کورونا اور محبت کے قصے
دنیائے تاریخ میں بہت سی وبائیں آئیں، بہت سے معاشی اور اقتصادی بحران بھی آئے جن کی مثالیں 2019 کے وسط تک دی جاتی رہیں لیکن کورونا کی وبا نے اب تک کی تمام وباوں اور بحرانوں کا ریکارڈ توڑ کر رکھ دیا ہے۔ کورونا کی وبا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہ عالمی وبا ڈکلیئر ہونے سے قبل ہی عالمی وبا بن چکی تھی۔ جب عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی وبا کا درجہ دیا، اس سے بہت پہلے ہی یہ وبا عالمی وبا بن کر ابھر چکی تھی۔
یہ وبا اس دور میں آئی جب انسان نے رب سے زیادہ سائنس پر بھروسا کرنا شروع کر دیا تھا۔ جدید دور کے انسان کا دعوی تھا کہ دنیا کی ہر چیز پر اسے قدرت حاصل ہوگئی ہے لیکن ایک نہ نظر آنے والے وائرس نے دنیا بھر کے انسانوں کو رب یاد دلا دیا۔ کورونا وبا نے محبت کے دیوانوں کو بھی کافی نقصان پہنچایا ہے۔ محبت اور کورونا کے درمیان جنگ شروع سے ہی جاری ہے، اس جنگ میں کبھی محبت جیت جاتی ہے تو کبھی کورونا۔ دنیا بھر میں اسی ہار جیت کے کچھ واقعات رونما ہوئے جو پیش خدمت ہیں شاید یہ واقعات محبت کے متلاشیوں کے لئے رہنمائی کا سبب بن جائیں۔
حال ہی میں اٹلی کے ایک معمر جوڑے کی تصاویر سوشل میڈیا اور دنیا بھر کے الیکٹرانک میڈیا میں بہت وائرل ہوئی۔ معمر جوڑا، اپنی شادی کی پچاس ویں سالگرہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کراس ہسپتال کے بستروں پر لیٹے منا رہا تھا جہاں ان کا کرونا وائرس کا علاج چل رہا تھا۔ کورونا میں مبتلا ہونے کے باوجود جب انسان زندگی اور موت کی کشمکش میں ہواس محبت کا اظہار دنیا کے لئے ایک مثال بن گیا۔ سالگرہ کی تقریب 10 منٹ تک چلتی رہی اور اس دوران عملے نے حفاظتی ملبوسات کا استعمال کیا۔
طبی عملے نے ایک چھوٹے کیک کے ارگرد 50 موم بتیاں رکھ دیں مگر انہیں روشن نہیں کیا کیونکہ آکسیجن کے قریب ان کو جلانا ممکن نہیں تھا، جوڑے کے بستروں کو اتنا قریب کردیا کہ وہ اپنے ہاتھ تھام سکیں، جبکہ نرسز اور دیگر نے ارگرد جمع ہوکر اپنے ہاتھوں سے دل کے نشان بنائے۔ معمر جوڑے کا کہنا تھا کہ اس طرح کے لمحات ہی ہمارے اندر موجودہ حالات میں ہر طرح کی قربانی دینے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔ موت کے منہ میں محبت کا اظہار دیکھ کرکروڑوں آنکھیں بھر آئیں اور اس معمر جوڑے کی صحت یابی کے لئے دعائیں مانگیں جو قبول ہوئیں اور بالآخر یہ جوڑا صحت یاب ہوکر اپنے گھر واپس چلا گیا۔
اسی طرح ایک اور معمر جوڑا جو محبت کی خاطرسرحد پارکر کے ملتا تھا اس کو بھی کورونا کی دہشت خوفزدہ نہ کرسکی۔ پچاسی سالہ انگا ڈنمارک میں رہتی ہیں اورنواسی سالہ کارسٹن جرمنی میں رہتے ہیں پھر بھی دونوں ایک دوسرے کوروزملتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا کے باعث جرمنی اور ڈنمارک کی قومی سرحدیں ان دنوں بند ہیں اور عوامی آمد و رفت بھی معطل ہے۔ لیکن یہ جرمن ڈینش جوڑاسرحدی بندش کے باوجوداب بھی ہر روز ملتا ہے۔ دنوں کی ملاقات جرمنی اور ڈنمارک کی مشترکہ سرحدی گزرگاہ پر ہوتی ہے۔ ملاقات کرتے ہوئے دونوں ہی خوشی سے ایک دوسرے کو ایک ہی بات کہتے ہیں : ”محبت کے نام!“
برطانیہ میں نرس کے فرائض انجام دینے والی دو جڑواں بہنوں کی گہری محبت کورونا کے آگے ہار گئی۔ کورونا سے ہلاک ہونے والی خواتین کی ایک بہن کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ وہ دونوں ایک ساتھ دنیا میں آئی تھیں اور ایک ہی ساتھ واپس جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بہنوں میں بے انتہا محبت اور پیار تھا۔
کورونا نے کئی جوڑوں میں لڑائیاں بھی کروا دیں۔ بھارتی ریاست گجرات کے شہر وڈودرا میں ایک شوہر نے لڈو ہارنے کی وجہ سے اپنی بیو ی کی ہڈیاں توڑ دی ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے اکثر موبائل پر لڈو کھیلتے تھے۔ شوہر نے ایک دن بار بار ہارنے کی وجہ سے برہم ہو کر اپنی بیوی پر اتنا تشدد کیا کہ اس کی ہڈیاں ٹوٹ گئی۔
کورونا نے کئی دلہوں کو سہاگ رات جیل میں گزارنے پر بھی مجبور کردیا۔ جنوبی افریقہ کے صوبے کوازولو ناتال میں شادی کی تقریب میں دلہا دلہن نئی زندگی کے خواب آنکھوں میں سجائے ایک دوسرے سے عہد و پیماں کررہے تھے کہ پولیس نے چھاپہ مار کر دلہا سمیت مہمانوں کو بھی حراست میں لے لیا۔ اسی طرح اتراکھنڈ بھارت میں بھی شادی کی تقریب جاری تھی کہ پولیس نے دلہا، دلہن اور درجنوں مہمانوں کو گرفتار کرلیا۔
کورونا وائرس سے مرنے والے ایک امریکی شخص کی بیوی کو اس کے مرنے کے بعد اپنے شوہر کے موبائل فون سے محبت بھرا پیغام موصول ہوا۔ جس میں اس کے شوہر نے لکھا تھا کہ ’کیٹی میں تم سے اور اپنے بچوں سے بہت پیار کرتا ہوں اور تم نے مجھے وہ بہترین زندگی دی جس کا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا، اس کے لیے میں بہت خوش قسمت ہوں۔‘


