پر کہا کہ ہم رٹ پیٹیشن میں فریق نہیں بنیں گے کیونکہ وزیراعظم کے اعلان کے مطابق مغربی روٹ پر کام بھی ہورہا ہے اور فنڈز بھی جاری ہورہے ہیں۔ ایسے میں رٹ پیٹیشن دائر کرنے کی کیا تک بنتی ہے، انھوں نے کہا کہ وہ رٹ پر دستخط نہیں کریں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اورنگزیب نلوٹھہ نے رابطہ پر کہا کہ ہم سی پیک منصوبہ پر ہونے والے کام سے 110 فیصد مطمئن ہیں اس لیے ہم رٹ میں فریق نہیں بنیں گے۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف ہمیشہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرتی ہے اور یہ رٹ بھی اسی کی کڑی ہے کیونکہ انھیں ڈر ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اسی بنیاد پر چاروں صوبوں میں کامیابی حاصل کرے گی اور یہ ہمارا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔

اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا کہ اگرچہ میٹنگ میں رٹ دائر کرنے کا فیصلہ ہواتھا تاہم رٹ کی تیاری کے بعد نہ تو مشاورت کی گئی اور نہ ہی ہم سے دستخط لیے گئے توہم کیسے اس میں فریق بن سکتے ہیں، پی ٹی آئی سولو فلائٹ کرنے کی شوقین ہے تو کرتی رہے۔پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈرمحمد علی شاہ باچا نے کہا کہ رٹ دائر کرنے کے سلسلے میں مشاورتی اجلاس میں وہ شریک نہیں ہوپائے تھے جس کے بعد بھی ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی انہوں نے رٹ پر دستخط کیے ہیں اس لیے ان کی پارٹی اس رٹ پیٹیشن میں فریق نہیں ہے۔

رٹ پیٹیشن دائرکرنے کے سلسلے میں اسپیکر اسد قیصر نے اتوار کو بنی گالا میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے بھی ملاقات کی اور انھیں اعتماد میں لیا۔ حکومتی ترجمان مشتاق غنی نے کہا کہ رٹ اسپیکرآج دائر کریں گے اور یہ قرارداد کی بنیاد پر دائر کی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر اب کچھ جماعتیں پیچھے ہٹ رہی ہیں تو ان کی مرضی تاہم قرارداد کی سب نے ہی حمایت کی تھی ۔انھوں نے اس سوال پر کہ رٹ پیٹیشن کی پیروی کرنے والے قانون دان قاضی محمد انور ایڈووکیٹ کو فیس کی ادائیگی کون کرے گا؟جواب دیا کہ یہ ادائیگی اسمبلی کرے گی۔ دریں اثناء کاریڈورفرنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر سید عالم محسود نے رٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس طریقہ سے سیاسی طور پر احتجاج کا راستہ بند ہوجائے گا ۔انھوں نے کہا کہ اگر یہ رٹ دائر ہورہی ہے تو ہم بھی اس میں فریق بننے کی کوشش کریں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments