پاکستان میں چینی بحران کی تفتیش: معطل ہونے والے ایف آئی اے کے سینیئر افسر سجاد مصطفی باجوہ کون ہیں؟


آٹا، چینی، ایف آئی اے

’مجھے آپ سے یہ توقع نہیں تھی۔‘

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سربراہ اور وزیرِ اعظم کی طرف سے تشکیل دیے جانے والے چینی بحران تحقیقاتی کمیشن کے چیئرمین واجد ضیا نے اپنے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہوئے سجاد مصطفی باجوہ سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ الفاظ کہے۔
یہ 21 اپریل کا دن اور شام ساڑھے پانچ بجے کا وقت تھا۔

یہ ملاقات وفاقی ادارے کے اسلام آباد میں واقع صدر دفتر کے کانفرنس روم میں ہو رہی تھی اور اس ملاقات میں کمیشن کے دوسرے دو ارکان، انٹیلیجنس بیورو کے سینیئر افسر احمد کمال اور محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل گوہر نفیس بھی واجد ضیا کے دائیں جانب موجود تھے۔

بی بی سی کو اس ملاقات کی تفصیلات متعدد سینیئر سرکاری افسران اور سجاد باجوہ کے اس خط سے ملی ہیں جو انھوں نے اپنی معطلی کے بعد واجد ضیا کے نام 22 اپریل کو لکھا تھا۔

’کیا ہوا سر؟‘
سجاد باجوہ نے اپنے باس سے پوچھا۔

’باجوہ صاحب آپ کے الائنس شوگر ملز کے لوگوں سے رابطے ہیں اور آپ انھیں اس انکوائری کے حوالے سے گائیڈ بھی کر رہے ہیں۔‘
واجد ضیا نے سامنے بیٹھے ہوئے سجاد باجوہ سے مزید سوالات کر دیے۔

’جی بالکل! میں رابطے میں تھا۔‘ سجاد باجوہ نے جواب دیا اور وضاحت کی کہ ریکارڈ لینے، چینی مل کے متعلقہ لوگوں سے سوالات کرنے اور ان کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے متعلقہ افراد کو بلانے کے لیے ان سے رابطہ ضرور تھا جو کہ ہر تحقیقاتی افسر کا ہوتا ہے۔

سجاد باجوہ کو یہ بھی کہا گیا کہ آپ مبینہ طور پر مختلف طریقوں سے تحقیقات میں تاخیر بھی کر رہے ہیں۔ اس پر سجاد کا کہنا تھا کہ ان حالات میں وہ انکوائری کمیٹی کی سربراہی نہیں کر سکتے اور یہ انکوائری کسی اور کو دے دی جائے۔
واجد ضیا بولے ’وہ تو ہم آپ سے لیں گے ہی۔‘

اگلے دن یعنی 22 اپریل کو پتہ چلا کہ ایف آئی اے کے اس سینیئر افسر کو مل مالکان کو مبینہ طور پر انکوائری میں فائدہ پہنچانے کے الزام میں معطل کر کے انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔

جس کے جواب میں پھر سجاد باجوہ نے 15 صفحات پر مشتمل ایک خط واجد ضیا کے نام تحریر کیا۔ جس میں وہ تمام حقائق تحریر کیے جس کی وجہ سے انھیں انکوائری کمیٹی سے الگ ہونا پڑا۔

جب بی بی سی نے چینی بحران کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیے گئے کمیشن کے رکن اور ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب گوہر نفیس سے رابطہ کیا کہ آیا ان کی سجاد باجوہ کے ساتھ اس ملاقات میں یا اس کے بعد کسی قسم کی تلخی یا کشیدگی ہوئی تھی اور جو باتیں سجاد باجوہ نے واجد ضیا کے نام خط میں تحریر کیں ہیں کیا ان میں کوئی صداقت ہے یا نہیں، تو انھوں نے بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتا۔‘

یاد رہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے 20 فروری کو چینی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے محرکات کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے سربراہ کی سربراہی میں ایک تین رکنی اعلیٰ سطحی کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا جس میں انٹیلیجنس بیورو کے ایک سینیئر افسر اور اینٹی کرپشن پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل کو رکن نامزد کیا تھا۔

انکوائری کمیشن کے لیے جو ضابطہ کار ترتیب دیا گیا تھا اس میں 14 نکات شامل تھے۔ انکوائری کمیشن نے اپنی ابتدائی رپورٹ 31 مارچ کو وزیر اعظم کو پیش کر دی جسے اپریل کے شروع میں عوام کے لیے عام بھی کر دیا گیا۔

اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم عمران خان نے حقائق کی مزید جانچ پڑتال کے لیے انکوائری کمیشن کو چینی کی نو مخصوص ملوں کا 25 اپریل تک فرانزک آڈٹ کرنے کا حکم دیتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ فرانزک رپورٹ کی روشنی میں جو بھی ملوث پایا گیا اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

انکوائری کمیشن نے کام جلد مکمل کرنے کے لیے سٹیٹ بینک، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، انٹیلیجنس بیورو، انٹر سروسز انٹیلیجنس، ایف آئی اے وغیرہ جیسے اداروں سے افسران کا انتخاب کیا اور نو مختلف ٹیمیں تشکیل دے دیں جن میں سے ایک کی سربراہی سجاد باجوہ کر رہے تھے۔

سجاد باجوہ کون ہیں؟

سنہ 1988 کے عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی مرکز میں حکومت قائم ہوئی اور بے نظیر بھٹو پہلی مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئیں لیکن پنجاب میں ان کا حریف گروپ اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف کی زیرِ قیادت میدان میں موجود تھا۔

دونوں اطراف سے سیاسی جوڑ توڑ جاری تھا اور آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے منتخب چار ارکان قومی اسمبلی جن میں فیصل آباد کے مصطفیٰ باجوہ بھی شامل تھے اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے جا ملے اور انھیں اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

یہ نواز شریف کی آئی جے آئی کے لیے ایک بڑا جھٹکا تھا۔ دوسری طرف سجاد مصطفیٰ باجوہ کو جو اس وقت ایک تحصیل دار کی حیثیت سے ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے، انھیں والد کی بے نظیر سے ملاقات کا خمیازہ نوکری سے برطرفی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

بے نظیر بھٹو نے اپنی حکومت قائم ہونے کے ساتھ ہی بھرتیوں کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی طرز پر ایک ادارہ قائم کیا تھا جسے پلیسمنٹ بیورو کہا جاتا تھا۔ اس بیورو کا کام مختلف سرکاری محکموں میں نئی بھرتیاں کرنا تھا۔

جنوری 1990 میں سجاد مصطفیٰ باجوہ کئی دیگر امیدواروں کی طرح پلیسمنٹ بیورو کے ذریعے ایف آئی اے میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھرتی ہو گئے۔

اسی دوران جوڑ توڑ کی سیاست میں پنجاب بازی لے گیا اور دسمبر 1990 میں نواز شریف قومی اتحاد کے مشترکہ پلیٹ فارم سے بطور وزیرِ اعظم حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

نواز شریف نے حکومت میں آتے ہی وہ تمام لوگ جو پلیسمنٹ بیورو کے ذریعے بھرتی ہوئے تھے ان سب کو نوکری سے فارغ کر کے گھر بھیج دیا۔ ان تمام افراد بشمول سجاد مصطفیٰ باجوہ نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ان سب کو بحال ہونے میں تین برس کا عرصہ لگا۔

شریف خاندان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی تفتیش

بینظیر

سنہ 1988 کے عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت بنی اور اس وقت آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے منتخب ہونے والے ممبر قومی اسمبلی اور سجاد باجوہ کے والد مصطفی باجوہ پی پی پی سے آن ملے

تب تک سنہ1993 آ چکا تھا اور اس وقت بے نظیر بھٹو ایک بار پھر وزیر اعظم منتخب ہو چکی تھیں۔ 1994 میں سجاد باجوہ کو اپنے کیریئر کا پہلا بڑا کیس سونپا گیا اور وہ شریف خاندان کی ملکیت میں حدیبیہ پیپر ملز کا مشہور زمانہ کیس تھا جس کی پہلی بار تفتیش ہو رہی تھی۔

سجاد باجوہ ایف آئی اے کی اس ٹیم کی بھی سربراہی کر رہے تھے جس نے تفتیش کے سلسلے میں لاہور میں قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز کے پاس واقع حدیبیہ پیپر ملز کے مرکزی دفتر سے نواز شریف اور شہباز شریف کے والد میاں شریف کو بھی گرفتار کیا تھا۔

تحقیقات کے دوران ہی شہباز شریف لندن چلے گئے لیکن جب 1996 میں وہ لاہور ایئرپورٹ کے حج ٹرمینل پر گرفتاری دینے کے لیے اترے تو وہاں انھیں گرفتار کرنے کے لیے پھر سجاد باجوہ موجود تھے۔

سجاد باجوہ کو اسلام آباد میں موجود اپنے سینیئرز سے سخت ہدایات تھیں کہ شہباز شریف کو بالکل بھی کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے اور انھیں اترنے کے ساتھ ہی گاڑی پر بٹھا کر اسلام آباد منتقل کیا جائے۔

چنانچہ یوں ہی ہوا شہباز شریف کو جہاز سے اترتے ہی گرفتار کرلیا گیا لیکن انھوں نے سجاد باجوہ سے درخواست کی چونکہ وہ طویل سفر کر کے آئے ہیں اور ان کی کمر میں سخت درد ہے لہٰذا انھیں کچھ دیر ٹہلنے کی اجازت دی جائے۔ سجاد باجوہ نے شہباز شریف کی درخواست مانتے ہوئے شہباز شریف کو کچھ دیر ٹہلنے کی اجازت دی اور بعدازاں انھیں اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔

سنہ1997 میں حالات نے ایک بار پھر کروٹ لی اور ملک میں ایک بار پھر نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ کی حکومت قائم ہو گئی۔ نواز شریف نے وزیر اعظم بننے کے فوری بعد سجاد باجوہ کو ایک بار پھر معطل کر دیا۔ نواز شریف نے ان پر الزام لگایا کہ انھوں نے حدیبیہ پیپر ملز کی تحقیقات کے دوران مختلف بینکوں سے فارن کرنسی اکاؤنٹس کی تفصیلات متعلقہ عدالت کی اجازت کے بغیر طلب کی تھیں۔

اس وقت کے ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن حسین اصغر جو کہ موجودہ ڈپٹی چیئرمین نیب ہیں، انھیں سجاد باجوہ کے کیس کا انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا۔ اپنے کیریئر کے دوران ہمیشہ پیشہ وارانہ قابلیت اورایمانداری کو ملحوظ خاطر رکھنے کی شہرت کے حامل حسین اصغر نے سجاد باجوہ کو کلین چٹ دیتے ہوئے لکھا کہ انھوں نے فارن کرنسی اکاؤنٹ کی تمام تفصیلات عدالت کی اجازت کے بعد ہی طلب کی تھیں اور ان کا کام قانون کے عین مطابق تھا۔

رپورٹ جب وزارت داخلہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے ہوتی ہوئی وزیر اعظم آفس پہنچی تو نواز شریف ناراض ہو گئے اور حسین اصغر، اس وقت کے ڈپٹی سیکرٹری داخلہ حسین چوہدری اور سیکریٹری داخلہ حفیظ ﷲ اسحٰق سمیت تینوں افسران کو ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp