آزادی صحافت اور ”فیک نیوز کی وبا“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تین مئی دنیا بھر میں آزادی صحافت کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد آزادی صحافت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سیاسی سماجی حلقوں کو یہ باور کروانا ہوتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی روشنی میں آزادی اظہار کا احترام کریں۔ موجودہ عالمگیر وبائی صورتحال میں میڈیا کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس کی بدولت عوام کو بر وقت، شفاف اور مصدقہ معلومات کی فراہمی سے رہنمائی فراہم کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ نوول کورونا وائرس سے متعلق دنیا کو فیک نیوز کا چیلنج بھی درپیش ہے۔ سماجی میڈیا پر تواتر سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، علاج معالجے کے غیر موئثر اور صحت کے لیے تباہ کن ٹوٹکے بتائے جا رہے ہیں اور فیک نیوز کا بھی ایک بازار گرم ہے جس سے عوام میں بے چینی اور خوف و ہراس جنم لے رہا ہے۔ اگرچہ فیک نیوز کوئی نئی بات نہیں ہے ماضی میں بھی ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں لیکن عالمگیریت کے دور میں درپیش کووڈ۔ 19 کی کٹھن آزمائش میں جعلی معلومات کی حوصلہ شکنی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔

عالمی سطح پر ایک جانب جہاں مہلک نوول کورونا وائرس کی سنگینی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے تو دوسری جانب اس سے جڑے مفروضے، فیک نیوز اور افواہوں میں بھی تیزی آتی جا رہی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے حال ہی میں عوام الناس کو خبردار کیا ہے کہ عالمگیر وبا سے خود کو بچاتے ہوئے ”معلومات کے وبائی امراض“ سے بھی بچنے کی کوشش کی جائے۔ اس انتباہ کا مقصد وسیع پیمانے پر غیر مصدقہ معلومات کا سامنے آنا ہے جوانسداد وبا کی کوششوں میں مزید مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی نے رواں برس جنوری سے مارچ تک کووڈ۔ 19 سے متعلق دو سو پچیس معلومات کا تجزیہ کیا جنہیں ”فیک“ یا ”گمراہ کن“ قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے اٹھاسی فیصدمعلومات سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی ہیں۔ مثلاً چند حلقوں کے دعوے سامنے آئے کہ دھوپ میں زیادہ دیر بیٹھنے، پانی کا زیادہ استعمال، گرم پانی سے نہانے یا پھر لہسن پیاز وغیرہ کھانے سے وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ افواہ سازی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور اب ”ٹیکنالوجی“ بھی اسی فہرست میں شامل ہو چکی ہے۔

چند حلقوں کی جانب سے کہا گیا کہ 5 G موبائل نیٹ ورک بھی وائرس کے پھیلاؤ کا سبب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان سمیت دیگر دنیا میں بھی اس حوالے سے سوشل میڈیا پر اظہار خیال کیا گیا بلکہ تحفظات اور تشویش ظاہر کی گئی کہ شاید 5 G ٹیکنالوجی کے باعث بھی وائرس کی منتقلی ممکن ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور ماہرین کو یہ کہنا پڑا کہ وائرس کسی بھی موبائل نیٹ ورک کے ذریعے سفر نہیں کر سکتا ہے۔ اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک ایسے بھی ہیں جہاں فی الحال 5 G ٹیکنالوجی کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں مگر اس کے باوجود وہاں وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ لہذا ایسے مفروضے کی کوئی بنیاد نہیں ہے بلکہ اسے ٹیکنالوجی کی حوصلہ شکنی قرار دیا جا سکتا ہے۔

کچھ حلقوں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ نوول کورونا وائرس ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے جسے کسی تجربہ گاہ میں تیار کیا گیا ہے لیکن اس وقت ڈبلیو ایچ او سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں تحقیقی کاوشیں سامنے آ چکی ہیں جن میں واضح کیا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کسی لیبارٹری کی پیداوار نہیں بلکہ قدرتی ہے۔

رواں برس یونیسکو کی جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کووڈ۔ 19 کے باعث صحافت کے شعبے کو بھی اضافی چیلنجز درپیش ہیں کیونکہ صحت عامہ سے متعلق ایک عالمی بحران میں مصدقہ اور درست معلومات کی فراہمی کئی قیمتی جانیں بچا سکتی ہے۔ غلط معلومات کا تواتر سے سامنے آنا عالمگیر وبا کو مزید ہوا دے سکتا ہے جو وائرس سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہے۔ حالیہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے انسانی جسم سے وائرس کے خاتمے کے لیے جراثیم کش مائعات اور الٹرا وائلٹ لائٹ کے استعمال کی بات کی۔

اُن کا یہ بیان دیکھتے ہی دیکھتے سماجی میڈیا پر ایک مقبول موضوع بن گیا، دنیا بھر میں صحت عامہ کے ماہرین شدید تشویش میں مبتلا ہو گئے اور جراثیم کش مواد تیار کرنے والی کمپنیوں کو بھی سامنے آ کر وضاحت کرنا پڑ گئی کہ صدر ٹرمپ کے بیان میں کوئی صداقت نہیں ہے اور ایسا کرنے سے انسانی جان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح مارچ میں فیس بک کے سربراہ مارک ذکربرگ نے بھی لوگوں کو خبردار کیا کہ وائرس کے خاتمے کے لیے بلیچ کے استعمال کی ترغیب حماقت ہے اور ایسا کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے سماجی میڈیا بالخصوص فیس بک سے ایسے تمام مواد کو ہٹانے کا بھی وعدہ کیا لیکن بدقسمتی سے فیک نیوز کا کھیل اب بھی جاری ہے۔

یہاں اس بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ روایتی میڈیا کی نسبت سوشل میڈیا تک عوام کی رسائی انتہائی آسان ہو چکی ہے اور ہرقسم کی بریکنگ نیوز بھی آپ کو سوشل میڈیا سائٹس ہی فراہم کر رہی ہوتی ہیں، قطع نظر کے ان خبروں میں کتنی صداقت ہے۔ عالمی سطح پر مختلف ممالک کے لیے سوشل میڈیا ضوابط کی ترتیب اور نفاز یقیناً کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ میڈیا اداروں کو بھی اس ضمن میں آگے آنا چاہیے اور عوام میں فیک نیوز سے متعلق آگاہی کا فروغ لازم ہے بالخصوص ایسی صورتحال میں جب انسانیت کو سنگین عالمگیر وبا کا سامنا ہے۔

عالمی وبائی صورتحال کے پیش نظر روایتی و سوشل میڈیا دونوں کے مثبت اور تعمیری کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن اس کٹھن صورتحال میں درست اور شفاف معلومات کی فراہمی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے لازم ہے۔ اگر غیر مصدقہ معلومات کا پھیلاؤ جاری رہا تواس سے ایک جانب معاشرے میں خوف وہراس جنم لے گا تو دوسری جانب انسداد وبا کے لیے جاری کوششوں کو بھی سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *