یوول نوح حراری: اکیسویں صدی کے 21 سبق (قسط نمبر 1)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


باب نمبر 1: فریب نگاہ

تاریخ کے اختتام کو موخر کردیا گیا ہے

انسان حقائق، اعداد یا حسابی مساوات کی بجائے کہانیوں میں سوچتا ہے۔ ہر شخص، گروہ اور قوم کی اپنی کہانی اور دیو مالا ہوتی ہے۔ لیکن بیسویں صدی کے دوران نیویارک، لندن، برلن اور ماسکو جیسی عالمی اشرافیہ نے تین بڑی کہانیوں (فاشزم، کمیونزم اور لبرل ازم) کی بنیاد رکھی، جو دعوی کرتی تھیں کہ وہ مکمل ماضی کا احاطہ کرتی ہیں او رپوری دنیا کے مستقبل کی پیشین گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ دوسری جنگ عظیم نے فاشسٹ کہانی کو شکست دی، دنیا 1940 سے 1980 کے آخر تک کمیونزم اور لبرل ازم کی کہانیوں کے درمیان میدان جنگ بنی رہی۔ پھرکمیونزم کی کہانی دم توڑ گئی اور لبرل کہانی انسانی ماضی کی راہبر بنی رہی۔ آج یہی لبرل کہانی مستقبل کی دنیا کا ناگزیر ہدایت نامہ ہے۔

لبرل کہانی آزادی کی قدروقیمت اور طاقت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ انسان ہزار ہا سال تک ظلم و ستم پر مبنی سماج میں رہا تھا۔ ایسے معاشروں میں انسانوں کو سیاسی حقوق، معاشی مواقع اور ذاتی آزادی بہت کم میسر ہوتی تھی۔ جس کی وجہ سے فرد، خیالات اور اشیاء کی نقل و حرکت کی کڑی نگرانی کی جاتی تھی۔ لیکن لوگوں نے اپنے حقوق کے لیے جنگ کی اور بتدریج آزادی نے اپنے قدم جمانا شروع کیے۔ جمہوری ریاستوں نے ظالم آمریت کی جگہ لے لی۔ اسی طرح آزاد کاروبار نے معاشی پابندیوں سے چھٹکارا دلایا۔ لوگوں نے متعصب پادریوں اور نفرت انگیز رسموں کی اندھا دھند پیروی کرنے کی بجائے اپنی ذات کے بارے میں سوچنے اور دل کی بات مان کر چلنے کا فیصلہ کیا۔ کھلی سڑکوں، لمبے لمبے پل اور ہلچل مچاتے ائیر پورٹوں نے خندقوں اور خاردار تاروں کو بدل دیا ہے۔

لبرل کہانی اس حقیقت کا اعتراف کرتی ہے کہ دنیا میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے، ابھی بھی بہت ساری رکاوٹوں کو عبورکرنا باقی ہے۔ ہماری زمین پر آج بھی بہت سارے ظالم لوگ موجود ہیں۔ آزاد ریاستوں میں بھی لوگوں کی اکثریت غربت، جبر اور تشد د کا شکار ہیں۔ لیکن آج ہم کم از کم یہ ضرور جانتے ہیں کہ ان مسائل کو حل کرنے کا واحد حل لوگوں کو زیادہ سے زیادہ آزادی دینا ہے۔ ہمیں انسانی حقوق کا تحفظ، حق ِرائے دہی کی آزادی اور فری مارکیٹ کا قیام عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔

ہم پو ری دنیا میں افراد، خیالات اور اشیا ء کے تبادلے کے عمل کو جس قدر آسان بنا سکتے ہیں، بنانا چاہیے۔ اس لبرل افراتفری کے مطابق (جارج ڈبلیو بش اور باراک اوباما کے ذریعے، ایک چھوٹی سی تبدیلی کے طور پر قبول کیا گیا) اگر ہم صرف اپنے سیاسی اور معاشی نظام کو آزاد اور عالمگیر بنانے کی کوششوں کو جاری رکھیں تو ہم سب امن اور خوشحالی کے داعی بن جائیں گے۔

وہ تمام ممالک جو اس ترقی کے نہ رکنے والے سفر میں شریک ہیں، انہیں جلد ہی امن اور خوشحالی انعام میں ملے گی اور وہ تمام ممالک جو اس ناگزیر سفر کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں انہیں نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ بالآخر وہ بھی ا پنے معاشروں، سیاست اور مارکیٹوں کو آزاد کریں گے۔ جس کی بدولت ان پر بھی یہ وقت آئے گا کہ وہ اس روشنی کا نظارہ کریں گے۔ بلاشبہ اس سارے عمل کو وقوع پذیر ہونے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ لیکن آخر کار شمالی کوریا، عراق اور السلواڈور جیسے ممالک بھی ڈنمارک یا آئیووا بن جائیں گے۔

