پاکستان میں چینی بحران کی تفتیش: معطل ہونے والے ایف آئی اے کے سینیئر افسر سجاد مصطفی باجوہ کون ہیں؟
ایک ایماندار، پیشہ ور اور قابل افسر
سجاد باجوہ کے ساتھ کئی برس کام کرنے والے چند ساتھی اور افسران سجاد باجوہ کو ایک ایماندار، پیشہ ور اور قابل افسر کے طور پر جانتے ہیں۔
ایف آئی اے کے ایک سینیئر ریٹائرڈ افسر صفدر ملک نے سجاد باجوہ کے کام کے طریقہ کار پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 90 کی دہائی میں سجاد باجوہ بطور اسٹنٹ ڈائریکٹر راولپنڈی ان کے ماتحت کام کر چکے ہیں اور انھوں نے سجاد جیسا ایماندار اور فرض شناس افسر اپنے کیریئر میں نہیں دیکھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’انھیں اخبار سے علم ہوا ہے سجاد باجوہ پر الزامات لگا کر انکوائری ٹیم سے ہٹایا گیا ہے لیکن ابھی تک سجاد پر ملزمان سے پیسے لینے یا مانگنے جیسے الزامات سامنے نہیں آئے۔‘ انھوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا ہے انکوائری میں سب سامنے آ جائے گا۔
ایف آئی اے کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ براہ راست تو اس انکوائری سے منسلک نہیں لیکن وہ سجاد باجوہ کو اچھی طرح جانتے ہیں اور یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ انھوں نے کسی لالچ میں آ کر انکوائری میں ملزمان کی مدد کرنے کی کوشش کی ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں اچھی کارکردگی کا صلہ ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ تبادلہ، جتنی اچھی کارکردگی ہو گی اتنے زیادہ تبادلے ہوں گے۔‘
وفاقی وزیر داخلہ کا رد عمل
وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئیر(ریٹائرڈ) اعجاز شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چینی بحران پر قائم تحقیقاتی کمیشن کو مزید دو ہفتے کا وقت دیا گیا ہے اور دو ہفتے بعد کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے پر وزیر اعظم سخت ایکشن لیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا رپورٹ آنے دیں پھر دیکھئے گا کہ ہر وہ شخص جو ملوث پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی ہو گی چاہے وہ (وزیر اعظم) کے دائیں ہوا یا بائیں۔
وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا ’اگر رپورٹ آنے کے بعد ان (قریبی) لوگوں کے خلاف ایکشن نہ لیا گیا تو پھر حکومت کے پاس دوسرا راستہ کیا بچے گا، سچ ضرور سامنے آئے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ کمیشن وزیر اعظم نے خود بڑی خلوص نیت سے بنایا ہے اور وہ خود اس کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اب وہ وقت گئے جب آپ کسی کو ڈرا، دھمکا کے اپنی مرضی کا فیصلہ لے سکتے تھے، اب میں بھی بطور وزیر داخلہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے سربراہ کو کوئی غلط کام نہیں کہہ سکتا۔‘
’اب سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، لوگوں میں شعور و آگاہی آ گئی ہے اب کچھ بھی چھپا نہیں رہ سکتا۔ اب سازشی نظریات کو پروان چڑھانے کے زمانے بھی گئے، ان سے بچنے کا آسان سا طریقہ ہے کہ آپ سچ بتا دیں۔‘
چینی کمیشن کی ایک ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سجاد باجوہ کو مبینہ طور پر الائنس ملز کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے الزامات کے بعد ہٹائے جانے سے پیدا ہونی والی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’اس سے رپورٹ کیسے متنازع ہو گئی، وہ تو حقائق پر مبنی ہی ہو گی۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ سجاد باجوہ کو ذاتی طور پر نہیں جانتے اور نہ ہی اس بارے میں علم ہیں کہ انھوں نے کیا کیا ہے لیکن انھیں ہٹائے جانے کا مطلب ہرگز یہ نہیں انھیں کسی مالی بد عنوانی کی وجہ سے ہی ہٹایا گیا ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس سارے واقعے کا علم نہیں لیکن میں اپنے تجربے کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ کی فریکونسی اپنے باس والی نہیں ہے تو آپ یقینا مصیبت کو دعوت دیتے ہیں۔‘
ایف آئی اے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن میر واعظ نیاز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا تھا کہ سجاد باجوہ کو معطلی کے کئی روز گزرنے کے باوجود ابھی تک چارج شیٹ جاری نہیں کی جا سکی ہے۔


