میرے بابا احفاظ الرحمان کا بھپ کرنا
”ہاں بھائی میں بتا رہا ہوں! بہت حرامی! بہت۔ ۔ ۔“ ۔ بابا نے ”بہت“ کو بہت کھینچتے ہوئے کہا اور پھر چینی میں حضرت الف کو کچھ اور میٹھی میٹھی سنائیں۔
”میں تو سمجھا آپ خوش ہوں گے“ چانگ انکل نے کہا۔
”میں؟ نو سر!“ بابا نے ہنستے ہوئے کہا۔ ”اور ویسے بھی وہ مجھ سے بھاگے گا۔ نہیں ملے گا۔ اس جیسے بے ضمیر لوگوں کا میر ے سامنے پسینہ نکل جاتا ہے“ ، بابا نے محظوظ ہو کر کہا۔ ”کیا نکل جاتا ہے؟“
چانگ انکل مزید ہنسے۔
”ارے بھائی کیا نکل جاتا ہے؟“ بابا نے سر ہلاتے ہوئے، اصرار سے پوچھا۔
”پسینہ نکل جاتا ہے“، چانگ صاحب نے مصرعہ اٹھا ہی لیا۔ میں، ماما، اور باجی اپنی ہنسی روکے بیٹھے ہوئے تھے۔ یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ اس روز موجود میرے علاوہ لوگ اگر یہ کہیں کہ بابا نے پسینے کے بجائے ’پ‘ ہی سے شروع ہونے والا کوئی اور لفظ استعمال کیا تھا تو میرا جواب یہ ہو گا
I can neither confirm nor deny that statement
بہرحال، چانگ انکل بیٹھے رہے، شعر و شاعری چلتی رہی۔ ایک گھنٹے بعد، چانگ انکل گھر جانے کے لیے کھڑ ے ہو گئے۔ کچھ ڈرتے ڈرتے بولے : ”اب میں یہ کیک لے آیاتھا، ان کو دے ہی دیتا۔ ۔ ۔“
”ارے کیا غلیظ آدمی کو کیک دیں گے۔ گھر لے جائیں، بیوی بچوں کو کھلائیں۔ ضیاالحق۔ حرامی۔“
”اچھا بھئی“ ، چانگ انکل کچھ غیر یقینی طور سے بولے۔
بابا کو تو ’بھئی‘ شک ہو گیا۔ شاید یہ سوچا ہو گا کہ چانگ انکل ہمارے گھر سے نکلیں گے، اور سیدھا الف صاحب کے پاس پہنچیں گے۔
”بھیا ہمار، ہمری بات سمجھے نہیں، سسر کے ناتی!“ بابا اپنی من پسند بھوجپوری میں بولے۔
چانگ انکل پھر ہنس پڑے۔
۔ ”بھائی آپ کو نہیں معلوم وہ سالا۔ ۔ ۔“
”بھئی، وہ کیک۔“
بابا نے چانگ صاحب کو پکڑ لیا۔ چانگ صاحب ہنستے جائیں۔ دوسری طرف میں، ماما اور باجی محظوظ ہوئے جائیں۔ بابا چانگ صاحب کو نہ چھوڑیں۔
ماما نے ہنستے ہنستے، مگر اب تھوڑا سا پریشان ہو کر کہا: ”احفاظ، کیک دینا چاہ رہے ہیں تو دینے دیں نا“۔
”ارے سسر کے ناتی، ہم بتا رہا ہوں!“
”بھئی وہ بس تھوڑی دیرمل لیتے“
”حرامی ہے وہ“
۔ ”ہا ہا ہا ہا“
”احفاظ جانے دیں نہ“
”بہت ہی گھٹیا“۔
انہی باتوں میں بابا اور چانگ انکل گھر سے باہر نکل گئے۔ ہم لوگ سمجھے کہ بابا انہیں بلڈنگ سے باہر تک لیکچر دینے گئے ہیں۔ مگر تقریباً 15 منٹ گزر گئے اور بابا واپس گھر نہیں آئے۔
”لگتا ہے بابا آخر چلے گئے الف کے پاس“ ، ماما بولیں۔ پانچ منٹ بعد بابا واپس گھر آ گئے، بہت خوش دکھائی دے رہے تھے، جیسے کہ کوئی کارنامہ انجام دے کرآئے ہوں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ بابا چانگ انکل کو ہمارے گھر سے ہی باہر نہیں، گیسٹ ہاؤس سے ہی باہر نھیں، بس اسٹاپ تک ہی نہیں، بلکہ بس پر چڑھا کر گھر واپس آئے ہیں!
واقعات تو بہت ہیں۔ ایک اور واقعہ یاد آتا ہے، لیکن یہ غیر ارادی ہیومر کا، سرپیکو کے ایل پچینو جیسے ہیومر کا ہے۔
یہ سات سیکنڈ کی کلپ ضرور دیکھیں۔
میں گیارہ سال کا ہوں گا۔ رات دو یا تین بجے کا وقت تھا۔ باہر سے زور زور سے گانے بجانے کی آواز آ رہی تھی جس کی وجہ سے میں جاگ گیا تھا۔ اٹھ کے دیکھا تو بابا بھی جاگے ہوئے تھے اور سخت پریشان لگ رہے تھے۔ ہم انتظار کرنے لگے کہ کب پارٹی ختم ہو گی۔ مگر پارٹی تھی کہ چلے ہی جائے۔ اب بات یہ ہے کہ ہمارا جو گیسٹ ہاؤس تھا، اک ’گارڈن ہوٹل‘ تھا، یعنی کہ چھوٹے سے گاؤں جیسا تھا۔ اس میں پارٹی کرنے کے لیے جگہیں مخصوص تھیں۔ اور ہم جہاں رہتے تھے وہاں آپ پارٹی نہیں کر سکتے تھے، خاص طور پر رات کے وقت۔
تقریباً آدھا گھنٹہ اور انتظار کرنے کے بعد، بابا کی ہو گئی برداشت ختم۔ گھر سے باہر نکلے اور بالکونی سے اپنی گرج دار آواز، اور کمزور انگریزی، میں چیخے :
”! Do you not know this is a residential area? You cannot party here“
وہ لوگ نشے میں دھت۔ انہوں نے آگے سے بد تمیزی کر دی کچھ۔ پھر کیا تھا۔ بابا کی انگریزی کمزور ضرور تھی لیکن اتنی بھی کمزور نہیں تھی۔ خوب انہیں انگریزی میں پیاری پیاری باتیں سنائیں۔ میں ڈر کے مارے بابا کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ وہ کم از کم پچاس لوگ تو ہوں گے اور یہاں بابا اکیلے۔ گورے لوگ تھے، بڑے قد، طاقت ور جسم، اور یہاں ہمارے بابا 5 فٹ 5 انچ کے، اللہ خیر کرے۔
خوب میٹھی میٹھی باتیں ہوئیں گوروں اور بابا میں۔ اتنے میں ہماری بلڈنگ کے چینی اٹینڈنٹ بھی آ گئے۔ ان سب اٹینڈنٹ نے بابا کا ساتھ دیا اور ان کے کہنے پر وہ لوگ پارٹی ختم کر کے جانے لگے۔ جاتے جاتے اک لمبا تڑنگا جرمن بولا (ترجمہ) : ”ابھی ہم نشے میں ہیں ورنہ تمہیں بتاتے۔ ہم دیکھ لیں گے کل تمہیں!“
لو جی، خیر ہم لوگ سو گئے۔ میں دیر سے سو کر اٹھا تو بابا گھر میں نہیں تھے۔ میں اپنے تنزانین دوست ہجیا کے ساتھ کھیلنے کے لیے گھر سے باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں۔ ہمارے چھوٹے سے بابا میری ہاکی اسٹک لے کر ہماری بلڈنگ کے باہر، بڑے پر عزم طریقے سے بینچ پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ مطلب یہ کہ ”ٹھیک ہے، کل جو دھمکی دی تھی، وہ پوری کرو“ ۔ بھائی کوئی ہو جو گھر سے باہر نکلا ہو۔ سب اپنے اپنے گھروں کے اندر۔ بابا بیٹھے رہے۔ پھر بلڈنگ کے اٹینڈنٹ اس لمبے جرمن کا پیغام لے کر آئے، اس نے کہلوایا تھا ”سوری، ہم نے غلط جگہ پر پارٹی کی“ ۔ یہ سن کر بابا گھر آئے اور ناشتہ کیا، اورمیں نے سکون کا سانس لیا۔
اک اور واقعہ کرکٹ کا۔ اس زمانے میں جیسے پاکستانی قومی ٹیم بہت مضبوط تھی، ویسے ہی بیجنگ میں غیر ملکی کرکٹ ٹیموں میں ہماری ٹیم سب سے مضبوط تھی۔ اور اس ٹیم کے بہترین بیٹسمین بابا تھے (اس سال بعد میں بابا کو ٹورنامنٹ کے بیسٹ بیٹسمین کا ایوارڈ بھی ملا) ۔ فائنل میچ ہو رہا تھا انڈیا سے (اور کس سے ہونا تھا؟) انڈیا کی ٹیم ٹارگٹ چیز کر رہی تھی۔ ان کی ٹیم کے بیسٹ بیٹسمین راجو (جنھیں میں راجو بھائی کہتا تھا) بیٹنگ کر رہے تھے۔
راجو بھائی کے بارے میں، میں نے اپنے انڈین دوستوں سے سنا تھا کہ بیجنگ کی انڈین کمیونٹی کو شک ہے کہ وہ را کے ایجنٹ ہیں۔ سچ جو بھی ہو، یہ بات بابا نے بھی سنی تھی۔ اب انٹیلی جنس ایجنسی والوں سے ظاہر ہے بابا کا پرانا ’یارانہ‘ تھا۔ شاید اس یارانے کی وجہ سے وہ ہوا جو میں اب سناؤں گا:راجو بھائی کاٹ بی ہائینڈ ہو گئے۔ مجھے نک کی آواز باؤنڈری تک سنائی دی ہو گی۔ ”ہوم“ امپائر نے ناٹ آؤٹ دے دیا۔ پھر کیا تھا، پاکستان کے کلوز ان فیلڈر راجو بھائی کے ارد گرد جمع: ”یار حد ہو تی ہے بے ایمانی کی، اتنا بڑا ایج کیا ہے تم نے“ ۔ راجو بھائی مسکرائے جائیں۔ یہ را کی ٹریننگ تھی کہ ان کی اپنی شخصیت کا پہلو، وہ حضرت ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے۔ بابا باؤنڈری پر فیلڈنگ کر رہے تھے، وکٹ کی طرف چلنا شروع کیا اور چیخے : ”یو آر آؤٹ“
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


