مشرف عالم ذوقی کا ناول ”پو کے مان کی دنیا“ ”تبصرہ اور تجزیہ“

پو کے مان کی دنیا ناول آج کی تبدیل ہوتی دنیا اور ختم ہوتی تہذیب کا مرثیہ ہے۔ گلوبل ولیج کے دائرے میں سمٹتی دنیا مگر قدروں کی موت کی سرگوشی ہے۔ ماڈرن کلچر کے نام پر اخلاقیات اور معصوم بچپن کی قبرگاہ ہے۔ مغربی اطوا ر کو نقل کرنے کی خواہش میں اپنی شناخت کا جنازہ نکالنے والوں کی روداد ہے۔

انٹرنیٹ تک آسان پہنچ اور گیم کلچر نے بچّوں کے ذہنوں کو اس قدر پراگندہ کر دیا ہے کہ آج کے بچّے اپنی معصومیت کھو چکے ہیں۔ وہ وقت سے پہلے بالغ ہو رہے ہیں۔ اس ناول نے اس عہد کی خطرناک تصویر پیش کی ہے جو کہ حقیقت بھی ہے۔ تہذیب کی درکتی اینٹیں جسے سنبھالنے میں ناکام آج کے والدین۔

سب سے پہلے ناول کی ابتدائی چند سطریں ناول کے مرکزی کردار کی زبانی ملاحظہ ہوں۔

”آنکھیں بند کرتے ہی ایک چمکیلی سی دھند آ جاتی ہے۔ دھند کے اس پار سے کوئی منظر، مجھ پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ مگر آنکھیں تو بند ہیں۔ منظروں کے آنے کا راستہ بند۔ وہی بار بار دہرائے جانے والے لفظ۔ وہی، بار بدلنے کے بعد بھی وہی دنیا۔ وہی بوسیدہ سے لفظ۔ شکریہ کے لئے، محبت کے لئے، گفتگو کے لئے۔“

ناول کے اہم کردار میں سنیل کمار رائے جو کہ پیشے سے جج ہیں۔ ذوقی کا یہ کردار اُن کے حقیقی دوست سنیل کمار رائے سے متاثر ہے۔ صرف نام کی حد تک باقی کہانی کی تھیم سے اُن کا کوئی لینا دینا نہیں ہے جیسا کہ اُنہوں نے ناول کے شروع میں ”شکریہ کے دو لفظ“ میں وضاحت کی ہے

اُن کے پاس ایک ایسا کیس آتا ہے جو کہ اپنے آپ میں انوکھا ہے۔ ایک 12 سال کا بچہ اپنی ہم عمر لڑکی کا ریپ کر دیتا ہے وہ خود حیرت میں ہیں کہ یہ کیا ہوا ہے؟ وہ اپنے دوست سے اپنی اُلجھن شیئر کرتا ہے

”اتنے برسوں کی زندگی میں پہلی بار میں اخلاقیات کی ایک بوسیدہ کتاب اُدھیڑ رہا ہوں۔ جانتے ہو۔ آج کل سارا سارا دن، ساری ساری رات انٹرنیٹ میں اُلجھا رہتا ہوں۔ سوچتا ہوں۔ وہ کیا چیز ہے۔ جو بچّوں کو تباہ کر رہی ہے۔ ٹی۔ وی۔ سپر کمپیوٹر۔ یا گلوبلائزیشن۔ ترقی ہوتی ہے اور ترقی اچھی چیز ہے۔ مگر کیا ہوتا ہے۔ دھماکہ کے ساتھ ایک نئی چیز ہمارے بیچ آ جاتی ہے۔ گلوبلائزیشن۔ تمام فاصلوں کو، ایک چھوٹے سے ویلیج میں قریب کرنے والی کنجی ایک زوردار دھماکہ کر جاتی ہے۔ اور۔“

حالانکہ جج صاحب کا اپنا گھر بھی اُن کے بچے بھی اپنی دنیا میں جیتے ہیں اور انھیں اپنے والدین دقیانوسی اور پرانے نظر آتے ہیں اُن کے سنسکار اُن کے لیے کوئی معائنے نہیں رکھتے۔ وہ اڑنا چاہتے ہیں اُنہیں اقدار اور تہذیب بیڑیاں نظر آتی ہیں۔ اُن کے لیے آزادی ہی اہم ہے اور یہ آزادی اُنھیں ہر قیمت پر چاہیے جس کے لیے وہ باغی ہوکر اپنا گھونسلا اپنا آشیانہ بھی چھوڑ سکتے ہیں۔ سنیل کمار رائے کو یہ احساس بھی ہے کہ وہ اپنا گھر نہیں بچا سکا۔

مگر اچانک ان کچھ برسوں میں ٹیکنالوجی، سوپر کرائم اور گلوبلائزیشن کا جو حملہ ہوا ہے، اس نے ہمیں حیرت زدہ ہی نہیں بلکہ سڑک پر ننگا کر دیا ہے۔ سیکنڈ میں ہماری تہذیب ہزاروں سال آگے پہنچ گئی۔ ٹائم مشین کے بارے میں سنتے تھے نا۔ بس دیکھتے ہی دیکھتے ہماری نظر کے سامنے ایک دو برس میں ہمارے بچّے فیوچر کی ٹائم مشین میں داخل ہو گئے۔ یہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا ہے کہ ہم سمجھ ہی نہیں سکے۔ نہ بچے سمجھ سکے۔ نہ بچّوں کو ہمیں جاننے یا پڑھنے کی فرصت ملی۔ نہ ہم بچّوں کی نفسیات اور اُن کے ذہنی افق تک پہنچ سکے۔ ”

اب آتے ہیں اس 12 سال لڑکے روی کنچن جو کہ مجرم ہے؟ کیا وہ مجرم ہے؟ وہ تو آج کا وہ معصوم بچّہ ہے جو کہ صرف گیم کی دنیا میں جیتا ہے۔ پوکے مان اس کا پسندیدہ کردار ہے۔ جاپانی کمپنی کا بنایا ہوا یہ کارٹون۔ پو کے مان۔ اس کارٹون نے روی کی دنیا میں اتنی جگہ بنا لی ہے کہ وہ اسی میں خود کو دیکھتا اور رہتا ہے۔ وہ اتنی معلومات رکھتا ہے کہ آپ حیرت زدہ ہو جائیں گے۔ پھر اس نے یہ کیسے انجام دے ڈالا، جو کہ ایک بالغ ذہن ہی کر اور سوچ سکتا ہے؟

پورا ناول اسی کشمکش اور پیچیدگی کو بیان کرتا ہے اور اس بچّے کے ذہن اور نفسیات سے پورا انصاف کرتا ہے۔ دراصل یہ آج کے والدین کی بھی حقیقت اجاگر کرتا ہے کہ محض بچّوں کو اچھا اسکول دلانا اس کی ساری فرمائشیں پوری کر نا پھر اسے آیا کے سپرد کر کے یہ سمجھنا کہ اپنا حق ادا کر دیا۔ آج کے والدین صرف پیسہ کما کر بچّے کا مستقبل محفوظ کرنے میں مشغول ہیں۔ اُنھیں اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں کہ بچّے پر وقت بھی صرف کرنا پڑتا ہے۔

اُسے باپ کے پیسوں سے زیادہ اُن کے وجود کی، آغوش کی اور محبت کی ضرورت ہے۔ مگر یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی والدین انجان بنتے ہیں۔ دراصل آج کے والدین اپنی خواہشوں کے غلام ہیں اُنہیں صرف اپنی عیش اور مستی سے ہی سروکار ہے۔ پھر اُسکے نتیجے چاہے کتنے خطرناک کیوں نہ ہوں؟ وہ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ والدین بن نے کے بعد اپنی بہت سے عادتوں اور خواہشوں پر قدغن بھی لگانا ہوتا ہے۔ بہت چوکنا ہونا ہوتا ہے۔ ہوشیار اور چالاک ہونے کے ساتھ آج کی بدلتی دنیا سے بھی آگاہ ہونا پڑتا ہے۔ انٹرنیٹ کی آسان پہنچ سے بچّوں کو کتنا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اس سے بھی نبرآزما ہونا پڑتا ہے۔

اب سونالی کا کردار آتا ہے۔ جو کہ بظاہر مظلوم جان پڑتی ہے مگر ہے نہیں۔ اسے تو احساس ہی نہیں کہ کیا ہوا ہے اس کے ساتھ۔ یہ بچّے وہ ہی کر رہے ہیں جو اُنھیں اپنے آس پاس آسانی سے دیکھنے کو مل رہا ہے۔

آج کے بچّے صرف تجربہ کرنا جانتے ہیں وہ کچھ بھی ہو کیوں کہ قدرت نے ان کو تجسّس عطا کیا ہے اور یہ اسی تجسّس میں ہی سارے تجربوں سے گزر جانا چاہتے ہیں، پھر چاہے وہ ان کی عمر کا حصہ ہو یہ نہ ہو۔ یہ بچی جس ماحول کی پیداوار ہے وہاں اسے وہ سب کچھ آسانی سے میسر ہے جو کہ ان کے معصوم ذہنوں کو وقت سے پہلے بلوغت کی دہلیز پر کھڑا کر دیتا ہے۔ سونالی کا باپ چنگی رام جو اپنی سیاسی حیثیت بنانے کے لیے اپنی بیٹی کو بھی نہیں چھوڑتا اور اسے سیاست کا موہرا بنا دیتا ہے۔

جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیاست کی راہیں کتنی غلیظ ہیں۔ پارٹیاں اپنا نام اور کرسی کی لالچ میں کس قدر گر سکتی ہیں اس کو اس ناول نے بخوبی پیش کیا ہے۔ حکمران کو کِسی انسا نی ذات، مذہب سے کوئی سروکار نہیں نہ ہی انہیں یہ پرواہ ہے کہ کس کے ساتھ کیا نا انصافی ہو رہی ہے وہ صرف مد عوں سے کھیلنا جانتی ہے اور وقت کے ساتھ مسائل کو کیش کرنا جانتی ہے۔

ریفارم ہاؤس کی بھی سچائی اس ناول کی خاصیت ہے وہ کس قدر برباد ہو چکے ہیں اس کا اندازہ کئی واقعات کراتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر بچّے کی اصلاح نہیں بلکہ ایک مجرم کی پیدائش ضرور ہو سکتی ہے۔

ناول میں مشرف عالم ذوقی نے ایک جج کے کردار کے ذریعے بہت کچھ بیان کیا ہے جو اس عہد کی سچائی ہے۔ آج کے انٹرنیٹ اور ٹیکنلوجی کے دور میں بچپن کتنا غیر محفوظ ہے اور کس قدر بھیانک نتائج دیکھنے کو مل سکتے ہیں اس کو بہت عمدہ طریقے سے پیش کیا ہے۔

اور آخر میں ناول کا سب سے خوبصورت حصہ جو کہ ذاتی طور پر میرا پسندیدہ ہے۔ حالانکہ جج سنیل کمار سے کیس لے لیا جاتا ہے مگر وہ خوابی اور نیم خوابی کیفیّت میں اپنا فیصلہ پڑھتے ہیں۔

یہاں ناول نگار نے اپنے خاص طریقے سے جج کی زبانی اپنے موقف اور خیال کو باندھا ہے۔ یہاں حقیقت بھی ہے فلسفہ بھی، سماجیات بھی ہے، معاشیات کی بازیگری ہے تو نفسیات کی پیچیدگی بھی۔ ڈارون کے فلسفے کی نئی تشریح ہے تو نئی تہذیب کا ماتم بھی۔ کبھی شیکسپئر زندہ ہوتا ہے تو کبھی سگمنڈ فرائیڈ آج کے دور کی ضرورت بن جاتا ہے۔

جج جذباتی انداز میں واضح کرتا ہے کہ ہم بازار کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ نئے اصول بنائے جا رہے ہیں۔ نئے نظام، نئی سیاست اور نیا بازار جنم لے رہا ہے۔ جھوٹ اور سچ کی تعریفیں بدل گئیں۔ بچّوں کے کھلونے بدل گئے ان کی دلچسپیاں تبدیل ہو گئیں اب ہتھیار اُن کے کھلونے ہیں۔ اُنھیں تشدد پر مبنی کھیل دیکھنے میں مزہ آتا ہے۔ 10 سال پہلے جاپانی کمپنی نے ایک ایسا گیم تیار کیا اور دیکھتے دیکھتے یہ گیم اور اس کے کردار بچّوں کے حواس پے چھا گئے۔ بچّے اپنے اصلی ہیرو بھول گئے اپنی کہانیاں بھول گئے۔ ان کمپنیوں کا ٹارگٹ ہی ہیں ہمارے بچّے۔ جج ہمارے حکمران پر بھی چوٹ کرتے ہیں کہ ان کا مقصد صرف منافع کمانا اور عیش کرنا ہے۔

اور آخر میں جج صاحب بہت ہی عمدہ فیصلہ سناتے ہیں۔

”میں پورے ہوش و حواس میں یہ فیصلہ سناتا ہوں کہ تعزیراتِ ہند، دفعہ 302 کے تحت۔ میں اس نہیں ٹیکنالوجی، ملٹی نیشنل کمپنی، کنزیومر ورلڈ اور گلوبلائیشن کو سزائے موت کا حکم دیتا ہوں۔ ہینگ ٹیل ڈیتھ۔“

بلا شبہ ناول اپنے اسلوب اور موضوع کے لحاظ سے منفرد ہونے کے ساتھ دلچسپ بھی ہے۔ ناول نگار نے حقیقت اور فنتاسی کے امتزاج سے ناول کا تانا بنا ہے۔ ذوقی کا ذہن مستقبل کا سفر کرتا ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ اُنہوں نے جو بھی لکھا وہ واقع بھی ہوا ہے۔ اُن کا قلم بیباک بھی ہے اور جرات مند بھی۔ وہ محض تفریح کے لیے نہیں لکھتے بلکہ اس عہد کے پیچیدہ مسائل کو اُسکے اصلی رنگ میں دنیا کے سامنے رکھتے ہیں، پھر چاہے ادب کی روایتوں سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔

بہت ہی عمدہ ناول، اسے ہر قاری کو پڑھنا چاہیے۔ والدین کو تو ضرور، تاکہ وہ کچھ عبرت حاصل کر سکیں کیوں کہ بچّوں کے مستقبل کو اُنھیں ہی محفوظ رکھنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words