چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں
عالمی سپر سٹار وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر وفاقی کابینہ میں تبدیلی کردی ہے، معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو فارغ کرکے پی ٹی آئی کے سینٹر شبلی فراز کو وزیراطلاعات اور آئی ایس پی آر کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو معاون خصوصی اطلاعات مقرر کردیا ہے، اس سے چند روز قبل آٹا، چینی سکینڈل کی رپورٹ آنے پر وفاقی وزرا کی وزارتیں تبدیل کردی گئیں۔
4 اکتوبر 2019 کو کالم لکھا تھا کہ ”وفاقی کابینہ ہے کہ گاڑی کے ٹائر“ ، جس میں لکھا تھا کہ غریب آدمی گاڑی خرید لے تو اس کو چلانے کے لئے وہ کبھی گاڑی کے ٹائر آگے اور کبھی پیچھے کرتا رہتا ہے یہ ایک عارضی کام ہوتا ہے، گاڑی کو تیز بھگانے کے لئے نئے ٹائرز وہ بھی اچھی کمپنی ہوں تو گاڑی فراٹے بھر کر بھاگتی ہے، عالمی سپر سٹار وزیراعظم عمران خان کو وزیراعظم بنے تقریباً پونے دو سال ہوگئے ہیں وہ اب تک اپنی ہی ٹیم سیٹ نہیں کرپارہے، کبھی وزیر ہٹا دو، کبھی دوبارہ لگا دو، کبھی کسی کی وزارت بدل دواورکبھی الیکشن میں تحریک انصاف میں شامل ہونے والے باڑے کے ٹٹوؤں کو وزیر بنا دو۔
پہلے جو وزرا فارغ کیے گئے ان پر نا اہلی کا الزام لگایا جاتا تھا اس بار حالات مختلف ہیں، معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو ہٹانے کے بعد کرپشن کے الزامات لگا دیے گئے جس پر فردوس عاشق اعوان سیخ پا ہیں، ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ان کو میسیج کیا کہ وہ میڈیا میں بیان بازی نہ کریں، اب بھلا عمران خان کو کون سمجھائے کہ جناب یہ فردوس عاشق اعوان ہیں کوئی جمائمہ خان یا ریحام خان نہیں جو خاموشی سے سب سہہ لیں گی، صحافیوں کے نزدیک فردوس عاشق اعوان خواتین کی شیخ رشید ہیں جن کو بولنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ان کی کابینہ کے ارکان صاف، شفاف ہیں، ان پر کوئی الزام نہیں جب کہ حقیقت اس سے مختلف ہے، ان کے سب سے قریبی ساتھی وزیر دفاع اور سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک پر نیب کی انکوائری چل رہی ہے، خود خان صاحب بھی ہیلی کاپٹر سکینڈل میں نیب کے شکنجے میں ہیں وہ الگ بات ہے کہ ان کو رعایت مل رہی ہے، یہی حال پنجاب میں بھی ہے۔
پنجاب کی وزارت اعلی کے لئے امیدواروں میں علیم خان بھی شامل تھے جنہوں نے پارٹی کے لئے اربوں نہیں تو کروڑوں تو ضرور جھونک ڈالے تھے اب وقت ملائی کھانے کا تھا مگر قرعہ ان کے نام نہ نکلا اور عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا گیا اور علیم خان کو سینئر وزیر بنادیا گیا مگر ان کی عثمان بزدار سے نہ بن سکی اور سردجنگ شروع ہوگئی۔ پھر نیب نے ان کو گرفتار کرلیا تو انہوں نے اعلیٰ روایت قائم کرتے ہوئے فوری طور پر استعفی دیدیا۔ نیب کی مہمان نوازی کے بعد وہ باہر آئے اور کافی دیر حکومت سے باہر رہے۔
گزشتہ ماہ آٹا، چینی سکینڈل رپورٹ آئی تو اس میں پنجاب کے وزیرخوراک چودھری سمیع اللہ کا بھی نام آگیا جس پر انہوں نے اپنی طرف سے ”اعلی روایات“ قائم کرنے کے لئے استعفی دیدیا، یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے ایک دیہاتی معمر خاتون سے عثمان بزدار کا تعارف کرایا تھا کہ جیسے شہباز شریف لگے تھے ایسے ہی عثمان بزدار وزیراعلیٰ لگے ہیں، یہ ویڈیو وائرل ہونے پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ”عزت“ میں بہت اضافہ ہوا تھا اور انہوں نے شہبازشریف کی مقبولیت کے ریکارڈ توڑ ڈالے تھے۔
چودھری سمیع اللہ کے استعفے سے پنجاب میں وزارت خالی ہوئی اور جہانگیر ترین کو ”ناکارہ“ بنانے کے بعد علیم خان کی پھر سنی گئی اور ان کو پنجاب کی وزارت خوراک دے کر اور ان کے ساتھ سینئر وزیر لگا کر ماضی میں ان سے ہونے والی زیادتیوں کو ازالہ کرنے کی کوشش کی گئی، اب وہ وزیراعلی پنجاب سے اچھے تعلقات بنا کر کام کریں گے کیونکہ وہ کافی خمیازہ بھگت چکے ہیں۔
علیم خان عمران حکومت کے علاوہ پرویز الٰہی حکومت میں بھی وزیر رہے، ان کی اچھی عادت یہ ہے کہ وہ جب بھی وزیر بنتے ہیں، خزانے پر بوجھ نہیں بنتے، سرکاری گاڑی لیتے ہیں اور نہ ہی پٹرول، عملہ ان کا ذاتی ہوتا ہے، اب ان کو دفتر 90 شاہراہ قائداعظم میں ملا ہے، اس بار بھی وہ وزیر بنے ہیں تو سرکاری گاڑی لی اور نہ پٹرول لے رہے ہیں، مہمان نواز ی کے لئے گھر سے سارا سامان لے کر آتے ہیں، حتی کہ باورچی بھی ان کا اپنا ہوتا ہے جو دفتر میں ہی کھانا تیار کرتا ہے اور سرکار کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔
آٹا چینی سکینڈل کی رپورٹ منظر عام پر آئی تو پنجاب کے وزیر خوراک چودھری سمیع اللہ خان نے عمران خان کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے فوری طور پر استعفی تو دیدیا مگر ایک ماہ ہوگیا موصوف نے ابھی تک سرکاری گاڑی واپس نہیں کی۔ وزارت کے دور میں ملنے والا سارا عملہ اب بھی ان کے ساتھ ڈیوٹی کررہا ہے۔ بندہ یہی سوچتا رہ جاتا ہے کہ چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں۔


