بورخیس: خاتم سلیمان اور شیکسپیئر کی یاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غالب اور کافکا کی مانندبورخیس کو پڑھنا بھی آسان نہیں۔ گوئم مشکل و گرنہ گوئم مشکل جیسی صورت حال کا سامنا بورخیس کو بھی تھا۔ اس نے ”بورخیس اور میں“ کے عنوان سے ایک تحریر لکھی۔ اپنے قاری کو مخاطب کرکہاکہ بھئی اگر مجھے پڑھنا ہے تو پہلے تین کام کرو۔ اوّل دنیا بھر کے سنجیدہ ادب کا مطالعہ کرکے آؤ۔ واضح رہے، عام اور مقبول عام ادب نہیں کہا۔ پھرزمانے میں جو یہ طرح طرح کے اتفاقات ہوتے ہیں، ایسے واقعات ہوتے ہیں جن کے اسباب فوراً سمجھ نہیں آتے مگر وہ واقعات تمھیں اور دنیا کو بدل دیتے ہیں، انھیں سمجھو۔

جب یہ کرچکو تو پھر ایک چیز ہے جسے زندگی کہتے ہیں، اس کے بے شمار تاریک رخ ہیں، ان کی طرف نگاہ کرو اور بغیر ڈرے انھیں دیکھتے رہو اور اپنے اندر اتارو۔ آفتاب احمد نے راشد کو شاعروں کا شاعر کہا تھا تو کیا ہم بورخیس کو ادیبوں کا ادیب کہیں؟ اگر شاعروں کے شاعر سے صرف یہ مراد ہو کہ اسے صرف شاعر پڑھ، سمجھ اور لطف اندوز ہوسکتے ہیں تو یہ کوئی خاص خوبی کی بات نہیں۔ (ایک تلخ سچائی ہے کہ دنیا میں ادب، ادیبوں کی وجہ سے نہیں، عام پڑھنے والوں کے سبب باقی رہتا ہے۔

کتنے ادیب ہیں جنھیں اپنے معاصرین سے حسد سے فرصت ہو؟ )۔ تاہم اگر اس سے یہ مراد ہو کہ اس کے یہاں شاعری اس بلند تر سطح کو پہنچتی ہے جس کا خواب کئی شاعر مل کر دیکھتے ہیں تو پھر یہ بڑی خوبی کی بات ہے۔ بورخیس اس مفہوم میں ادیبوں کا ادیب ہے کہ اس کے یہاں ادب جس معراجِ فن کا تصور کرسکتا ہے اور حسن و معنی وصورت کی جن آخری حدوں کا خواب دیکھ سکتا ہے، وہ اس کے یہاں ظاہر ہوتی ہیں۔ وہ بلاشبہ عظیم ہے۔ اس کے ادب کے معنی کا ادراک اور اس کے حسن کی تاب صرف انھی کو ہے جن کا ذکر وہ خود کرتا ہے۔

بورخیس والٹر پیٹر کے اس مشہورقول کو ایک جگہ نقل کرتا ہے کہ فن کی انتہا یہ ہے کہ وہ موسیقی بن جائے، اس لیے کہ خالص موسیقی کوکسی اور شے کی ضرورت نہیں۔ پیٹر کی یہ بات اس شاعری پر صادق آسکتی ہے جو اپنے ہر لفظ کی تقلیب کردیتی ہے۔ تاہم اس کو ذرا سا بدل کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حقیقت کی معراج یہ ہے کہ وہ فکشن بن جائے۔ یہاں ہم حقیقت کا ذکراس لیے کررہے ہیں کہ بورخیس کے نزدیک حقیقت نام ہے ادب کا۔ یعنی ہم روزمرہ زندگی سے لے کر ذہنی دنیا میں جس حقیقت سے دوچار ہوتے ہیں، اسے بورخیس، ادب کا نام دیتا ہے۔

 شاید یہاں نام دینے کی ترکیب مناسب نہیں۔ وہ زندگی، تاریخ، فلسفہ، روایت، مقامیت، مشرق، مغرب، جس ”حقیقت“ سے بھی دوچار ہوتا ہے، اس کا ادراک ادب کے طور پر کرتا ہے۔ بورخیس کے ہم وطن مگر اس سے پچاس برس چھوٹے اوسولدو فراری نے ”بات چیت“ (Conversations) کی پہلی جلد کے دیباچے میں لکھا ہے کہ ”بورخیس کے لیے حقیقت ادب تھا۔ نیزبورخیس ادب کو واضح کرتا ہے اور ادب بورخیس کو“۔ گویا دونوں ایک دوسرے کے لیے آئنہ ہیں۔

دونوں مل کر عکسوں کے لامتناہی سلسلے کو پیدا کرتے ہیں۔ یہ بات بہ ظاہر جتنی سادہ نظر آتی ہے، ہے نہیں۔ خود بور خیس کہتا ہے کہ معمولی سے معمولی چیز جو سادہ نظر آتی ہے، وہ پیچیدہ ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہ کائنات کا حصہ ہے ؛کوئی شے خود اپنے آپ میں، ایک بیگانہ اکائی نہیں۔ لہٰذا یہ بات کہ حقیقت ادب ہے، اس لیے پیچیدہ ہے کہ یہ انسان کو ملنے والی اور اس کی تخلیق کی ہوئی کائنات کا حصہ ہے۔ یعنی ادب دیگر فنون، علوم اور انسان کی ہستی اور دنیاسے جڑا ہے۔ بورخیس کے ادب میں یہ سب ملتا ہے۔

Borges

اس کی تحریروں میں ادبی اصناف کی روایتی حدیں ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔ حس، منطق، تاریخ، ابدیت کے امتیازات مٹنے لگتے ہیں۔ حقیقت و فنتاسی، تاریخ وافسانے کا فرق باقی نہیں رہتا۔ بیانیہ، محاکاتی، تجزیاتی، وصفی اسالیب ایک دوسرے سے ٹکراتے اور آمیز ہوتے ہیں۔ زبانی وتحریری زبان کی درجہ بندی راکھ ہوتی ہے۔ مشرق و مغرب کی ثقافتی و ادبی روایات کی آہنی دیواریں پگھلنے لگتی ہیں۔ فراری ہی سے بات چیت میں بورخیس ارجنٹائنی شناخت کی وضاحت میں لکھتے ہیں : روایت کی بندشوں سے آزادی کے نتیجے میں ہم ایک وسیع ورثے کو حاصل کرتے ہیں۔

 یہ وسیع ورثہ، دراصل ان سب ثنویتوں (Binaries)کی شکست کرتا ہے جو دنیا کو مشرق و مغرب، حقیقت کوسیاہ و سفید، ثقافتوں کو وحشیانہ ومہذب، علم کو سائنسی و مذہبی میں تقسیم کرتی ہیں اور ان کی درجہ بند ی کرتی ہیں اور جو لوگ ان ثنویتوں کے تحت جیتے ہیں ان کے دلوں میں ایک کی شدید محبت اور دوسرے کے لیے اتنی ہی شدید نفرت کو جنم دیتی ہیں۔ بورخیس کا ادب، ان سب ثنویتوں کی راکھ سے بر آمد ہواہے۔ وہ ادب کو ایک لامحدود لائبریری تصور کرتا ہے اور اسی کو جنت بھی خیال کرتا ہے۔

 بورخیس کا وطیرہ ہے کہ وہ حقیقت اور استعارے میں فرق معدوم کرتا ہے۔ اس کے لیے لائبریری ایک واقعی جنت اور جنت کا استعارہ بھی ہے۔ پچپن سال کی عمر میں بصارت سے محروم ہونے کے بعد بورخیس نے مسلسل پڑھا اور لکھا اور دنیا بھر کے سفر کیے ؛ اندر کے سفر بھی کیے۔ اس کے لیے اپنی لائبریری جنت تھی کہ یہاں دنیا بھر کی متعدد بڑی کتابیں موجود تھیں۔ یہی لائبریری جنت کا استعارہ بھی تھی۔ عام تصور یہ ہے کہ جنت میں خون خرابہ نہیں ہوگا۔

 صرف امن اور مسرت ہوگی۔ لائبریری میں بھی ہر کتاب، دوسری کتابوں سے جھگڑا کیے بغیر موجود ہوتی ہے۔ لیکن کیا واقعی؟ یہاں آپ کو جوناتھن سوفٹ کا خیال آسکتا ہے۔ اس ظالم نے اٹھارویں صدی کے شروع میں اس جنت کو بھی خون خرابے میں بدل دیا۔ اپنے طنز ”کتابوں میں جنگ“ میں شاہ کی لائبریری میں قدیم اور جدید کتابوں یا نظریات میں باقاعدہ جنگ کی فنتاسی تخلیق کی اور کتابوں کو دست وگریباں ہوتے ا ور ایک دوسرے کے پرزے اڑاتے دکھایا۔

اس کا ایک جواب بھی بورخیس کے یہاں ملتا ہے۔ اس کے افسانے ”تھکے ہوئے آدمی کی منزل“ میں ایک جملہ ملتا ہے کہ ”آدمی جہاں بھی چلا جائے اپنے ساتھ ہی رہتا ہے۔ “ لائبریری میں بھی، جنت میں اورجہنم میں بھی۔ یہ انسان کی بنیادی حالت کا عرفان ہے۔ اسی عرفان کی طرف اشارہ تذکرہ غوثیہ کی ایک حکایت میں بھی کیا گیا ہے۔ ”ایک بزرگ نے اپنے مرید کو حکم دیا کہ چلم بھر۔ اس نے کہا کہ آگ نہیں۔ اس نے کہا دوزخ میں سے لے آؤ۔ وہاں پہنچاتو دیکھا کہ ایک چٹیل میدان ہے۔ آگ کا پتابھی نہیں۔ مالک دوزخ سے پوچھا۔ اس نے جواب دیا کہ میاں یہا ں تو کچھ بھی نہیں۔ جو کوئی آتا ہے اپنادوزخ ساتھ لاتا ہے“۔

بورخیس کیسے اشیا، صورتوں، معانی اور اصناف کی حدیں پگھلاتا ہے اور فن کی معراج تک رسائی حاصل کرتا ہے، اس کی ایک مثال۔ (مثالیں متعدد ہیں ) ”شیکسپیئر کی یاد“ ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں بورخیس کہتا ہے کہ چینیوں کے نزدیک کسی شے کو بیان کرنے کے 64 طریقے ہیں۔ بورخیس کہتا ہے کہ اس سے بی زیادہ ہیں اور لامحدود ہیں۔ ان لامحدود طریقوں کا احساس اور ان میں سے مناسب طریقوں کے انتخاب میں بورخیس کی عظمت مضمر ہے اور یہ ”شیکسپیئر کی یاد“ میں بھی دکھائی دیتی ہے۔

بورخیس کی کہانیوں کا خلاصہ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ خود کہتا ہے کہ اس کی کہانیوں کا ترجمہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اردو میں پہلے ممتاز شیریں، پھر دوسروں نے، خصوصاً صغیر ملال اور عاصم بٹ نے ترجمے کیے ہیں۔ لیکن وہ دنیا میں ترجموں کے ذریعے ہی پہنچا ہے۔ سب سے زیادہ انگریزی کے ذریعے۔ وہ خود انگریزی کا استاد رہا۔ ”شیکسپیئر کی یاد“ بھی انگریزی سے اس کے تعلق کی یاد دلاتی ہے۔ وہ جب کہتا ہے کہ اس کے فکشن کا ترجمہ نہیں ہوسکتا تو دراصل وہ مترجم کی نارسائی سے زیادہ، اپنے فکشن کے اس اسرار کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اسی کی برتی گئی زبان ہی میں قائم ہوتا ہے۔

 نیز وہ اپنے فکشن کو محض کہانی۔ دل چسپ واقعات کا مجموعہ۔ تک محدود نہیں کرتا۔ وہ اپنے فکشن کو شاعری تو نہیں کہتا مگر شاعری کی مانند اسے قابل ترجمہ نہیں سمجھتا۔ اس کے فکشن کی ایک ایک سطرقابل توجہ ہوتی ہے۔ لہٰذا اس کی کہانیوں کا اصولاً خلاصہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ انھیں موم بتی کی لو میں رات کی خاموشی وتنہائی میں پڑھا جاسکتا ہے۔ تبھی اس کے آرٹ کا حسن اور معانی کی سب تہیں رفتہ رفتہ بے نقاب ہوتی ہیں۔ یہیں ایک اوراہم بات یاد آتی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *