انتہا پسندی مسائل کا حل نہیں


بلوچستان میں کسی آپریشن میں دو اعلی تعلیم یافتہ نوجوان کام آگئے ہیں۔

غوروفکر کے چند نکات:

لوگ کیوں حقوق کی حصول کے لئے انتہا پہ پہنچ جاتے ہیں اور ریاست سے بغاوت پر آمادہ ہوتے ہیں؟
کیا ریاستی پالیسیاں بالکل بھی زیر بحث نہیں لائی جاسکتی؟
کب تک عام نوجوان ہی کیا اعلی تعلیم یافتہ نوجوان بھی دوسروں کے ہاتھوں میں کھیل کر اس آگ کا ایندھن بنے رہیں گے؟

کیا ریاست اور کسی حکومت کی یہ کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ بنیادی اسباب کے خاتمے پر بھی توجہ دے اور ساتھ ان نوجوانوں کو ایجوکیٹ بھی کیا کرے؟

اعلی جامعات اور خاص کر قائداعظم یونیورسٹی میں آخر ایسے طلبہ کو پڑھایا کیا جا رہا ہے؟

یہ جو تعلیمی اداروں میں علاقائیت، عصبیت اور لسانیت کے نام پر کونسل بنی ہیں آخر ان کو سپورٹ کون کررہا ہے اور ان کے مشاغل کیا ہیں؟
انتظامیہ میں وہ کون سے کارندے ہیں جو ان کے سرپرست ہیں اور میڈیا وقتاً فوقتاً ان کو کندھوں پہ کیوں اور کس کے کہنے پر اٹھا رہا ہے؟
قائداعظم یونیورسٹی کے یہ طالبعلم اگر واقعی باغی تھے اور دہشت گردی میں ملوث تھے تو ادارے اور میڈیا خاموش کیوں ہیں؟

اس بات میں بھی وزن ہے کہ ”‏لگ رہا ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی میں سوشلسٹوں کی قیادت و رہنمائی میں کچھ معصوم طالب علموں کو ریاست سے بغاوت پر اکسایا جاتا ہے۔ جو تعلیمی اداروں میں پڑھنے آتے ہیں انقلاب کے نام پر ان کا برین واش کیا جاتا ہے۔ ان حرکتوں کے ذمہ داران سے جامعات کو پاک کیا جانا چاہیے۔“

آخری نکتہ!

آج قوم پرست، سیکولر اور لبرل حضرات اس طرح کی سوچ اور کارروائیوں کو سند جواز فراہم کرتے ہیں ”انتہائی تکلیف دہ بات ہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی میں ایم۔ فل کے بلوچ نوجوانوں کو بھی لگا کہ اب صرف مسلح جدوجہد سے ہی انہیں اپنے حقوق مل سکتے ہیں۔ شاید بلوچ نوجوانوں کا غصہ اور فرسٹریشن اس حد تک پہنچ چکا ہے جہاں ریاست سے لڑ کر جیتنا بھی ممکن نہیں اور ’آزادی‘ صرف موت میں نظر آتی ہے“۔

لیکن اس طرز عمل پر یہ سوال اٹھانا کیا کم گہرا ہے کہ ”‏ریاست کے خلاف بندوق اگر سرخ نظریات کے حامل نوجوان اٹھائیں تو فرسٹریشن کے باعث اس کے جواز کی راہ نکل آتی ہے وہ شہید کامریڈ کہلاتے ہیں، بندوق تھامنے والا سبز نظریات رکھتا ہو تو اسے دہشگرد انتہا پسند کہتے ہیں جس کے خلاف ریاستی آپریشن کے مطالبے کیے جاتے ہیں۔ مطلب کیسے کرلیتے ہو یار؟“

ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک ریاستی پالیسیوں، تحریکات اور تنظیمات، سربراہان، سیاستدانوں اور دانشوران اور میڈیائی اہلکاروں کی سوچ انتہاپسندی، وقتی مفادات اور سطحیت پر استوار ہے ان گتھیوں کا سلجھانا ناممکنات میں سے ہیں۔ بندوق کے زور پر نہ سوچ کو بدلا جاسکتا ہے اور نہ اس ذریعے سے مطالبات کو منوایا جاسکتا ہے۔

ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان اسباب کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لے کہ آخر انتہا پسندانہ رجحانات میں اضافہ کیوں ہورہا ہے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم، سیاسی، معاشی اور تعلیمی استحصال کا خاتمہ اور آواز اٹھانے والوں کو اپنا سمجھ کر انھیں سننا، قریب کرنا، سمجھانا، ہمدردی اور اپنائیت کا احساس دلانا ناگزیر ہے اعتماد کی فضا کو بحال کرنا بہرحال ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عین اسی طرح ان تحریکات اور تنظیمات کو بھی یہ احساس کرنا لازمی ہے کہ آج کے دور میں ریاست کے اندر ریاست کے قیام کا تصور درست اپروچ ہر گز نہیں ہے۔

آئین اور قانون کے دائرے کے اندر پرامن جدوجہد کو عوامی پذیرائی بھی ملتی ہے اور سنجیدہ حلقوں کی توجہ بھی حاصل کرپاتی ہے۔ یہ قیادت کی دانش کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ اپنی تحریک کو یرغمال ہونے سے بچا لے۔ آج کے دور میں کہ جب غیر ملکی ایجنسیاں اور کبھی اپنے بھی مختلف مقاصد کی تکمیل کے لیے بہت سائنسی انداز میں اپنا کام نکلوانے کے معاملے میں مہارت کی انتہا پر ہیں یہ اور بھی لازم آتا ہے کہ بہت فراست، احتیاط اور حکمت کے ساتھ اپنی تحریک کو آگے بڑھایا جائے اگر فی الواقع معاملہ حقوق کے تحفظ، مسائل کے حل اور مطالبات کی منظوری کا ہو تو!

Facebook Comments HS