میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا طارق جمیل کی میڈیا سے متعلق بحث تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے، ان کی حمایت اور مخالفت میں کالم لکھے جارہے ہیں، پاکستان کے صف اول کے صحافی اس بحث میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں حامد میر نے اپنے کالم ”علمائے دین اور حکمرانوں کے دربار“ میں مولانا طارق جمیل کا نام لئے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے قرون اولی سے امام ابوحنیفہ، امام احمد بن حمبل، امام جعفر صادق اور امام مالک کی مثالیں پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ ”تاریخ یہ بتاتی ہے کہ وہی علماء قابل تقلید ہیں جو امراء کے درباروں میں حاضریاں نہیں دیتے بلکہ امراء خود چل کر ان کے پاس جاتے ہیں۔

“ حامد میر نے اپنے کالم میں یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی جو علما بادشاہوں کے دربار میں جاتے تھے آج انہیں کوئی نہیں جانتا لیکن جو علما بادشاہوں کے سامنے کلمہ حق کے لئے ڈٹ گئے انہیں پورا زمانہ جانتا ہے۔ اس ضمن میں چند گزارشات پیش ہیں کہ بادشاہوں کے دربار میں کسی لالچ یا مفاد کی خاطر جانا واقعی ناپسندیدہ عمل ہے اس کی مذمت کی جانی چاہیے جو علما کسی لالچ کی خاطر بادشاہوں کے دربار میں جاتے ہیں ان کا عمل باعث شرم ہے۔

لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا مولانا طارق جمیل بادشاہوں کے دربار میں کسی لالچ یا مفاد کی خاطر جاتے ہیں یا ان کا مقصد کچھ اور ہے؟ اس حوالے سے یہ بات خوب سمجھ لینی چاہیے کہ مولانا طارق جمیل کا حکمرانوں سے کوئی مفاد نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی لالچ کے تحت بادشاہوں کے دربار میں جاتے ہیں اگر مولانا طارق جمیل کا کوئی سیاسی مقصد ہوتا تو وہ گزشتہ طویل ترین عرصہ میں کھل کر سامنے آجاتا کیونکہ مولانا طارق جمیل تقریباً گزشتہ تیس سالوں سے بادشاہوں کے دربار میں دعوت کا پیغام لے کر جا رہے ہیں اس لحاظ سے مولانا کا ماضی اور حال اس بات کا گواہ ہے کہ مولانا طارق جمیل نے بغیر کسی لالچ اور مفاد کے اپنا دعوت وتبلیغ والا کام جاری رکھا، کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جس میڈیا میں رمضان ٹرانسمیشن کے لئے اینکر حضرات لاکھوں روپے کے بھاری پیکج لے رہے ہوتے ہیں اسی میڈیا کے پرائم ٹائم میں مولانا کی تقریریں مفت چلائی جاتی ہیں، ساتھ میں یہ نوٹ بھی چلایا جاتا ہے کہ مولانا طارق جمیل نے ان تقریروں کو ٹی وی پر نشر کرنے کا کوئی معاوضہ نہیں لیا ہے، اگر انہیں کوئی لالچ ہوتا تووہ اپنی تقریروں کو استعمال میں لا سکتے تھے لیکن انہوں نے یہ کام فی سبیل اللہ کیا، کیا میڈیا کے پاک دامن اینکر حضرات صرف رمضان کا ایک ماہ مفت میں پروگرام کر سکتے ہیں؟ مولانا طارق جمیل کا ظرف دیکھئے کہ جس ٹی وی چینل نے ان سے تقریریں نشر کرنے کی اجازت طلب کی انہوں نے اسے بھی اجازت دے دی اور جس ٹی وی چینل نے ان کی اجازت کے بغیر تقاریر نشر کیں مولانا نے انہیں بھی دعائیں دیں۔ کیونکہ تقریروں سے ان کامقصد دنیا کا حصول ہرگز نہیں تھا۔

مولانا طارق جمیل پر ناقدین کی جانب سے ایک بڑا اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ وہ ہر وزیراعظم کے پاس جاتے ہیں اس طرح کی مثال دے کر ناقدین یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جب مولانا طارق جمیل میاں نواز شریف کے ساتھ بھی تھے اور عمران خان کے ساتھ بھی ہیں تو ان میں سے درست کون ہے اور غلط کون ہے اس بارے مولانا طارق جمیل خاموش کیوں ہیں؟

اس اعتراض کا جواب بھی وہی ہے کہ مولانا کا میاں نواز شریف کے پاس جانا کسی دنیاوی مقصد کے لئے نہیں تھا اسی طرح وزیراعظم عمران خان سے ملنا بھی کسی لالچ یا دنیاوی مقصد کے لئے نہیں ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میاں نواز شریف اور عمران خان میں سے کون ٹھیک ہے اور کون غلط؟ توایک داعی کو یہ زیب نہیں دیتا ہے کہ کسی ایک کو درست اور دوسرے کو غلط قرار دے کر چاہنے والوں کے لئے اپنے دروازے بند کردے کیونکہ داعی کو امید ہوتی ہے کہ آج نہ سہی کل کلاں یہ بندہ راہ راست بھی آہی جائے گا اور اسی امید کی خاطر وہ ہر کسی سے راہ ورسم بڑھاتا ہے۔

مولانا طارق جمیل پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی حمایت کی ہے تو اس لحاظ سے یہ عمل سیاسی سرگرمی کے زمرے میں آتا ہے حالانکہ دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ مولانا طارق جمیل نے وزیراعظم عمران خان یا ان کی حکومت کی حمایت صرف انہی کاموں میں کی ہے جس کی تعریف اور حمایت ہر ذی شعور انسان کرنے پر مجبور ہوتا ہے، یہ کام تواینکر حضرات مولانا طارق جمیل سے زیادہ کرتے ہیں بلکہ ایک ہی پروگرام میں حکومت پر تنقید کے ساتھ ساتھ مثبت کاموں کی تعریف بھی کرتے ہیں اور اس عمل کو صحافتی اصولوں کی پاسداری قراردے کر اس کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں کہ ہم نے دونوں رخ پیش کیے ہیں، اگر یہ کام مولانا طارق جمیل کرتے ہیں جو شخصی آزادی کے تحت دیگر لوگوں کی طرح وہ بھی کرسکتے ہیں تو پھر ان پر تنقید کیوں؟

مولانا طارق جمیل نے پوری دنیا کے میڈیا میں جھوٹ بولے جانے کی نشاندہی کی ہے جس پر میڈیا کو ان کا شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ میڈیا بارے مولانا کے الفاظ کو اگر سخت بھی مان لیا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ میڈیا پر پورا سچ نہیں دکھایا جاتا اور پورے سچ کو پیش نہ کرنا بھی جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے، ان تمام تر حقائق کے باوجود مولانا طارق جمیل غیر مشروط معافی مانگ رہے ہیں کیونکہ مولانا طارق جمیل کا میدان نفرتوں کا خاتمہ اور محبت کا پیغام ہے بقول جگر مراد آبادی

ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply