پاکستان میں چینی بحران کی تفتیش: معطل ہونے والے ایف آئی اے کے سینیئر افسر سجاد مصطفی باجوہ کون ہیں؟
شریف فیملی کے ساتھ سجاد باجوہ کا یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ نواز شریف نے ان کے خلاف دوبارہ تحقیقات کے لیے مختلف اداروں کے سینیئر افسران پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی۔ وہ تحقیقات ابھی جاری تھیں کہ 12 اکتوبر 1999 کو ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا اور نواز شریف بھی گرفتار کر لیے گئے۔
سابق جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کے دوران سجاد باجوہ کے خلاف تحقیقات مکمل ہوئیں اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے لکھا کہ سجاد باجوہ نے تمام کارروائی قانونی پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے انجام دی تھی اس لیے عہدے پر دوبارہ بحال ہو گئے۔
شریف خاندان کے حوالے سے سجاد باجوہ کے امتحانات یہاں بھی ختم نہیں ہوئے بلکہ جب وہ سنہ 2000 میں بحال ہو کر راولپنڈی میں تعینات ہوئے تو وہاں جو سب سے پہلا کیس انھیں سونپا گیا وہ بھی نواز شریف کے ہی خلاف تھا جس میں انھوں نے بطور وزیر اعظم ایک افسر کو مبینہ طور پر قوائد و ضوابط سے ہٹ کر ترقیاں دی تھیں۔
اس وقت کی فوجی قیادت چاہتی تھی کہ نواز شریف کے خلاف اس کیس کا بھی ریفرنس بنے لیکن سجاد باجوہ نے سارے معاملے کی تحقیقات کرتے ہوئے 22 افسران جنھوں نے اس سارے کیس کی فائل تیار کی تھی اور منظوری کے لیے وزیر اعظم کو بھیجی تھی ان کے خلاف ایکشن لینے کے لیے لکھ دیا۔
اس بات کو ایشو بنا کر انھیں دوبارہ معطل کر کے انکوائری شروع کر دی گئی اور 2001 میں انھیں نوکری سے ہی فارغ کر دیا گیا۔ سجاد باجوہ نے ٖفیڈرل سروس ٹربیونل سے 2006 میں کیس جیتا اور دوبارہ بحال ہو گئے جبکہ ان کی ریگولرائزیشن ہائی کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں 2008 میں ممکن ہوئی۔
انسپکشن و مانیٹرنگ سیل سے واہگہ بارڈر تک تبادلے اور معطلیاں
سنہ 2008 کے الیکشن کے نتیجے میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو سجاد باجوہ کے بھائی طارق محمود باجوہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر فیصل آباد سے ایم این اے منتخب ہو گئے اسی دوران سجاد باجوہ ڈپوٹیشن پر پہلے لندن بعد میں کینیڈا چلے گئے اور سنہ 2011 میں اپنے والد کے بیمار ہونے پر واپس لوٹ آئے۔
واپسی پر ان کی تعیناتی ایف آئی اے کے سپیشل انویسٹیگیشن یونٹ میں ہوئی یہ یونٹ اہم کیسز کی تحقیقات کے لیے بنایا گیا تھا۔ ان ہی دنوں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف کے مبینہ قتل کی سازش کے کیس کی تحقیقات سپیشل انویسٹیگیشن یونٹ کو دی گئیں اور اس وقت کی حکومت کے اصرار کے باوجود سجاد باجوہ اور ٹیم نے عدم ثبوتوں کی بنیاد پر شریف برادران کے خلاف کچھ نہ لکھا۔
اگست 2014 سے اپریل 2020 تک سجاد باجوہ کا تقریباً 16 مرتبہ ایک سے دوسرے شہر تبادلہ ہوتا رہا جبکہ ان کی معطلی اس کے علاوہ ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق، سجاد باجوہ نے جب بھی کسی غلط بات کے خلاف اپنا موقف اپنایا تو اس کا نتیجہ ان کے تبادلے کی صورت میں ہی نکلا۔
سنہ 2014 میں بینک آف پنجاب کے اربوں روپے کے قرض نادہندگان کے خلاف تحقیقات کرتے ہوئے جب انھوں نے بینک کے سینیئر افسران سے قوائد و ضوابط سے ہٹ کر قرض دینے کی بابت سوالات شروع کیے تو انھیں لاہور سے ہٹا کر فیصل آباد بھیج دیا گیا۔
فیصل آباد میں جب ایک بڑے صنعت کار گروپ کے خلاف مبینہ مالی بد عنوانی کے معاملات کی تحقیقات شروع کیں تو وہاں سے تبادلہ کر کے دوبارہ لاہور سائبر کرائم ونگ اور پھر وہاں سے واہگہ بارڈر بھیج دیا گیا جہاں وہ ایک سال تک تعینات رہے۔
ایک برس بعد ایک مرتبہ پھر انھیں تبدیل کر کے اسلام آباد ایئرپورٹ، پھر وہاں سے لاہور اینٹی کرپشن سرکل، پھر آئل اینڈ گیس سیل لاہور، وہاں سے انسپکشن ومانیٹرنگ سیل لاہور، پھر انچارج گجرات سرکل، وہاں سے اسلام آباد ہیڈ کواٹر، پھرانٹرنل اکاؤنٹبیلیٹی ایف آئی اے ونگ اسلام آباد، اس کے بعد انچارج سائبر کرائم ونگ لاہور، پھر ایف آئی اے ہیڈ کواٹر، وہاں سے سینئر سٹاف افسر ٹو اے ڈی جی سائبر کرائم اور وہاں سے انچارج پنڈی زون اور آخر میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ لاہور تعینات کیا گیا۔ جہاں سے انھیں چینی تحقیقاتی کمیشن کی وجہ سے اب پھر معطل کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا نے انھیں پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما سید خورشید شاہ کے خلاف نیب کی طرف سے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں ایف آئی اے کی طرف سے نمائندگی کے لیے بھیجا تھا اور آئی پی پیز کے خلاف وزیر اعظم کی بنائی گئی خصوصی ٹیم میں ایف آئی اے کی نمائندگی بھی سجاد باجوہ نے ہی کی تھی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


