کورونا کے دِنوں میں پڑھنے، لکھنے کا شوق


اخبار کے ساتھ کام کرتے ہوئے پانچ سال مکمل ہو گے، اور میں کبھی کسی کا کوئی کالم، مضمون یا لمبی خبر دیکھتا تو سوچتا تھا کہ لوگ اتنی لمبی لمبی تحریریں پڑھتے ہوں گے کیا؟ میں خود لمبی تحریریں کم ہی پڑھتا ہوں شاید تب میرے دماغ میں یہ خیال آیا کرتے تھے۔

لیکن اِن دِنوں مختلف ویب سائٹس پر موجود خبریں، مضامین، کالم پڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ کل بھی اپنے ایڈیٹر کو میسج کیا کہ جو آپ پی ڈی ایف فائل وٹس ایپ کرتے ہیں زوم ہو کر پڑھی نہیں جاتیں، کچھ کریں۔ انھوں نے کہا آج کل لوگ کہاں اتنا غور سے پڑھتے ہیں۔ میرا جواب تھا کہ جن کو میں فارورڈ کرتا ہوں وہ پڑھتے ہیں اور شوق بھی رکھتے ہیں پڑھنے کا، انھوں نے خیر اس کا حل نکال دیا۔

سوشل میڈیا پر اکثر تصاویر اپلوڈ کرنی ہوں تو چار یا پانچ تصاویر اپلوڈ کرتا ہوں تا کہ دیکھنے والوں کو سامنے نظر آ سکیں اور تصاویر کے ساتھ جو لائن لکھا کرتا تھا وہ چھ سے سات لائنز ہوا کرتی تھیں تا کہ آسانی سے سمجھی جا سکیں لیکن کچھ لوگ اُن لائنز کو بھی نہ پڑھتے اور تصاویر ایک ایک کر کے لائک کر دیتے۔

کورونا اور لاک ڈاؤن نے ایسا گھروں میں بند کیا کہ جب کچھ نہ کرنے کو ہو تو پڑھنے کا دل کرتا ہے اور سب سے زیادہ مفید ”ہم سب“ کی ویب سائٹ ہے اور پڑھنے کو بہت کچھ اور معیاری ملتا ہے ”ہم سب“ لاک ڈاؤن کے دِنوں میں نشہ سا بن گیا اور روزانہ رات کو کچھ خبریں اور مضامین پڑھ کر سوتا اور صبح جاگ کر پہلا کام ”ہم سب“ کی ویب سائٹ وزٹ کرنا ہوتا ہے۔ پھر اِس پر لکھنے کا سوچا پہلا مضمون بھیجا تو ڈر سا تھا کہ شائع ہو گا بھی کہ نہیں لیکن دوسرے روز جب اپنی ای۔ میل چیک کی تو یہ دیکھ کر ”آپ کا مضمون شائع کر دیا گیا ہے“ خوشی سے پاگل ہو گیا اور فوراً اپنے دوستوں کو لنک بھیج دیا۔

دعا ہے کہ اللہ پاک اِس وبائی مرض سے اِس ملک کو نکال دیں تا کہ غریب لوگوں کے بچے کچھ کھا سکیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریب طبقہ اور کاروباری لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اللہ پاک تمام انسانیت کو اپنے حفظ و آمان میں رکھیں۔ (آمین)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments