کچھ سوال مولانا صاحبان کی خدمت میں
کوئی بھی کام اپنے سے خراب ہو جائے تو فوراً خرابی کا رخ دوسرے کی طرف موڑ دیتے ہیں کہ فلاں شخص کی وجہ سے خراب ہوا ہے۔ اپنے اوپر آئی مصیبت کی وجہ بھی دوسروں کو قرار دے کر خود معصوم و مظلوم بن جاتے ہیں۔ کسی بھی غلط کام کا ملبہ دوسروں پہ ڈالنا بہت آسان ہے اور اس سے بھی آسان ہر بھلائی کا کریڈٹ خود لینا ہے، اکثریت لوگوں کی ہر اچھا کام اپنے کھاتے ڈالنے کی کوش کرتی ہے کہ یہ اچھائی ان کی وجہ سے ہوئی، اور وہ شخص جس نے اصل محنت کی ہوتی ہے وہ منہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔
اور یہ عادت فرد واحد کی نہیں ہر کوئی یہی کرتا ہے۔ یہی حال وبا کے دنوں میں بھی ہے ہر ملک وائرس کا ذمہ وار دوسرے ملک کو ٹھہرا رہا ہے۔ امریکہ چین کو، بھارت مسلمانوں کو اور پاکستان میں تو حد ہو گئی الزام کسی ایک پہ رک ہی نہیں رہا۔ ہمارے ہاں تو الزام لگانے پر بھی اتفاق نہیں یہی دیکھ لیں کوئی ایران سے آئے زائرین کو، کوئی اٹلی سے آنے والوں کو، کوئی رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع کو اور مولانا حضرات صرف پاکستانی عورتوں کی بے حیائی کو اس وبا کے پھیلاؤ کی وجہ کہہ رہے ہیں۔
اب ان میں سے کس کو درست مانا جائے۔ سب سیاسی بیان ہیں سو ان پہ مٹی ڈالیں اور آگے بڑھ جائیں۔ لیکن مولانا غیر سیاسی ہوتے ہیں سو ان کا بیان غور طلب ہے۔ ممکن ہے جو مولانا نے فرمایا وہ درست ہو کہ علما کرام سے اختلاف کی جرات کم از کم مجھ میں تو نہیں۔ اختلاف کرنے کے لئے موثر دلیل بھی ہونی چاہیے اور میرے پاس ایسے ٹھوس شواہد نہیں جو انھیں غلط ثابت کریں۔ علما کا علمی قد بڑا ہے اور میرا علم بہت محدود ہے۔ اور پھر مولانا جھوٹ نہیں بولتے ممکن ہے جو فرمایا درست ہو۔
البتہ کچھ سوالات نے مجھے مخمصہ میں ڈال دیا ہے۔ چھوٹا منہ بڑی بات علما کی محفل میں بولنا آداب کے خلاف ہے ان کو صرف سننا چاہییے۔ لیکن کچھ باتوں نے مجبور کر دیا ہے کہ میں سوال پوچھنے کی جسارت کر بیٹھی ہوں۔ میرے چھوٹے سے ذہن میں بڑی الجھنیں آگئی ہیں خیال ہے شاید کوئی ”صاحب علم“ انھیں سلجھا دے تو زندگی کچھ آسان ہو جائے۔
تو حضور سوال یہ ہیں کہ ایساکیوں ہوتا ہے کہ ہر مصیبت یا آفت کو عورتوں کی بے راہ روی سے منسوب کر دیا جاتا ہے ۔ میرے ناقص علم کے مطابق ساری عورتیں تو بری نہیں ہوتیں۔ ان میں بہت ساری پاکیزہ عورتیں بھی ہیں، کچھ ایسی بھی ہیں جو سادات گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ تو پھر اگر بری عورتوں کی وجہ سے آفت نازل ہوئی ہے تو نیک باحیا بیبیوں کی وجہ سے ٹل کیوں نہیں جاتی۔
پھر ایک سوال یہ بھی ذہن میں ڈنک مارتا ہے کہ آفت کسی مرد کی وجہ سے کیوں نہیں آتی کہ کچھ بھی ہے عورت کی بے راہ روی تو مرد ہی کے کام آتی ہے۔ عورت پاکیزہ ہو یا بے حیا اس کا تعلق تو مرد ہی سے قائم ہوتا ہے۔ تو کیا یہ ممکن ہے کوئی آفت مردوں کی وجہ سے بھی آتی ہو۔
بہت معذرت کے ساتھ اسے بے ادبی ہرگز نہ سمجھا جائے، خدشہ ہے ایسا پوچھنا کہیں گستاخی کے زمرے میں نہ آجائے لیکن خدا جانتا ہے یہ سوال کسی کی اہانت کے لئے ہرگز نہیں صرف اپنی ذہنی الجھن کو دور کرنے کے لئے ہے سوال اس مختصر سے ٹولے سے متعلق ہے۔ وہ ٹولہ بھی چونکہ اسی معاشرے کا حصہ ہے تو اسی لئے یہ سوچ تنگ کرتی ہے کہ آفتیں، مصیبتیں ان چند معلموں کی وجہ سے کیوں نہیں آتیں جو مدرسہ میں مقدس کتاب کی تعلیم دینے آتے ہیں لیکن مسجد اور قرآن دونوں کی حرمت پامال کرتے معصوم طالبعلموں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناڈالتے ہیں۔
سوچتی ہوں اس وقت آسمان کیوں نہیں گرتا جب کوئی منبر پہ چڑھنے والا مولوی سبق پڑھاتے اپنی طالبات کو نا مناسب انداز میں چھوتا ہے۔ اور آفتیں اس وقت کیوں نہیں آتیں جب جنت اور حوروں کا لالچ دے کر سیدھے سادھے لوگوں سے اسلام کے نام پر خود کش حملے کروا کر بے گناہ مسلمانوں کو مروا دیا جاتا ہے۔ عذاب ان کی وجہ سے کیوں نہیں آتا جب کوئی مولانا صاحب ناگزیر وجہ سے کسی مسئلہ پر کسی کا من پسند فتوی دے دیتے ہیں۔ اور یہ فکر بھی ستاتی ہے کہ عذاب تو ان کی وجہ سے بھی آنا چاہیے جب کوئی دین کا ٹھیکیدار منبر رسول پہ بیٹھ کر دوسرے مسلک پر لعن طعن کر رہا ہوتا ہے، یا وہ علامہ جو تبرے بازی کرتا ہے۔
کبھی کبھی یہ خیال بھی ستاتا ہے کہ دین میں جبر نہیں بتانے والے مولوی جبرا طلبا کو قرآن کیوں حفظ کرواتے ہیں، جبکہ ان میں سے کئی معصوموں کا ذہن اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ اتنی بڑی کتاب یاد کر سکیں۔ لیکن معلم قرآن اس قدر بے رحمی سے مارتے ہیں کہ معصوموں کی ہڈیاں چٹخ جائیں، مار مار کر انھیں زبردستی حفاظ تو بنا دیتے ہیں لیکن ذہنی استعداد کم ہونے کی بنا پر طلبا بعد میں قرآن بھول جاتے ہیں۔ ایسے معلم کیوں نہیں سمجھتے کہ اگر بچے کو قرآن یاد نہیں ہو رہا تو اسے وہ پڑھنے دیا جائے جو اس کا ذہن قبول کر لے۔ کیا اس طرح ڈنڈے کے زور پہ طوطے کی طرح زبانی قرآن رٹوانا جائز ہے۔
اور پھر وہ جو حرام کھانے سے منع کرتے ہیں تو کیا مدرسے کے نام پہ آئے صدقات و خیرات ان منتظمین پہ حلال ہوتے ہیں جو صاحب استطاعت ہوں۔ اور یہ بھی پوچھنا تھا کہ جب کوئی عذاب آتا ہے تو کیا عذاب آنے سے پہلے اللہ اپنے نیک بندوں کو اس بستی سے نکال نہیں لیتا۔ اور کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ عذاب عورتوں کی بے حیائی کی وجہ سے نہیں ان پر بہتان لگانے، ظلم ڈھانے والوں کی وجہ سے آئے۔
میرے ان سوالوں سے اگر کوئی یہ سمجھے کہ کسی عورت کی حمایت میں سوال کیے یا کسی مولانا کی شان میں گستاخی کر رہی ہوں تو خدارا ایسا کچھ نہیں ہے۔ میں تو ایک ادنی سی طالبہ ہوں جو جاننے کی جستجو میں نکلی ہوں، علم کی متلاشی ہوں۔ میری تو بس عاجزانہ سی درخواست ہے کہ کوئی ”صاحب علم“ مجھ جیسی جاہل ان پڑھ کو اپنے علم کی روشنی عطا کرے اور سوالوں کے جوابات بتا کر مجھے ذہنی طمانیت بخشے۔
اسکے ساتھ ایک عاجزانہ سی درخواست یہ بھی کہ اگر کوئی صاحب علم جوابات بتاتا ہے تو ساتھ کسی طرح ان ناصحین کی اصلاح کا طریقہ بھی بتادے جو منبر پہ بیٹھ کے دوسروں کے ایمان کو تو ترازو میں خوب تولتے ہیں۔ ان کو سب پتہ ہوتا ہے کہ کون جنتی ہے یا کون جہنمی۔ جبکہ ان کے اپنے اعمال کاپلڑا بھی کہیں ڈگمگا رہا ہوتا ہے۔


