بس کریں، قاتل پکڑیں پی ٹی ایم کو اور لاش نہ دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عارف وزیر، علی وزیر کا چچا زاد بھائی تھا۔ علی سے زیادہ کھل کے بولتا تھا، جو منہ آتا کہہ دیتا تھا۔ افغانستان گیا تو وہاں کابل میں میں بہت کچھ کہتا رہا۔ ایک تقریب میں اس نے کہا کہ اگر کوئی مجھے پاکستانی بولے تو اس کے پشتون اور افغان ہونے میں شک ہے۔ طالبان نے امریکہ سے صلح کر لی، ملا عمر اچھا آدمی تھا، اچھا ہوتا کہ یہ امریکہ کی بجائے افغانوں سے صلح کر لیتے۔ جس نے افغانستان تباہ کیا وہ میرا بھائی بھی ہو تو اسے نہیں چھوڑیں گے۔

یہ دو چار جملے بتانے کو کافی ہیں کہ اس نے کیا کچھ کہا ہو گا۔ یہ کسی سیاسی کارکن کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ کسی بہت کتابیں پڑھنے والے بندے کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ ایک ایسا عام انسان ہے جس نے بہت کچھ بھگتا ہو۔ اس کے بعد جو کچھ سمجھا۔ جس نتیجے پر پہنچا۔ اس کو پھر ویسے ہی بیان کرنے لگ گیا۔

علی وزیر خود سٹیج پر کھڑا ہو تو جو دل آئے وہ بولنے لگتا ہے۔ پی ٹی ایم کے کارکن کے اظہار میں شدت ہے۔ علی وزیر کی باتوں سے خود پی ٹی ایم والوں کے لیے اتفاق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ ایسا ہی ہے اور ایسے ہی بولتا ہے۔

عارف کابل سے واپس آیا تو علی وزیر نے اس کی خوب ڈانٹ ڈپٹ کی۔ اسے غصہ کیا کہ تمھیں یہ سب کہنے کی کیا ضرورت تھی۔ پی ٹی ایم والوں نے اس کی الگ سے کھچائی کی۔ عارف کی جہاں پی ٹی ایم والوں سے ملاقات ہوتی اس کے کابل دورے پر ضرور اس کو سنائی جاتیں۔

عارف وزیر پر کل اپنے گاؤں کے قریب حملہ ہوا۔ اسے زخمی حالت میں اسلام آباد منتقل کیا جا رہا تھا جب اس نے دم توڑ دیا۔

ابھی  اسے ہسپتال منتقل ہی کیا جا رہا تھا، وہ زخمی تھا اور سانس ابھی باقی تھیں کہ اس کے حوالے سے اک مہم شروع کر دی گئی۔ جس میں کچھ ناروا باتوں کے علاوہ یہ بھی لکھا تھا کہ علی وزیر کے ساتھ اس کی نہیں بنتی تھی۔

جب عارف جیل سے رہا ہوا تو علی اس کو لینے نہیں گیا۔ ایسا تاثر دیا جانے لگا جیسے ان کی آپس میں دشمنی تھی۔

ایسا کچھ نہیں تھا جو بھی یہ میسیج پھیلا رہے تھے وہ قبائلی مزاج کو رواج کو ہی نہیں سمجھتے۔ علی وزیر عارف کو یا اپنے کسی دوسرے کزن کو جیل سے رہا ہونے پر لینے نہیں جاتا تھا۔ سادہ سی وجہ تھی کہ اگر وہ اپنوں کو لینے جاتا تو پھر اسے ہر کسی کو لینے جاتے رہنا تھا۔ پی ٹی ایم والوں کی آون جاون لگی رہتی ہے۔

عارف کا علی وزیر سے احترام کا تعلق تھا۔ وہ اس کے سامنے بولتا تک نہیں تھا۔

پاکستان بائیس کروڑ لوگوں کا ملک ہے۔ اس کے قیام کے وقت ہمارے مختلف صوبوں میں کئی مضبوط تحریکیں ایسی تھیں جو قیام پاکستان کی حامی نہیں تھیں۔ ان تحریکوں سے وابستہ لوگوں نے کہیں اپنا پرانا موقف برقرار رکھا کہیں حقیقت پسند ہوئے۔ سیاسی جماعتوں کی صورت اختیار کی اور پارلیمانی نظام کا حصہ بن گئے۔

آج بھی ان کا موقف قیام پاکستان کے حوالے سے مین سٹریم سے الگ ہے۔ فاٹا کے لوگ پہلے دن سے پاکستان اور اس کے مرکز سے جڑے رہے۔ سب سے پہلے کشمیر کے لیے بندوق انہوں نے اٹھائی۔ افغانستان کے بارے میں ریاستی پالیسی ٹھیک تھی یا غلط یہاں سے مرکزی پالیسی کی حمایت کی گئی اور اکثر جان دے کر۔

قبائل نے ہر ٹھیک غلط موقف پر وفاق کا ساتھ دیا۔ ہم نے جو نعرہ لگایا اس کے لیے خون کا خراج فاٹا کے لوگوں نے ہی دیا۔

جب ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن شروع ہوئے۔ لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا۔ وہ واپس آئے۔ ان کی بہت سی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ امیدیں ٹوٹیں، کئی جگہ انہیں زیادتی محسوس ہوئی تو ایسے میں پی ٹی ایم کا قیام عمل میں آیا۔

یہ قبائلی نوجوانوں کی تحریک تھی۔ ان سے اگر مگر قسم کے بدلتے ہوئے سیاسی بیانوں اور اپنے موقف کی آسانی سے تبدیلی کی توقع ہی فضول تھی۔ پی ٹی ایم والے اتنے سیدھے خیالات رکھتے ہیں کہ وہ سیاسی جماعتوں سے کوئی مطالبہ تک نہیں کرتے۔ طاقت کے اصل مرکز کو ہی مخاطب کرتے ہیں۔ اسی کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔

معاملہ نازک ہے اور بہت احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ ریاست کو دل بہت بڑا رکھنا اور برداشت دکھانی ہے۔ سنہ ستر میں جو لوگ کابل جا بیٹھے تھے۔ انہیں بیس سال لگ گئے تھے پارلیمنٹ آتے، نارمل ہوتے۔ ان میں سے کچھ کو پھر ہم نے مزید پندرہ سال بعد پرویز مشرف کا حامی ہوتے بھی دیکھا۔

وقت بدل جاتا ہے، تحریکوں کی بھی عمر ہوتی ہے۔ پیدا ہوتی جوان ہوتی دم توڑتی رہتی ہیں کبھی شکل بدل کر زندہ بھی رہتی ہیں۔

عارف وزیر کے قاتل گرفتار کیے جائیں۔ انہیں سامنے لایا جائے۔ اس حملے کی جو بھی وجہ تھی وہ بھی بتایا جائے۔ یہ سب کا ملک ہے۔ ان کا بھی جو ناراض ہیں، جو اس کے خلاف ہیں، حتیٰ کہ جو اس کے وجود سے ہی انکاری ہیں۔ سب کو انصاف ملتا رہے تو ملک مضبوط ہی رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 379 posts and counting.See all posts by wisi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *