زندگی اور اس کی تلخ حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عرفان خان اور رشی کپور کی وفات نے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہم اپنے خوابوں کو پانے کے لئے کتنی تگ و دو کرتے ہیں سالہا سال محنت کرتے ہیں در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں ناکامیوں کا سامنا کرتے ہیں زندگی کے اتار چڑھاؤ دیکھتے ہیں پھر جو لوگ امید کا دامن نہیں چھوڑتے اور خود پر بھروسا رکھتے ہیں وہی کامیابی کی منزل کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں پھر ایک وقت آتا ہے کہ محنت رنگ لاتی ہے خواب پورے ہونے لگتے ہیں اور شہرت کی بلندیوں تک پہنچتے ہیں۔

اپنی لگن اور محنت سے ایک چمکتا دمکتا ستارہ بن جاتے ہیں۔ ہزاروں نہیں لاکھوں ’کروڑوں کی تعدار میں چاہنے والے ہوتے ہیں اور آخر کار موت ہمیں گلے لگا لیتی ہے اور سب کچھ ایک چھناکے سے خاک میں مل جاتا ہے۔ انسان کتنا بڑا کیوں نہ ہو‘ کتنا کامیاب اور مشہور کیوں نہ ہو آخر زمین میں ہی دفن ہوجاتا ہے۔ خاک نے خاک میں ہی ملنا ہوتا ہے۔

موت کا ایک دن مقرر ہے یہ ہم سب جانتے ہیں لیکن وہ مقرر کردہ دن کون سا ہے اس راز سے ہم ناواقف ہیں۔ ہم سالہاسال کی منصوبہ بندی کرتے ہیں لیکن یہ بھی دردناک حقیقت ہے کہ ہمیں اپنے اگلے لمحے کا پتہ نہیں ہوتا۔ موت کے آگے ہم اتنے بے بس ہو جاتے ہیں کہ روپیہ پیسہ ہر آسائیش ہونے کے باوجود موت کو ٹال نہیں سکتے نہ ہی اپنی زندگی کے دن بڑھا سکتے ہیں۔ انسان بھی کتنا معصوم ہے ’ساری زندگی اس ضعم میں گزارتا ہے کہ وہ حاکم و محکوم ہے۔

دولت و شہرت کے پیچھے بھاگتا ہے‘ دولت اکٹھی کرتا ہے یہ سوچ کر کہ دنیا کی ہر چیز اُس سے خرید لے گا لیکن افسوس اپنی خوشیاں ’سکون اور زندگی کے دن نہیں خرید سکتا۔ اپنا‘ بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے ’آسائشوں کے لئے دن رات ایک کرتا ہے نہ جانے کون کون سے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے‘ جائیدادیں اور بنک بیلنس بناتا ہے لیکن یہ بھول جاتا ہے کہ یہ زندگی تو عارضی ہے اصل زندگی تو مرنے کے بعد شروع ہوگی۔ ہم عارضی خوشیوں کو پانے کے لئے بہت آگے نکل جاتے ہیں جہاں سے واپسی ممکن ہی نہیں ہوتی۔

جب اللّٰہ یاد آتا ہے تو وقت کم رہ جاتا ہے پھر جب ہم بسترِ مرگ پر ہوتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا ’کاش مجھے تھوڑی سی مہلت مل جاتی‘ کاش میں اپنی زندگی کا مقصد جان پاتا ’کاش میں زندگی کی چکاچوند میں نہ پڑتا‘ کاش ایسا نہ ہوتا ’کاش ویسا نہ ہوتا لیکن اب کیا ہو سکتا ہے کیونکہ مشہور کہاوت ہے کہ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

ہم کسی کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے ’کسی کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے‘ چوری ’رشوت‘ ذخیرہ اندوزی ’فراڈ اور لوٹ مار کرتے ہوئے‘ معصوم بچے اور بچیوں کی عصمت کو تار تار کرتے ہوئے اپنی موت کو کیوں بھول جاتے ہیں اس رب کو کیوں بھول جاتے ہیں جو ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ آخر جانا تو اسی چھ فٹ کی قبر میں ہے جہاں اپنے ہر عمل کا خود حساب دینا ہو گا۔

جب اللّٰہ تعالٰی نے ہر بات قرآن پاک میں دلائل کے ساتھ واضح کر دی ہے پھر ہم گمراہی کا شکار کیوں ہیں پھر یہ معاشرے میں بگاڑ کیوں ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری اپنے دین سے دوری ہے۔ ہم قرآن کو سمجھ کر نہیں پڑھتے ’ہر مسئلے کا حل قرآن میں بیان کیا گیا ہے لیکن ہم اس کو کھولنا اور سمجھ کر پڑھنا گوارا نہیں کرتے اسی لئے بے راہ روی کا شکار ہیں۔ ہم نماز کو صرف فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں لیکن نماز میں ہم کیا پڑھتے ہیں یہ نہیں جانتے کیونکہ ہمیں ترجمہ نہیں آتا جب معلوم ہو گا کہ ہم کیا پڑھ رہے ہیں تبھی ہم نماز اس طرح ادا کریں گے جس طرح ادا کرنے کا ہمارا حق ہے۔ دراصل ہم منافق لوگ ہیں ایک رسول پر‘ ایک کتاب پر اور ایک اللّٰہ پر ایمان تو رکھتے ہیں لیکن دیے گئے احکامات پر عمل نہیں کرتے۔

ہم دوسروں پر تہمت تو لگا دیتے ہیں لیکن اپنا محاسبہ کرنا بھول جاتے ہیں کیونکہ نقص نکالنا ’الزام لگانا آسان ہے لیکن اپنی غلطی کو تسلیم کرنا اور پھر اس کی اصلاح کرنا انتہائی مشکل ہے۔

اگر ہم اپنی اپنی جگہ خود کو صحیح کر لیں ’زندگی کو اک عارضی سفر کی مانند گزاریں اور آخروی زندگی کو منزل سمجھتے ہوئے وقت گزاریں تو سارے مسائل خودبخود حل ہو جائیں گے۔ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے لیکن ہم دنیا کے نشے میں بہت دیر کر دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *