اینڈو کرائن کینسر اور عرفان خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موت کو نکال دیں تو یہ زندگی ایک پڑاؤ ہے اپنے اصل کی طرف بڑھنے کے لیے، ایک ایسی راہگزر جہاں کچھ دیر کے لیے بس قیام کرنا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس مختصر قیام گاہ کو اتنا رنگین کر دیا گیاہے کہ ٹھہرے رہنے کا دل للچاتا ہے۔ دل ہی نہیں کرتا اس خواب سے جاگنے کو جو مسلسل ہمیں دھوکے میں رکھے ہوئے ہے۔ اور کسی بھی وقت بے وفائی کر جائے۔

عرفان خان نے بھی شاید زندگی میں بہت سارے خواب بنے ہوں گے ۔ بہت ساری خواہشات کی ہوں گی مگر اس بے وفا نے اسے بھی داغ مفارقت عطا کر دی۔ زندگی کے لیے یہ بات کوئی معنی نہیں کوئی کتنا بڑا ہے یا چھوٹا، زندگی تو بس گزرتی ہے اور اپنی زد میں آنے والوں کو موت کی خاک میں چھپا کر آگے کا سفر طے کرتی ہے۔ اس لیجنڈ کردار کے مرنے پر لوگوں کو پتہ چلا اینڈوکرائن کینسر اصل میں ہوتا کیا ہے۔

اپنے آخری خط میں لکھے گئے اس اعتراف کے بعد کہ وہ اینڈوکرائن کینسر کے لفظ سے بھی ناآشنا ہیں۔ تو بے اختیار دل سے آہ نکلی کہ کس طرح انسان کو نا واقف غموں سے دوستی کرنی پڑ جاتی ہے۔ اس کے اس غم کو اینڈوکرائن کیسنر کے نام سے دنیا نے جانا۔ اینڈوکرائن کینسر پھیپھڑوں، لبلبے اورآنتوں کو تباہ کرتا ہے۔ آپ کو ڈائریا محسوس ہونے لگتا ہے۔ پیٹ میں مروڑ اترتے ہیں۔ استھما والی کیفیات آ جاتیں ہیں۔ بلاوجہ کی بے چینی رہنے لگتی ہے۔ یہ مرض نروس اور اینڈوکرائن سسٹم کو تباہ کر دیتا ہے۔ خلیوں کی۔ ابنارمل گروتھ ٹیومر میں بدل جاتی ہے۔

اور یہ ٹیومر بعض دفعہ جسم کے ایک حصے میں واضح ہوتا ہے اور بعض دفعہ جسم کے سب حصوں پر بننے لگتا ہے۔ پہلی حالت کو بینائن ٹیومر کہتے ہیں جبکہ دوسری کو میلیگنینٹ کہتے ہیں۔ دنیا میں ہر 100,000 افراد میں سے 7 کو یہ بیماری ہے۔ جس کا اظہار خود عرفان نے اپنے آخری خط میں کیا ہے کہ میری بیماری کے متعلق معلومات ہی کم ہے کیونکہ یہ نایاب ہے۔ اسے شاید اندازہ نہیں تھا کہ وہ خود نایاب تھا اس لیے بیماری بھی ویسی ہی ودیعت ہوئی۔

کھڑکی کے پار زندگی تلاشنے والی آنکھیں بقاء کی جنگ لڑنے کے لیے تیار تھیں۔ مگر رب باری تعالی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جب قضاء کا وقت آتا ہے تو وہ کریم رب خود ہی کچھ سامان پیدا کر دیتا ہے۔ اللہ کسی جان کا عذر اپنے پر نہیں رکھتے اسی لیے دنیا کے اس کارخانے سے کوئی حادثات سے جا رہا ہے تو کوئی بیماریوں سے اور ہم روئے زمین کے وہ نایاب ہیرے ہیں۔ جو نہ آتے اپنی مرضی سے ہیں اور نہ جاتے اپنی مرضی سے، ہاں زندگی اپنی مرضی کی گزارتے ہیں۔ اور قبر میں حساب اس کریم رب کی مرضی کا بھگتتے ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کس چیز پر مرضی رب نے دی ہے اس پر حساب بھی ہونا ہے۔ اللہ ہمیں اور سب امت مسلمہ کو خیر کی زندگی اور پرسکون ابدی زندگی نصیب میں کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حنا یاسمین کی دیگر تحریریں

Leave a Reply