EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بورخیس: خاتم سلیمان اور شیکسپیئر کی یاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Borges and Octavio Paz

 وہ ”بات چیت“ ہی میں ابسن کا ایک قول نقل کرتا ہے کہ زندگی ایک جنگ ہے جو انسانی ذہن کی غاروں اور گپھاؤں میں شیطان سے لڑی جاتی ہے ”۔ جسے آرٹ کا حسن (آج کل یہ لفظ بہت پامال ہوگیا ہے۔ ہمیں ا س کی جگہ کوئی دوسرا لفظ وضع کرنا ہوگا)کہتے ہیں، وہ اس وقت تخلیق ہوتا ہے جب یہی جنگ شاعری اور فکشن میں برپا ہوتی دکھائی جاتی ہے۔ بورخیس کلاسیکی ادیبوں کی مانند انسان کی ابدی جدوجہد کے لیے شیطان کی علامت کا سہارا نہیں لیتا(ہمارے زمانے میں اروحان پاموک نے“ سرخ میر انام ”میں شیطان کی زبانی ایک زبردست اپالوجی لکھی ہے )، مگر وہ باطن میں برپا جنگ سے جمال تخلیق ضرور کرتا ہے۔ “ شیکسپیئر کی یاد ”کیا کیا یاد دلاتاچلا جارہا ہے!

یہ افسانہ (جس میں مضمون کا رنگ بھی ہے ) شیکسپیئر کے جرمن محقق ہرمن سورگل کی زبانی بیان ہوا ہے۔ وہ ”شیکسپیئر کی توقیت“ کا مصنف بتایا گیا جسے ہسپانوی سمیت کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ اس کہانی میں ایک اور چھوٹی سی کہانی ظاہر ہوتی ہے جو بورخیس کے فن اور اس افسانے کو بھی سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ لندن کے ایک پب میں سورگل، میجر بارکلے اوردانیال تھروپ بیٹھے ہیں جن کی ملاقات اسی شہر میں ہونے والی شیکسپیئر کانفرنس کے موقع پر ہوئی ہے۔

 میجر بارکلے پنجاب کے ایک بھکاری کا ذکر کرتا ہے۔ اس بھکاری کو حضرت سلیمان ؑ کی وہ انگوٹھی کسی طرح مل گئی تھی (دیکھیے کیسی فنتاسی تخلیق کی ہے! ) جس کی مدد سے وہ پرندوں کی زبان سمجھ لیتے تھے۔ ( روایات کے مطابق اس پرا سم اعظم کندہ تھا، جس کی بدولت حضرت سلیمانؑ کا جن وانس پر ان کا حکم چلتا تھا۔ وہ انگوٹھی ایک بار گم ہوگئی اور شیطان کے ہاتھ لگ گئی۔ شیطان کے ہاتھ سے گری تو مچھلی کے پیٹ میں چلی گئی۔ پھر مچھلی حضرت سلیمان ؑ کے ہاتھ آئی۔ اسے چیرا گیا تو انگوٹھی برآمد ہوئی اور آپ کی آزمائش کا خاتمہ ہوا)۔

بورخیس کے فن میں خاموشی زیادہ گویا ہوتی ہے ؛ وہ کم کہہ کر زیادہ مراد لیتا ہے۔ چند سطروں میں یہ قصہ بیان ہوا ہے۔ ہم اس چھوٹی سی کہانی کی خاموشی کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بھکاری کو ایک پیغمبر کی انگوٹھی کا ملنا، دنیا کا سب سے بڑا پیراڈاکس تھا۔ پیغمبر کی طلمساتی شے، کسی بادشاہ کو نہیں ملی؛ایک گداگر کو ملی۔ بہ ظاہر اس کی قسمت کھلی مگر حقیقت میں اس کی تقدیر خراب تھی۔

 وہ اتنی عظیم شے کے لیے تیار تھا نہ شاید اہل۔ اس نے اسے بیچنا چاہا۔ اسم اعظم کی حامل انگوٹھی کو کون خرید سکتا۔ اس کی قیمت اس قدر زیادہ تھی کہ گداگر کو کوئی خریدار نہ ملا۔ وہ گداگر دنیا کا خوش نصیب شخص بن کربھی انتہائی بد نصیب رہا۔ وہ اسی انگوٹھی کو سینے سے لگائے مسجد وزیر خاں کے صحن میں مر مرا گیا۔ اس کے بعد انگوٹھی کا کیا بنا؟ ہرمن سورگل کے جواب میں میجر کہتا ہے کہ وہ گم ہوگئی۔ جیسا کہ تمام طلسماتی چیزوں کے ساتھ ہوتا ہے ؛ وہ کسی کے پاس سدا نہیں رہتیں۔

 یعنی ہر طلسم وقتی ہے۔ آدمی کی اپنی حالت کی مانند۔ بارکلے بتاتا ہے کہ شاید وہ مسجد وزیر خاں ہی کے صحن میں کسی خفیہ جگہ پر موجود ہو یا اس شخص نے پہنی ہو جو ایسی جگہ رہتا ہے جہاں پرندے نہ ہوں۔ یعنی اگر وہ کہیں ہے بھی تو اس کا طلسم کسی پر چل نہیں سکتا۔ ایک پرانی حکایت کو جدید زمانے میں بیان کرنا کسی تخلیق کار کا سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے۔ اسے ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ایک پرانی حکایت منتخب کرنے کے باوجود وہ تخیل کی مفلسی کا شکار نہیں۔

اردو میں انتظار حسین کو سب سے زیادہ اس آزمائش سے گزرنا پڑا۔ بورخیس اور انتظار حسین میں ایک فرق ہے کہ بورخیس دنیا بھر کی حکایات کو بنیادی انسانی صورت حال کی پیچیدگیوں کے بیان کے لیے لے آتا ہے۔ بہ ہر کیف یہ مختصر کہانی دراصل اس عجیب وغریب دنیا میں داخل ہونے کا دروازہ ہے، جسے بورخیس کے فن کی دنیا کہنا چاہیے۔ بارکلے چلاجاتا ہے اور ہرمن سورگل اور تھروپ آپس میں بات چیت کرتے ہیں۔ تھروپ، سورگل سے کہتا ہے کہ ”کیا وہ خاتم سلیمان ؑلینا چاہے گا؟

میں یہ تمھیں پیش کرتا ہوں۔ یہ بلاشبہ استعارہ ہے“۔ وہ مزید وضاحت کرتا ہے کہ وہ سورگل کو شیکسپیئر کی یاد، اپریل 1616 ء سے تادم آخر پیش کرنا چاہتا ہے۔ (کیا اس لیے کہ شیکسپیئر کی یاد کو منتخب کیا گیا ہے کہ اس کی غیر متنازع سوانحی معلومات کم ہیں؟ ) دوسرے لفظوں میں شیکسپیئر کی یاد بھی استعارہ ہے، خاتم سلیمانؑ کی مانند۔ یاد بھی ایک طلسم ہے۔ طلسم خود کام کرتا ہے۔ شیکسپیئر کی یاد بھی خود اپنا اظہار کرے گی۔

کہانی کے راوی کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ یاد کو ایجاد مت کرے ؛ یاد کو اپنا کام خود کرنے دے۔ ہم جانتے ہیں جدیددنیا میں یادوں کی سیاست حد سے زیادہ ہوئی ہے۔ جنوبی ایشیا سے زیادہ کون سا خطہ جان سکتا ہے کہ ماضی کی یادوں کو ایجاد کرنے، ان کی تشکیل نو اور ان کے احیا کی کوششوں سے دنیا میں نفرت، فرقہ واریت، قتل و غارت اورکتنی جنگیں ہوئی ہیں اور آج بھی جاری ہیں۔ بورخیس یاد میں آدمی کی مداخلت سے روکتا ہے۔

اسے مزید واضح کرنے کے لیے کہتا ہے کہ شیکسپیئر کی یاد خود خوابوں میں ظاہر ہوگی یا اس وقت جب وہ کسی کتاب کی ورق گردانی کررہا ہوگا۔ بورخیس رفتہ رفتہ واضح کرتا ہے کہ شیکسپیئر کی یاد، جو بہ ہر حال ایک مرے ہوئے شخص کی یاد ہے، کیسے اپنے معانی کھولتی ہے۔ ”ایک آدمی کی یاد مبہم امکانات سے پیدا ہونے والا انتشار ہے“۔ یاد کیجیے، ابسن کا قول جو گزشتہ سطور میں نقل ہوا ہے کہ انسانی ذہن میں کئی غاریں اور گپھائیں ہیں۔

 یادیں ان سب میں پہنچتی ہیں۔ بورخیس اسی افسانے میں آگسٹائن کی ایک سطر شامل کرتا ہے جس میں یادوں کی غاروں اورمحلات کا ذکر ہے۔ وہ شیکسپیئر کی یادوں اور خود اپنی یادوں کے انھی تاریک روشن خطوں میں بھٹکتا ہے۔ کبھی شیکسپیئر کی چڑیلوں کا منتظر رہتا ہے۔ کبھی اس کی شاعری اور ڈراموں کو پڑھتا ہے۔ ایک بار اسے شیکسپیئر کی یاد میں احساس جرم محسوس ہوتا ہے جیسا کہ اس کے کرداروں کے یہاں یہ عام بات ہے۔ ایک عظیم آدمی کی یاد کیا کسی کی نجات کا ذریعہ ہوسکتی ہے؟ یہ سوال اس افسانے میں بین السطور ملتا ہے۔ اور جواب ہے : نہیں۔

آخر آخر میں سورگل کو یہ سب بہت الجھا دینے والا اور اکتاہٹ پیدا کرنے والاعمل لگتا ہے۔ وہ سپائی نوزا کے اس قول کی صداقت کو محسوس کرتا ہے کہ تمام اشیا اپنی اصل پر قائم رہنا چاہتی ہیں۔ پتھر پتھر اور باگھ باگھ۔ ہرمن سورگل کہتا ہے کہ میں ہرمن سورگل ہی رہنا چاہتا ہوں۔ شیکسپیئر نہیں۔ کوئی اور بھی نہیں۔ بورخیس کے یہاں یہ خیال باربار ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی بوجھ ہے۔ بورخیس نے ”تھکے ہوئے آدمی کی منزل“ کے عنوان سے جو یوٹوپیا لکھا ہے، اس میں نسیان اور تشکیک کو بچوں کے نصاب کا لازمی حصہ بنایا جاتا ہے۔

 یادیں ہیرو کو جنم دیتی ہیں یا جنت گم شدہ کواور نسیان آدمی کو کسی سہارے کے بغیر، اگر کسی جنت کی تخلیق ممکن ہے تو اس کے قابل بناتا ہے۔ وہ آخر میں، جب یہ تسلیم کرلیتا ہے کہ وہ جو ہے وہی رہنا چاہتا ہے تو وہ بس باخ کی موسیقی سنتا ہے اور سادہ زندگی بسر کرتا ہے۔ راجندر سنگھ بیدی، بورخیس کی مانند عظیم نہیں مگر اپنی ایک سوانحی تحریر میں لکھتا ہے : میں ایک سادے سے ا نسان کی طرح جینا چاہتا ہوں، چاہنے کی آرزو نکال کر۔ جسے ہم سنتوں کی زبان میں ”سہج اوستھا“ (عام حالت ) کہتے ہیں اور جو صرف جاننے کے بعد ہی آتی ہے اور میں نہیں جانتا ”۔ لیکن یہ سادہ زندگی پیچیدگیوں کے لمبے سلسلے کو عبور کرنے کے بعد نصیب ہوتی ہے، جیسے بورخیس دنیا کے سنجیدہ ادب کو پڑھنے کے بعدسمجھ میں آتا اور مسرت دیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صفحات: 1 2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے