میرے بابا احفاظ الرحمان کا بھپ کرنا
راجو بھائی نے بابا کو دیکھا اور انگریزی میں ہی بولے :
”The umpire gave me not out“
ویسے تو وہ مسکراتے رہتے تھے، لیکن یہ جملہ انہوں نے کچھ دھونس جمانے کے انداز میں بولا تھا۔ بڑی غلطی کر دی حضرت نے۔ اس سے پہلے کہ ان کا جملہ ختم ہوتا، بابا نے اپنی پوری اخلاقی قوت سے انگلی سے ان کی طرف جارحانہ طریقے سے اشارہ کیا اور دھاڑے۔ ”شٹ آپ“ ۔ اب یہ شٹ اپ (یا بابا کے بقول شٹ آپ) اتنا دل دہلا دینے والا تھا کہ راجو بھائی تو ہو گئے چپ۔ بابا ان کے بالکل قریب آ گئے اور پھر دھاڑ ے :
”You cheat“
بابا کا غصہ دیکھ کر باقی سب پاکستانی فیلڈر ٹھنڈے پڑ گئے۔ اب راجو بھائی کا آؤٹ ہونا اتنی بڑی بات نہیں رہی تھی، جتنا کہ بابا کو ٹھنڈا کرنا۔
”احفاظ بھائی جانے دیں“
”سر، جانے دیں، کوئی نہیں“
ہمارے انڈین دوست بھی بابا کو ٹھنڈا کرنے لگے۔ خیر بابا ٹھنڈے ہو گئے، بعد میں بابا نے اپنی میڈیم پیس بالنگ سے راجو بھائی کو آؤٹ بھی کیا اور پاکستان فائنل جیت بھی گیا۔ جب میچ ختم ہو گیا تو بالکل پیٹر پین کی طرح بابا راجو بھائی سے گلے ملے، مطلب یہ کہ گرما گرمی میں جو ہوا، سو ہوا :کھیل ختم، پیسہ ہضم۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا، لیکن میرے پاس جو اک آخری جوس کا ڈبہ پڑا تھا، وہ بھی راجو بھائی کو پینے کے لیے دے دیا۔ مجھے بڑی ہنسی آئی، پہلے خود لڑ لیے، پھر میرا جوس کاڈبہ دے دیا۔ واہ جی واہ۔ لیکن بابا تو ایسے ہی تھے، کوئی غلط بات کرے یا دھونس جمائے، چاہے وہ حکومت وقت ہو، چاہے صحافی برادری، چاہے کرکٹرز یا چاہے انٹیلی جنس ایجنسی والے، بابا بھڑک اٹھتے تھے۔
انٹیلی جنس ایجنسی سے یاد آیا، ہماری کہانی انٹیلی جنس ایجنسی سے کچھ یوں شروع ہوئی تھی: ”نہیں! نو سر! کہنا پڑتا ہے۔ جب بھی انٹیلی جنس ایجنسیز والوں نے مجھے اپروچ کیا، میں شروع ہی میں ان کو شٹ اپ کال دے دیا کرتا تھا، تم ’شرما حضوری‘ میں لگے ہوئے ہو، بھپ کرنا پڑتا ہے، نو سر، شٹ اپ کال دینی پڑتی ہے“۔
واقعہ کچھ یوں تھا کہ میں اپنی بیٹی کی جوائنٹ گارڈین شپ حاصل کرنے کے لیے کورٹ جاتا تھا، ان دنوں بہت مسنگ پرسن کیسس چل رہے تھے کورٹس میں۔ میں لان کے بینچ پر بیٹھا اپنے لیٹ لطیف وکیل صاحب کا انتظار کر رہا تھا کہ اک شخص، کچھ میری ہی عمر کا، میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ یاد نہیں پڑتا ہماری بات کہاں سے شروع ہوئی، لیکن ہو گئی۔ ان صاحب نے مجھے بتایا کہ وہ صحافی ہیں اور مجھے اپنا کارڈ دے دیا۔ کارڈ پر کسی عجیب سے اخبار کا نام لکھا تھا جو میں نے آج تک نہیں سنا۔
پھر بھی، میں نے سوچا کہ کسی چھوٹے سے اخبار کے محنت کش صحافی ہیں، اور میں ان سے گرم جوشی سے بات کرتا رہا۔ انہیں بتایا کہ ابھی ابھی ڈیلفت، نیدرلینڈز سے کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کر کے کراچی واپس آیا ہوں۔ دوسرے پاکستانی بھائی بہنوں کی طرح انہیں بھی نہیں معلوم تھا یہ ڈیلفت یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کہاں اور کیوں ہے۔ میں نے اس کا آسان سا حل نکالا ہوا تھا:۔ ”یہ وہ یونیورسٹی ہے جہاں سے ڈاکٹرعبدالقدیر خان پڑھے تھے“ ۔
پی ایچ ڈی کمپیوٹر سائنس اورعبدالقدیر خان کا نام سن کر، بھائی کا چہرہ تبدیل ہو گیا۔ بولے : ”آپ نے اپنا کارڈ نہیں دیا“۔