بیسویں صدی کی آخری اور اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں یہ کہانی عالمی بھجن بن گئی۔ برازیل سے لے کر انڈیا تک اکثر حکومتیں تاریخ کے بے رحم مارچ سے بچنے کے لیے اس لبرل کہانی کو اپنانے کی کوشش کرنے لگیں۔ جو ممالک اس حقیقت کو اپنا نہ سکے، وہ گزرے ہوئے وقت کی باقیات بن کر رہ گئے۔ 1997 میں امریکی صدر بل کلنٹن نے چینی حکومت کو بڑے اعتماد کے ساتھ ڈانٹا کہ چینی سیاست کو آزاد کرنے سے انکار کرکے تاریخ کی غلط سمت پہ ڈال دیا ہے۔

تاہم عالمگیر مالیاتی بحران 2008 نے ساری دنیا میں لبرل کہانی کو مشکوک بنا دیا، اب دیواریں اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کا عمل دوبارہ مقبول ہوگیا ہے۔ امیگریشن اور تجارتی معاہدوں میں مشکلات بڑھنے لگی ہیں۔ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ جمہوری حکومتیں آزاد عدلیہ کے نظام کو کمزور، آزادی صحافت کو محدود اور کسی بھی قسم کی مخالفت کو غداری قرار دے رہی ہیں۔ ترکی اور روس جیسے طاقتور ممالک ایک نئی قسم کی غیر لبرل جمہوریت کا تجربہ کر رہے ہیں۔ آج شاید ہی کوئی چینی کمیونسٹ پارٹی کو پورے اعتماد سے کہہ سکے کہ وہ تاریخ کی غلط سمت کی طرف سفر کر رہی ہے۔

2016 کا سال (برطانیہ میں بریگزٹ ووٹ اور ریاست متحدہ ہائے امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے عروج کے ساتھ) اس وقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جب یہ فریب نگاہ کی لہر مغربی یورپ اور شمالی امریکہ کی لبرل ریاستوں تک پہنچ چکی ہے۔ صرف چند سال پہلے امریکہ اور یورپی لوگ بندوق کے زور پر عراق اور لیبیا ء کو آزاد کرانے کی کوشش کررہے تھے۔ کینٹکے اور یارک شائر کے اکثر لوگ اب لبرل بصیرت کو ناپسندیدہ یا ناکارہ خیال کرتے ہیں۔

کچھ ممالک پرانے طبقاتی نظام کو پسند کرتے ہیں اور اس طبقاتی نظام کو اپنی نسلی، قومی اور صنفی استحقاق کی وجہ سے چھوڑنا نہیں چاہتے ہیں۔ جبکہ باقی ماندہ نے (درست یا غلط انداز میں ) آزادی اور عالم گیریت کا مطلب یہ سمجھ لیا ہے کہ یہ اشرافیہ کے ایک چھوٹے سے گروہ کو عوام کے مقابلہ میں چال بازی سے طاقت ور بنانے کا ایک منصوبہ ہے۔

1938 میں انسانوں کو انتخاب کے لیے تین عالمی کہانیاں دی گئی، 1968 میں یہ دو کہانیاں رہ گئی اور 1998 میں صرف ایک ہی کہانی باقی رہ گئی اور 2018 میں وہ ایک بھی دم توڑ گئی۔ اس بات میں حیران ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اشرافیہ جو موجودہ دہائی میں دنیا کی اکثریت پر اپنا غلبہ رکھتی ہے وہ اس قدر صدمے اور انتشار کا شکار ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے کم از کم ایک کہانی کا ہونا ناگزیر ہے۔

ہر چیز بالکل واضح ہے کہ اچانک کسی بھی کہانی کا نہ ہونا خوفزدہ کردینے والی بات ہے۔ سر ے سے بالکل بھی کسی کہانی کا نہ ہونا سمجھداری کی بات نہیں لگتی ہے۔ جس طرح 1980 میں تھوڑا بہت روسی اشرافیہ کی سمجھ میں نہیں آیا تھا، بالکل اسی طرح لبرل اشرافیہ بھی سمجھ نہیں سکی ہے کہ تاریخ اپنے طے شدہ راستے سے کیوں ہٹ گئی، ان کے پاس حقیقت کی تشریح کے لیے متبادل منشور نہیں ہے۔ اس انتشار نے انہیں مستقبل کی تباہی کا منظرنامہ دکھا دیا ہے۔

انہوں نے پیشن گوئی کی ہے کہ اگر تاریخ کی ناکامی خوشگوار انداز سے اختتام پذیر نہ ہوگی تو اس بات کا ایک ہی مطلب ہے کہ ہم تیزی سے آرما جیڈن کی طرف جار ہے ہیں۔ ایک حقیقت پسندانہ سوچ اپنانے کی بجائے ذہن تباہی کے خوف کی طرف لگے ہوئے ہیں۔ یہ بالکل ایک ایسے شخص کی طرح ہے جو شدید سر درد کو ٹرمینل برین ٹیومرسے جوڑ دے۔ بہت سارے لبرل اس خوف میں مبتلا ہیں کہ بریگزٹ اور ڈونلڈ ٹرمپ کا عروج انسانی تہذیب کے خاتمہ کو دعوت دے رہے ہیں۔
(جلد، باب نمبر ا کے اگلے موضوع کا ترجمہ پیش کیا جائے گا)

اس سیریز کے دیگر حصےیوول نوح حراری: مچھر مارنے سے خیالات کے قتل تک (قسط نمبر 2 )۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply