تحریر کا عنوان اور ڈیجیٹل جوتا چھپائی کی رسم
ادبی، اخباری اور ڈیجیٹل دنیا بہت مختلف ہیں۔ جس نے پلے سے پیسہ خرچ کر کے اخبار یا رسالہ خرید لیا وہ اسے چاٹنے پر مجبور ہے۔ جو ادیب یا کالم نگار بڑا نام بن گئے ان کا نام ہی بہت ہے۔ نام کو دیکھ کر ہی بندہ پڑھ لیتا ہے کہ کیا لکھا ہے۔ ویسے بھی ایک اخبار میں دس کالم ہوتے ہیں۔ ایک جریدے میں دس سے بیس مضمون ہوتے ہیں۔ ڈائجسٹ کا بھی یہی حال ہے۔ جس نے لے لیا اسے پڑھنے کے لیے عنوان پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
ڈیجیٹل دنیا میں مقابلہ سخت ہے۔ ”ہم سب“ کے فرنٹ پیج پر سو کے قریب مضامین ہوتے ہیں۔ اور ”ہم سب“ صرف ایک ویب سائٹ ہے۔ دس اور دوسری ویب سائٹس بھی ہیں۔ ان کے ایک دن کے مضامین نکالیں تو بہت محتاط اندازے کے مطابق بھی چار چھے سو تو بن جاتے ہوں گے، ویسے تو کہیں زیادہ ہوں گے۔
اگر مصنف اب اپنی تحریر کا عنوان دے دے ”اداسی“ ، ”انتظار“ ، ”کہیں ایسا نا ہو“ ، ”بس بہت ہو گئی“ ، ”کدوکش“ ، وغیرہ وغیرہ، تو ایک ایسا آدمی جسے صرف آج کے دن میں چھے سو مضامین نیٹ پر دستیاب ہیں اور پرانے بے شمار ہیں، وہ کدوکش پر کیوں کلک کرے گا؟
کیا لکھنے والا اپنے گزشتہ ریکارڈ کی بنیاد پر اتنا بڑا مصنف قرار پا چکا ہے کہ اس کا کدوکش، پڑھنے والا اسی دلچسپی سے دیکھے گا جس سے منٹو کا ”کھاد“ یا ”جوتا“ دیکھتا ہے؟ اگر نہیں تو یہ مضمون کدوکش ہو گا اور پڑھے بغیر پڑا رہے گا۔
ادیب تو خیر نازک مزاج ہوتے ہیں اس لیے ادبی جرائد کے مدیران ایسی جسارت ہرگز نہیں کرتے، مگر اخبارات اور رسائل میں عنوان طے کرنا مدیر کا کام ہوتا ہے۔ وہ مصنف کا دیا گیا عنوان بھی لگا سکتا ہے اور اپنی مرضی سے بھی کچھ عنوان دے سکتا ہے۔ ایسے اخبارات یا جرائد جنہوں نے دن کے آٹھ دس مضامین شائع کرنے ہوں، ان کے لیے تو یہ ممکن ہے کہ ان آٹھ دس مصنفین سے رابطہ کر کے باہمی ایڈیٹنگ اور عنوان کی تبدیلی وغیرہ پر تبادلہ خیال کر لیں، مگر ہم سب جیسے ادارے جو دن میں سو سے زائد مضامین بھی شائع کرتے ہیں، وقت کی کمی کے باعث عموماً ایسا نہیں کر سکتے۔
ڈیجیٹل دنیا میں عنوان کی اہمیت زیادہ سخت مقابلے کی وجہ سے زیادہ ہوتی ہے۔ ”ہم سب“ کی کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم عنوان پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ مضمون جتنا زیادہ اچھا ہو، اسے اتنا ہی اچھا عنوان ملنا چاہیے جو پڑھنے والے سے کنیکٹ کر سکے۔ اور مضمون اگر برا ہو تو پھر تو اسے یہ فرسٹ ایڈ دینا زیادہ اہم قرار پاتا ہے۔
”ہم سب“ کے ابتدائی چھے ماہ کے عنوانات دیکھیں تو ادبی اور معنوی لحاظ سے وہ کمال ہیں۔ وجاہت مسعود کا ادب و شاعری کا مطالعہ ان میں مجسم دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد انہیں میں نے خراب کر دیا۔ جب انہوں نے تجربے سے دیکھا کہ ادبی عنوان کو سمجھنے والے کم ہیں اور اب ریڈر کا مزاج ایک مختلف قسم کے عنوان کا تقاضا کرتا ہے جو مضمون کی بہتر تفہیم کرے تو انہوں نے ڈیجیٹل دنیا کے مطابق خود کو تبدیل کیا۔
کئی مصنفین اس چیز کو سمجھنے سے انکاری ہوتے ہیں۔ ان کا یہی خیال ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے مضمون کا نام منٹو کی طرح جوتا رکھ دیا ہے تو یہ جوتا چل جائے گا۔ ان سے پوچھا جائے کہ اس عنوان کا کیا مطلب ہے اور اس سے کیا پتہ چلتا ہے، تو عموماً کچھ یوں بتاتے ہیں ”جوتا کا مطلب ہے کہ یہ ایک مظلوم بچھڑی کی کہانی ہے جو بڑی ہوئی تو بچھڑی سے گائے بن گئی اور پھر جب وہ گائے دودھ دینے کے قابل نا رہی تو اسے قصائی کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا جس نے اس کی کھال بیچ دی جو ٹینری میں جا کر چمڑا بن گئی اور اسے جوتا فیکٹری والوں نے خرید کر جوتا بنا دیا۔ یہ عنوان دیکھنے والا فوراً سمجھ جاتا ہے کہ یہ مضمون ان بچھڑیوں کے مصائف و آلام کو بیان کرتا ہے جو گائے بن گئی تھیں۔“
لفظ جوتا سے فاضل مصنف کو تو یہ سب کچھ معلوم ہو سکتا ہے، ایک عام شخص اتنا قابل نہیں ہوتا۔ اس کی سہولت کا خیال رکھنا چاہیے۔
ایسے مصنفین سے بحث کرنے سے بہتر ہوتا ہے کہ ہم جوتا چھپا دیں اور ویب سائٹ کو اس سے محفوظ و مامون رکھیں۔ ہمارے پاس مضامین پڑھے جانے کی لمحہ بہ لمحہ فگرز آ رہی ہوتی ہیں۔ پورا ٹریک ہوتا ہے کہ پچھلے مہینے یا سال میں کون سے مضامین زیادہ پڑھے گئے۔ کسی مضمون کو ایک عنوان سے لگایا گیا تو اس کی ریڈر شپ کیا تھی اور عنوان تبدیل کرنے سے لمحوں کے اندر کیا سے کیا ہو گئی۔
ہم مصنف کے وجدان کی بجائے اپنے اعداد و شمار اور تجربے پر بھروسا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مانا کہ مضمون لکھنے پر مصنف کی محنت لگی ہے، لیکن اسے ایڈٹ کرنے اور شائع کرنے پر ہماری بھی محنت لگتی ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری محنت کو زیادہ سے زیادہ دیکھا جائے۔
اسی وجہ سے ”ہم سب“ کی مضمون بھیجنے کی گائیڈ لائن میں واضح طور پر یہ الفاظ لکھے گئے ہیں جو ویب سائٹ پر بھی موجود ہے اور مضمون کے جواب میں خودکار ایمیل میں بھی مصنف کو بھیجی جاتی ہے۔
”یاد رہے کہ مضمون کا عنوان لگانا، تحریر میں موجود غلطیاں درست کرنا، غیر مہذب یا غیر اخلاقی مواد کو حذف کرنا، ایسا مواد جو کہ ادارتی پالیسی کے خلاف ہو، اسے حذف یا تبدیل کرنا اور بات کو واضح کرنے کے لئے متن میں تبدیلی کرنا، کسی بھی ایڈیٹر کا اختیار ہوتا ہے۔ اگر آپ ایڈیٹر کے اس اختیار سے متفق نہیں ہیں تو، براہ کرم اپنا مضمون کسی اور جگہ شائع کرنے کے لئے بھیجیں، ہم اسے شائع کرنے سے قاصر ہیں۔“