میں بولا میں ویسے تو اقرا یونیورسٹی میں پڑھا رہا ہوں مگر ابھی کارڈ نہیں ہے، آپ میرا فون نمبر لے لیں۔ بھائی نے میرا فون نمبر لے لیا، کچھ مزید باتوں کے بعد سنجیدہ آواز میں بولے : ”رمیز بھائی ہمیں آپ جیسے نوجوانوں کی ضرورت ہے“ میں نے سوچا کہہ رہے ہیں کہ ملک کو میرے جیسے ہونہار لوگوں کی ضرورت ہے، میں خوشی سے پھولے نہ سمایا اور شرم سے مسکرا دیا۔
”اصل بات یہ ہے یہاں میں مسنگ پرسنس کیسز کو مانیٹر کرتا ہوں، میں صحافی نہیں ہوں“ اور پھر بتایا کہ فلاں انٹیلی جنس ایجنسی میں کام کرتے ہیں۔
”اپنے دشمنوں سے لڑنے کے لیے ہمیں اچھے کرپٹوگرافرز کی ضرورت ہے، آپ ہمیں جوائن کر لیں“۔
درج ذیل حقیقت سے شاید سب قارئین آشنا نہ ہوں اس لیے لکھ رہا ہوں : دنیا بھر کی انٹیلی جنس ایجنسی والوں کے بارے میں پڑھ کر، اپنے روحانی استاد نوم چومسکی کی باتیں سن کر، مجھے یہ اندازہ تو تھا کہ انٹیلی جنس ایجنسی والوں کے پاس اور بہت کچھ ہو سکتا ہے مگر انٹیلی جنس سرے سے نہیں ہوتی۔ زیادہ تر حد درجے کے احمق ہوتے ہیں۔ اب ان بھائی کو ہی لے لیجیے، بھائی کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کا کیا یہ مطلب ہے کہ میں کرپٹوگرافی کا ایکسپرٹ ہو گیا؟
ہاں ہو سکتا تھا، اگر میری سپیشلائزیشن کرپٹوگرافی میں ہوتی۔ بھائی کمپیوٹر سائنس کی فیلڈ آپ کو اندازہ بھی ہے کتنی وسیع ہے؟ دوسرے، عبدالقدیر خان صاحب کا نام سن کر یہ کیوں سوچ بیٹھے کے میں خوشی خوشی آپ کے لیے کام کروں گا۔ خیر، میں نے دل ہی دل میں اپنے آپ کو گالیاں دیں : اور لو بات بات پر عبدالقدیر خان کا نام، بہت اچھا ہوا تمہارے ساتھ۔ میں نے کھسیانی سی مسکراہٹ دی اور کہا: ”میں پڑھانے میں خوش ہوں“۔
”ملک کو ضرورت ہے“۔
”میں سوچوں گا“۔
”ضرور سوچیے گا“۔
بہرحال گھر واپس آیا، دو دن بعد ہی انٹیلی جنس والے بھائی کا فون آ گیا میرے پاس: ”اور رمیز بھائی آپ نے کچھ سوچا؟“
”اصل میں یونیورسٹی میں بہت مصروف ہوں پڑھانے میں۔ ۔ ۔“
”رمیز بھائی، لیکن ملک زیادہ ضروری ہے“۔
”نوجوانوں کو پڑھا کر بھی تو ملک کی خدمت کر رہا ہوں“۔
” لیکن یہ اور بات ہے، زیادہ اہم، آپ ضرور سوچیے“۔
اس کے ایک یا دو روز بعد ایک اور فون آیا، پھر میں نے بابا سے ذکر کیا جس کے نتیجے میں جو ہماری گفتگو ہوئی، وہ آپ پڑھ چکے ہیں۔
”بھپ کرنا پڑتا ہے“
انٹیلی جنس والے بھائی کا فون بدستور آتا رہا۔ میں ہر دفعہ ”شرما حضوری“ کرتا رہا۔ پانچویں یاں چھٹی بار تک میری برداشت ختم ہو چکی تھی، پھر جب فون آیا: ”تو رمیز بھائی کیا سوچا آپ نے؟“
”بھپ!“ میں اونچی آواز میں بولا۔
”کیا؟“
”نہیں کرنا مجھے کام۔ بھپ۔ شٹ آپ!“ اس کے بعد انٹیلی جنس والے بھائی کا میرے پاس دوبار ہ پھر کبھی فون نہیں آیا!
تو صحیح کون تھا؟ کمپرومائز کرنے والا؟ شرما حضوری کرنے والا؟ میٹھی میٹھی باتیں کرنے والا؟ لچک دکھانے والا؟ سیدھی بات کے بجائے آئیں بائیں شائیں کرنے والا؟ ”بھائی دنیا تو بڑی پیچیدہ ہے“ یہ عذر بنا کر سیاہ و سفید میں فرق نہ کرنے والا؟
یا وہ دو ٹوک بات کرنے والا جو اپنے غصے کی وجہ سے بدنام تھا؟ وہ جو سب دھونس جمانے والوں اور جھوٹ بولنے والوں کو شٹ اپ کال دیتا تھا۔ سب خبیثوں کو بھپ کر دیتا تھا؟
کون تھا صحیح؟ بولیں بولیں، کون تھاصحیح؟ ہاں، بہت خوب، بہت خوب!


