علمائے دین کے پاس کیا حل ہے؟


وبا کے دنوں میں مولانا طارق جمیل صاحب کی جانب سے پاکستانی معاشرے، عوام اور میڈیا کے خلاف جاری کیے گئے، متنازعہ فتؤوں پربہت سے سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ مولانا صاحب کی برملا معافی کے باوجود بلاگرز، رائٹرز اور اینکرز کے سوالات کی بارش جاری ہے۔ اس باب میں سب سے بڑا سوال ایک فکری قضیہ ہے جو چند علمی حلقوں کی طرف سے ان کو در پیش ہے۔ وہ یہ ہے کہ مولانا صاحب ثابت کریں کہ کرونا کی موجودہ وبا کی وجہ پاکستانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی ہے۔

تا حال مولاناصاحب کی طرف سے کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔ کیونکہ وہ مذہبی پیشوا ہیں اور مذہبی نقطہء نگاہ پر قائم رہنے میں اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔

یہاں پر میں ایک مختصر مگر مختلف تجزیہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔

بلا شبہ اس بارے کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ کسی معاشرے کی معاملات کے حوالے سے اخلاقی گراوٹ اس کے لیے ضرر رساں ضرور ہوتی ہے اور جو اقوام جھوٹ، فریب، چوری، دھوکہ دہی اور کرپشن کو اپنا وتیرہ بنا لیتی ہیں ان قوموں کو اس کا خمیازہ اقتصادی خسارے اور مالی بد حالی کی صورت بھگتنا پڑتا ہے۔ پھر ایسی اقوام مخیر قوموں سے قرضے لے کر اپنا ملک چلاتی ہیں اور قرضہ عطا کرنے والی قوموں کے سامنے دست نگر رہنے کے عذابِ مسلسل میں مبتلا رہتی ہیں۔ اگر قومی سطح پر دیکھا جائے تو اس سے بڑی آفت کیا ہوگی کہ جو وسائل لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونے چاہیئں وہ بیرونی قرضوں کی قسطیں ادا کرنے پر اُٹھ جاتے ہیں۔

ایسی سزاؤں سے بچنے کے لیے، قومیں اپنے لیے آئین اور قوانین متعین کرتی ہیں۔ اور اخلاقی جرائم کے سدباب کے لیے سخت سے سخت سزائیں مقرر کرتی ہیں۔ جیسا کہ ملکِ چین میں کرپشن، یعنی بد عنوانی کی سزا، موت ہے۔

اس کے بر عکس قدرتی آفات کا آنا اور وبائی امراض کا پھیلنا یکسر دوسرا مسئلہ ہے۔ اس کا معاشرے کی بے حیائی جس کی کوئی حتمی تعریف بھی نہیں ہے، کوئی تعلق نہیں ہے۔ مزید بر آں امید کی جا رہی ہے کہ یکم ستمبر تک پاکستان اس وبا پر مکمل قابو پا لے گا۔ مولانا سے اگلا سوال یہ ہو سکتاہے کہ کیا اس کے بعد پاکستان سے بے حیائی کا خاتمہ ہو جائے گا؟

اب اگر ہم صرف ”بے حیائی“ کی اصطلاح پر بات کریں تو بلوچستان کے ضلع چاغی کے کسی گاؤں میں برقعے میں ملبوس ہو کر کام کرنے والی لڑکی کی نظر میں کوئٹہ شہر کی لیاقت مارکیٹ میں شاپنگ کرتی خاتون بے، حیا ہے۔ جب کہ کوئٹہ والی خاتون، کراچی ٹیلی وژن کے ڈرامے میں کسی فرضی دوست کے ساتھ کھلے عام گھومنے پھرنے والی ٹی وی آرٹسٹ کو بے حیا گردانتی ہے اور آگے چلیں تو ٹی وی و پر کام کرنے والی خاتون کو کسی فلم میں موسیقی پر رقص کرتی لڑکی سے زیادہ بے حیا دنیا میں کوئی اور نہیں دِکھتی۔ یہی معاملہ مرد حضرات کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔

اب یہ فیصلہ کون کرے گا کہ بے حیائی کی حتمی تعریف ہے کیا؟ یا، کیا بے حیائی کس جنس سے منسوب ہے، لباس سے، وضع قطع سے یا کسی خاص عمل سے؟ ہماری رائے میں بے حیائی یا Vulgarity کا تعین ملک کے قوانین کو کرنا چاہیے اور ان قوانین کو صرف معروضی حقائق کو مد نظر رکھ کر بنایا جانا چاہیے۔

تمام مذاہب اور ان کے پیروکار میرے لیے قابلِ احترام ہیں۔ مگر مذاہب عقائد و عبادات و اخلاقیات کا پیکج ضرور دیتے ہیں لیکن ان کے پاس دور حاضر کے معروضی مسائل کا کوئی حل نہیں ہوتا اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مذہبی عقائد اور نظریات اپنی ہئیت میں ساکن، بے لچک اور جامد ہوتے ہیں جب کہ انسانی معاشرے ہر دم متحرک اور تغیر پذیر ہوتے ہیں۔ پھر مذہب میں توبہ کی صورت میں معافی کی گنجائش موجود ہے۔ اس لیے وہ جرائم کے قطعی خاتمے سے قاصر رہتے ہیں۔

دنیا کی قوموں کے خوشحالی کے معیارات پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ جن اقوام نے مذہبی معاملات کو ریاستی معاملات سے الگ رکھا ہوا ہے وہ ترقی و خوش حالی میں ان اقوام سے بہت آگے ہیں جہاں پر امور مملکت میں مذہب کا عمل دخل ہے۔ اس سلسلے میں چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں :

گزشتہ سال کے ٹرانسپیرنسی ا نٹرنیشنل کے سروے کے مطابق دنیا کے ایک سو اسی ممالک میں سے سب سے دیانتدار ترین ملک ڈنمارک ہے اور سب سے زیادہ سچے لوگ نیوزی لینڈ کے عوام ہیں۔ ان دونوں ممالک میں مذہب شہریوں کا ذاتی معاملہ ہے۔ اور اتفاق سے دونوں ممالک غیر اسلامی ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ دنیا کی کرپٹ اور بد دیانت ترین قوم ایک افریقی ریاست ”صومالیہ“ کے لوگ ہیں۔ صومالیہ کے آئین کے مطابق ملک کا کوئی قانون اسلامی شریعت سے متصادم نہیں ہو سکتا۔

اگر مذہب کے پاس مسائل کا حل ہوتا تو وہ قومیں سب سے زیادہ ایماندار ہوتیں جہاں کا نظامِ حکومت مذہبی بنیادوں پر قائم ہے۔ مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

اقوامِ یورپ کو اس بات کا ادراک چودھویں صدی میں ہو گیا تھاوہاں پر مذہبی عقائد اور جدید سوچ، لٹریچر، آرٹ اور فلسفے میں کشمکش دو سو سال تک جاری رہی بالآخر چرچ کو ریاست سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اس عمل کو (Renaissance) یعنی ”حیاتِ نو“ کا نام دیا گیا تھا۔ جب تک ہمارے ملک میں مذہب کو ریاستی معاملات سے الگ نہیں کیا جاتا، یہ مباحث اسی طرح جاری رہیں گے۔

ہماری حقیر رائے میں وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ اپنی ٹیم میں فلسفیوں، دانشوروں، اقتصادی اور طبی سائنسدانوں کو شامل کریں جو اپنے اپنے شعبے کے پاکستان میں بہترین اشخاص ہوں۔ وزیر اعظم صاحب سے موودٔبانہ گزارش ہے کہ ملکی معاملات کو۔ ”کُشتہ ِ سُلطانی و مُلّائی و پیری“ کی مدد سے حل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اس ضمن میں علامہ اقبالؔ کا پورا شعر کچھ یوں ہے :
باقی نہ رہی وہ تیری آئینہ ضمیری
ُاے کُشتہ ِ ُسلطانی و ملاّئی و پیری

Facebook Comments HS