ووٹ سے وباؤں کے دانت کھٹے ہونے دو


جان، مال، عزت نفس اور حق خود ارادیت، ان چار کونوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ وہی میر انیس کا ہر دم قائم رہنے والا خیال خاطر غبار۔ کائنات کی چاروں سمعتوں میں ان چار کونوں کا رنگ اور ترنگ پایا جاتا ہے۔ ان جہتوں کو تحفظ کی فراہمی گویا زندگی کی چاردیواری کی مضبوطی کی علامت ہے۔

حق خودارادیت کی ایک شکل ووٹ کا استمعال ہے جس کا درست استمعال ہر شہری کے بنیادی فرائض میں سے ایک ہے اور اس کی حفاظت کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری۔ دریں حالیکہ ریاست اور اس کے ذمہ دار ادارے ہی اس قومی مشق کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔

انتخابی منشور کے نکات پر کس نے کتنا عمل کیا اور سیاسی حریفوں کو زیر کرنے والے نعروں کو کس نے عملی جامہ پہنانے کی سعی کی۔ سوچ وفکر کے حامل اذہان کو اس پر بحث کرنی چاہیے۔ قوم کے سامنے ایک واضح بیانیہ ہونا چاہیے۔ اکبر معصوم نے بے ساختہ کہا تھا

کچھ انہیں سوچنے دیتا ہی نہیں، اپنے سوا
یہ مرا حلقہ یاراں، مرا زندانی ہے

ہر سمت سراسیمگی پھیل چکی تھی، عالمی برادری ہیجان کا شکار تھی، ایسا منظر نہیں تھا کہ سورج نہایت عاجزی سے سر اٹھائے اور دھند کی لہریں پاش پاش ہو جائیں۔ ووہان سے آنے والی اطلاعات کو چند ہفتے ہو چکے تھے اور دنیا اس منظر سے پناہ کی متلاشی تھی۔ یہ مہینہ سال کا پہلا تھا یا آخری، ان شماریات کو اب حساب کتاب میں لانا اہم نہیں۔ ضروری یہ جانکاری ہے کہ جنوبی کوریا نے کامیابی سے کرونا کا مقابلہ کیا ہے اور وبا کے دنوں میں عام انتخابات کا انعقاد کر کے عوام کے جمہوری حقوق کا صحیح معنوں میں حق ادا کیا ہے۔ سری لنکا جون میں اس جمہوری عمل سے گزر پائے گا یہ نہیں مگر جنوبی کوریا سیاسی تاریخ میں پہلا ملک بن چکا پے جہاں عام انتخابات کا میدان سجا۔

امر واقعہ یوں ہے کہ شعبہ طب سے وابستہ افراد کی ملاقات ایک ریلوے اسٹیشن کے نزدیک ہوئی تھی۔ ملاقات کیا تھی بس جالب صاحب والا حالات کا ماتم تھا۔ یہ پوائنٹ، ملاقات اور صلاح و مشورے کے لیے نزدیک اور مناسب تھا سو پہلی فرصت میں اسی کا انتخاب کیا گیا۔ ذمہ داران ریل کی پٹری کے کنارے تشریف لا چکے تھے۔ کرونا سے نمٹنے کا پہلا لائحہ عمل اسی مقام پر ترتیب دیا گیا۔ اسی روز امریکہ میں بھی پہلا کرونا مثبت کیس رپورٹ ہوا تھا۔ اس کے بعد کے امریکی حالات سے ہم سب واقف ہیں۔ خیر جنوبی کوریا کی حکومت، شعبہ طب سے وابستہ افراد اور عوام نے ثابت قدمی سے اس کا مقابلہ کیا۔

کرونا وائرس کو ناکوں چنے چبوانے کے بعد وہاں کی حکومت نے عام انتحابات کا اعلان کر دیا۔ دنیا کے مطابق یہ ایک خطرناک کام تھا جو کورین حکومت سر انجام دینا چاہتی تھی۔ کرونا کی ویکسین اور علاج نہ دریافت ہونے کی وجہ سے احتیاطی تدابیر کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جس بیماری کا علاج سائنس کا یہ ترقی یافتہ دور بھی دریافت نہیں کر سکا اس صورت میں پرہیز اور جاری کردہ احتیاطی تدابیر کو ہی اس بیماری کا علاج مانا جاتا ہے۔

انتخابات والے دن کورین حکومت نے مثالی اقدام کیے تھے۔ عالمی ادارہ صحت کے جاری کردہ صحت بخش نکات کو پورا کر کے ہی حق رائے دہی کا استعمال کیا جا سکتا تھا۔ ووٹر نے منہ پر ماسک اور ہاتھوں میں دستانے زیب تن کر رکھے تھے۔ ہر پولنگ بوتھ پر بخار چیک کیا جا رہا تھا، نرمی کی کوئی گنجائش موجود نہ تھی۔ ایک وقت میں ایک ووٹر ہی ”سکرینگ“ کے عمل سے گزر سکتا تھا۔ اس سارے عمل سے پہلے وہ لوگ کرونا وائرس کی ”نفسیات“ کو جان چکے تھے۔

ایک ماہ سے کم عرصے میں روزانہ کے ایک ہزار مثبت مریضوں کی تعداد کو تین ہندسوں سے نیچا لانا گویا انہی کا کام تھا، جن کے حوصلے تھے زیادہ۔ آرٹیفیشل۔ انٹیلیجنس کے ذریعے انہوں نے عوام کو ہر سو میٹر تک ”راستے“ کے صاف شفاف ہونے کی سہولت فراہم کر رکھی تھی۔ اگر سو میٹر تک کرونا مثبت مریض موجود ہو تو عام و خواص کو راستے کو تبدیل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ان کی ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت انتہاہی مثالی رہی۔ الیکشن والے دن تک ساٹھ ہزار سے زائد لوگ قرنطینہ میں موجود تھے لیکن جمہوری عمل کو ہو کر رہنا تھا سو یہ ہو کر رہا۔

جو ووٹر اپنے آپ کو کلیئر نہیں پاتا تھا اس کو پولنگ بوتھ میں داخل ہونے کی چنداں اجازت نہیں تھی۔ بی بی سی جو جنوبی کوریا کی تعمیر و ترقی کو بہت اچھا قرار نہیں دے رہا تھا۔ کرونا سے شاندار طریقے سے نمٹنے پر داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔ اس کی نمائندہ لارا بیکر کے مطابق ”انتخابات ملتوی ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے مگر آج یہاں سب ٹھیک ہے۔“

آخری دو دہائیوں میں ساٹھ فیصد سے زائد ووٹر ٹرن آؤٹ وہاں پہلی بار دیکھا گیا ہے۔ سیاسی و معاشی حالات کچھ زیادہ بہتر نہیں تھے مگر عوام نے کرونا سے بہترین نمٹنے اور بروقت انتخابات کے انعقاد کو سر آنکھوں پر بٹھایا ہے۔ صدر مون جی کی ڈیموکریٹک پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کی ہے۔ تین سو کے ایوان پر مشتمل انہیں اتحادیوں کی حمایت سے ایک سو اسی نشستیں حاصل ہیں۔ جو حکومت قائم کرنے کا نہایت آسان فارمولا ہے۔ برادر ملک شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات میں تناؤ، اقتدار میں کمزوریاں، کرپشن کے الزامات سب کچھ پیچھے رہ گیا۔ عوام کے ووٹ نے یہ ثابت کیا کہ کوئی بھی عوام کی فلاح کے لیے کام کرے اس کو اقتدار سونپتے کا یہ بہت اہم پیمانہ ہے۔

یہ سچ کہ غیر ضروری باتوں اور بے عمل نعروں سے عوام کی خدمت نہیں ہو سکتی۔ جہمویت باتوں کا نام نہیں، جمہوری سوچ اور مثبت اعمال کا نام ہے۔ اس کی طاقت ووٹ کی آزادی اور خودمختاری میں پنہاں ہے۔ یہی قوت معاشرتی اور عالمی وباؤوں کو شکست دینے میں تیر بہدف نسخہ ہے۔ اس ڈھال کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا اشد ضروری ہے۔ یاد رہے کہ جمہوریت اور جمہوری رویوں کا قیام اسی سائبان کے سائے تلے ہے۔

Facebook Comments HS