حدود و قیود میں واضح کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا ہم ساری قوم کو سیاست دان یا علما ء کرام بنا کر ملک چلا سکتے ہیں؟ ساری طاقت کا محور دونوں ہی شعبے بنے ہوئے ہیں۔ فیصلہ ساز حلقوں کو بھی اپنی طاقت دکھانے کے لئے یا کوئی بھی نظریہ عمل میں لانے کے لئے ان ہی طبقوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ بھلا ہو ایک سابقہ حکومت کا جس نے میڈیا کو بھی اس طاقت میں شریک کر دیا۔ اور اب آپ ان تینوں میں سے کسی ایک شعبے کا حصہ بن جائیں اور قانون آپ کا ، عدالت آپ کی ، اور بعض دفعہ عملدرآمد بھی آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ آپ جس پر مرضی فرد جرم عائد کردیں، جس کو مرضی مجرم بنا دیں، جس کو مرضی بری الذمہ قرار دے دیں، جس کو چاہے ہیرو سے زیرو اورحتیٰ کہ وزیراعظم بنا دیں۔ اور اپنی اپنی طاقت بچانے کے لئے اس گٹھن زدہ ماحول کو مزید ایندھن مت دیں پلیز۔

درخواست ہے جناب اپنا امیج بناتے بناتے ملک کو پھر سے ضیا ء صاحب کے دور میں نہ لے جائیے گا۔ کما ل نہیں ہے کہ دنیا میں انٹرٹینمنٹ چینل لوگوں کو پہلے دیکھنے کو ملتے ہیں میڈیا چینل ڈھونڈنے پڑتے ہیں مگر ہماری کیبل علماء سے شروع ہوتی ہے اور ان کے بعد میڈیا چینلز کی بھرمار۔ تفریحی چینلز ڈھونڈتے ڈھونڈتے ویسے ہی دماغ تھک جاتا ہے لوگوں کو ان پڑھ اور جاہل کہنے کی بجائے غور کریں تو سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ آ ج ایجوکیشن کی ذریعہ کتابیں اور استادوں کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور پرنٹ میڈیا ہے اس لئے آ ج کی نسل کی بڑی تعداد دیکھ کر اور سن کر سیکھ رہی ہے۔ اور خود ہی فیصلہ کر لیں ہمارے ملک میں سب سے زیادہ کیا دیکھا جاتا اور سنا جاتا ہے اور اس صدی کے دو عشروں کو ہی سامنے رکھ کردیکھ لیں ہم نے لوگوں کو کیا دکھایا کیا کیا لطیفے سنائے، جھوٹ بولے کن روایا ت کو ترویج دی اور کون سا کلچر متعارف کروایاتو ہمیں ہماری بہت ساری غلطیاں مل جائیں گی۔

سیاست میں اتنی کرپشن کی نشاندہی آپ نے خود ہی کی مگر کیا ایکشن لئے گئے کہ آ ئندہ کی سیاست کو ان سب سے پاک کیا جائے، کرپٹ سیاستدانوں کو طاقت کے ایوانوں سے روکنے کے لئے کیا عوامل بروئے کار لائے گئے۔ اور ایک سیکٹر این جی اوز کو سانس تک لینا دشوار کیا ہوا ہے کیا ساری منی لانڈرنگ این جی او ز کے ذریعے ہو رہی ہے۔ جناب ضرورت ہے کہ طاقت کے ایوانوں تک پہنچنے کے لئے سیاست میں تعلیم، پروفیشنل ازام، ٹریننگز، قابلیت اور ریٹائرمنٹ کو لازم قرار دیا جائے۔ اوپر کے تینوں شعبوں میں آپ پر یہ تما م شرائط تقریباً لاگو نہیں ہوتی اور اختیار ات اتنے کہ بس۔ معیار اپنا بلند نہیں کرتے اور بحث سول سپرومیسی کی۔

دنیا کے سپورٹس مین ہمارے بزنس مینوں سے امیر ہیں، ہمارے میاں منشا 3.7 billion$کے مالک ہیں جبکہ میک موہن جو کہ WWEکے CEOہیں جن کی دولت 3.8 بلین ڈالرز ہے۔ دنیا کے فلمسٹار ہم سے ہمارے سیاستدانوں اور اینکروں سے زیادہ مشہور ہیں اور قدر کی نگاہ سے جانے جاتے ہیں۔ مگر یہاں ہم فنکاروں کے ساتھ کیا کرتے ہیں ہمارے صوبائی وزیر اطلاعات وثقافت برملا ایکٹرز کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، عزت دار سماج معروف کامیڈین کو میراثی ہونے کی وجہ سے دفن کرنے سے منع کردیتا ہے۔

وزیر اعظم بالی وڈ، ہالی وڈ کو فحاشی کا باعث قرار دیتے ہیں۔ ہالی وڈ ہو، بالی وڈ ہو یا لالی وڈ ہو ثابت شدہ ہے کہ فحاشی پر مبنی مواد والی فلمیں چلتی ہی کم ہیں۔ اور لوگوں کی پسند کا کیا کہیں پورن فلمیں اور سائٹس دیکھنے میں ہمارے ملک کے عوام ٹاپ رینک پر ہیں باوجود اس کے کہ پی ٹی اے نے بہت ساری سائٹس بلاک بھی کی ہوئی ہیں۔

ہمارے ملک میں شرمین عبید چنائے جو کہ عالمی شہرت کی حامل فلم میکرہیں اور ہمارے ملک کے لئے آسکر ایوارڈ بھی جیت کر لائی ہیں۔ اس کے علاوہ عاطف اسلم ہیں، راحت فتح علی ہیں، صبا قمر ہیں، فواد خان ہیں اور مائرہ خان جو کہ عالمی شہرت رکھتے ہیں اور جن کے ریکارڈ پر عالمی معیار کا کام بھی ہے مگر ہمارے ملک میں ان سب کے لئے بھی کام نہیں ہے کیونکہ ہم نے صرف ایک عینک پہن لی ہے جس میں ہمیں صرف بے حیائی ہی نظر آتی ہے۔ ابھی کل ہی رشی کپور کی موت کے بارے ٹویٹر پر علی محمد خان کے ٹوئٹ پر انصار عباسی اور فواد چوہدری کے درمیان اچھی خاصی بحث ہوئی۔ اور شکر ہے فواد چوہدری کے خیالات پڑھ کر احساس ہوا کہ روشن خیالی ابھی زندہ ہے۔

ہر شعبے اور انڈسٹری کے کاموں کے اپنے طریقہ کار اورضروریات ہوتی ہیں۔ جس طرح سے سیاست میں ایک روایتی سیاست ہے اور ایک جدید طریقہ ہائے سیاست ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں جدید سیاست میں جس طرح سے موسیقی، سنگرز، کنٹینرز، نعرے، دھرنے، مزاحمت، نیب اور خواتین کو شامل کیا گیا اب اقتدار میں آ کر ان سب آزادیوں کو بے حیائی کے نام پر سلب مت کیجئے۔ اور یاد رکھیے آ ئندہ الیکشن آپ کو ان بے حیائی پھیلانے والیوں کے نام پر لڑنا پڑیں گے۔ کیونکہ ایک دو الیکشن کے بعد ووٹرز کی سب سے بڑی طاقت یہ خواتین ہی ہوں گی۔

اس لئے پلیز ریاست کو ریاست رہنے دیں اور چارج شیٹ لگانے والوں کی حدود و قیود واضح کریں قانون کی حکمرانی پر زور دیں اور سب کو آزاد کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *