ایک عظیم اداکار: عرفان خان
وہ اپنی ایک الگ ہی ڈَگر کا مسافر تھا۔ اس کی اپنی ایک لائن تھی۔ اس کے پاس شاہ رخ جیسا سٹارڈم نہیں تھا اور نہ ہی اس کے پاس ہریتک روشن جیسا بالی ووڈ چہرہ۔ لیکن اس کے پاس کچھ تو تھا جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتا تھا۔ اس کی موجودگی آپ کو سکرین پر نظریں جما کر رکھنے پہ مجبور کرتی تھی۔ اس لیے کہ اس کی اداکاری صرف الفاظ کی ادائیگی کا نام نہیں تھا بلکہ اس کے اصل الفاظ اس کی آنکھیں ادا کرتی تھی۔ اس کی آنکھیں جہاں بولتی تھیں وہاں الفاظ کو اپنا وجود منوانا نہیں پڑتا تھا۔ وہ آنکھیں، وہ گہری آنکھیں جو ہر وقت بولتی تھیں اور مسکراتی تھیں آج ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی ہیں اور یہی اس دنیا کی بے ثباتی ہے۔ امجد اسلام امجد نے کہا تھا
لیتی ہے جلتی شمع بھی بجھنے میں کچھ تو وقت
ہے آدمی سا کوئی کہاں بے ثبات اور!
آج سے دو سال پہلے جب عرفان خان کو کینسر جیسے موذی مرض نے آ گھیرا تو عرفان نے انتہائی بہادری اور ہمت سے اس آفت کا مقابلہ کیا اور کبھی بھی اس بیماری کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ اپنی زندگی کے سب سے تلخ ایام کی کہانی انہوں نے ٹویٹر پر سنائی جسے ہر کسی نے نم آنکھ سے پڑھا تھا۔ ایک انٹرویو میں جب خان سے اس کی کینسر کے ساتھ لڑائی کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ اُن دنوں میرے ذہن میں ہر وقت بس یہ گانا چلتا رہتا تھا۔
لگ جا گلے کہ پھر یہ حسیں رات ہو نہ ہو
شاید پھر اس جنم میں، ملاقات ہو نہ ہو
راجستھان کے شہر جے پور میں ایک عام سے گھرانے میں آنکھیں کھولنے والے عرفان خان کو ایک کرکٹر بننے کا شوق تھا لیکن شاید پیسوں کی کمی آڑے آ گئی اور وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کے دروازے سے لوٹ آئے اور یوں قسمت عرفان کی انگلی تھامے انھیں دہلی کے نیشنل سکول آف ڈرامہ میں چھوڑ آئی۔ ایکٹنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد عرفان خان ممبئی منتقل ہو گئے اور ٹیلیویژن سے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز کیا۔ اپنے فنی سفر میں زینہ بہ زینہ آگے بڑھتے عرفان خان کو چھوٹی سکرین کا فنکار سمجھ لیا گیا تھا لیکن عرفان کے اندر ایک بڑا فنکار چھپا بیٹھا تھا جو مناسب موقع ملنے کے انتظار میں تھا۔
محنت اور استقامت کا دامن اگر ہاتھ سے چھوڑا نہ جائے تو کامیابی آخر کار آپ کو گلے ضرور لگاتی ہے اور اس کی ایک بڑی مثال عرفان خان تھے۔ اگر چہ اسی کی دہائی کے آخر میں میرا نائر نے عرفان کی بالی ووڈ میں انٹری دلوائی لیکن کوئی خاص کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ نوے کی دہائی میں بھی عرفان کا بالی ووڈ میں کیا گیا کچھ کام کوئی توجہ حاصل نہ کرسکا۔
دوہزار ایک میں برطانوی ہدایتکار آصف کپاڈیہ نے عرفان خان کو اپنی فلم دی وارئیر میں موقع دیا اور یوں اس فلم نے عرفان خان کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی فلم انڈسٹری میں بھی ایک پہچان دی۔ اس فلم کے بعد بالی ووڈ نے اپنے دروازے پوری طرح خان کے لیے کھول دیے اور خان نے بہت جلد اپنا نام اور مقام حاصل کر لیا اور یوں اگلی دو دہائیاں بالی ووڈ میں بھرپور طریقے سے گزاری۔ عرفان خان نے تقریباً ایک سو کے قریب فلمیں کیں جن میں سے چند ایک فلمیں یہ ہیں : لنچ باکس، پیکو، ہندی میڈیم، انگریزی میڈیم، بلو باربر، مداری، مقبول، اور روگ۔
عرفان خان کی آگے بڑھنے کی لگن نے انہیں چین سے بیٹھنے نہ دیا اور وہ ہالی ووڈ جا پہنچے اور وہاں بھی اپنا ایک مقام بنایا۔ اگر یوں کہاں جائے تو شاید غلط نہ ہو گا کہ یہ عرفان خان ہی تھے جس نے دوسرے ہندوستانی اداکاروں کو بھی ہالی ووڈ کا راستہ دکھایا۔ ان کی ہالی ووڈ میں کی گئی فلموں میں سے کچھ کے نام یوں ہیں : انجلینا جولی کی فلم اے مائٹی ہارٹ جس میں عرفان خان نے کراچی پولیس کے چیف کا کردار نبھایا۔ دیگر فلموں میں دی امیزنگ سپائیڈرمین، سلم ڈاگ ملینئر، جراسک ورلڈ، انفرنو، پزل اور لائف آف پائی قابلِ ذکر ہیں۔
عرفان خان اپنے وقت سے بہت پہلے اپنے چاہنے والوں کو داغِ مفارقت دے گئے لیکن وہ اپنے کام کی وجہ سے ہمیشہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے کیونکہ ایک انسان کی موت تو ہو سکتی ہے مگر ایک فنکار کی موت نہیں ہو سکتی۔



