بستی سے منہ اندھیرے نکلنا اور سفر کی رائیگانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خالد حسن مرحوم علم، ذہانت، احساس اور بذلہ سنجی کا نادر امتزاج تھے۔ محکمہ ٹیکس کی کان نمک چھوڑ کے چند سو روپلی پر پاکستان ٹائمز میں سینئر رپورٹر ہو گئے تھے۔ ایسا فیصلہ بذات خود شخصی قامت پر دلیل ہوتا ہے۔ ایسا دماغ جو منصب اور جاہ کا طالب نہیں، دل کی کشاد مانگتا ہے۔ خیال رہے کہ ژولیدہ مو دانشور نہیں تھے، خوش لباس، باذوق اور نفیس طبع بلکہ اچھے خاصے صاحب بہادر تھے۔ اخبار میں قلم کاری پر فرماتے تھے کہ اخبار میں لکھی تحریر شام کو لکشمی چوک میں مچھلی لپیٹنے کے کام آتی ہے۔ واقعی صحافت کچھ ایسا ہی اٹھاؤ چولہا روزگار ہے۔ کچھ خوش نصیب البتہ ایسے بھی نکلتے ہیں جن کا پڑھنے والوں سے محبت، مودت اور دل آسائی کا تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ خود آرائی ہی سمجھنا چاہیے کہ مسافر خود کو اسی زمرے میں شمار کرتا ہے۔ دراصل تو یہ پڑھنے والوں کے احسان کا اعتراف ہے۔ ہم کہاں کے دانا تھے….

لکھنے والے کی یہ خوش بختی ایک ذمہ داری بھی ہمراہ لاتی ہے۔ آبگینوں کو ٹھیس پہنچنے کا اندیشہ بلائے جان ہو جاتا ہے۔ ٹھہر کے، رک کے ایسے لکھنا ہوتا ہے جیسے برادر خورد بڑے بھائی سے سخن گسترانہ بات کہنا چاہ رہا ہو اور فیض کا مصرع پاو ¿ں کی زنجیر بن جائے، اک کڑا درد کہ جو گیت میں ڈھلتا ہی نہیں۔ دو ہفتے قبل، اپنے یہاں کے اجتماعی ذہن پر بات کرنے کا ارادہ باندھا۔ دو کالم سیاہ ہو گئے مگر ’خیال جادہ و منزل فسانہ و افسوں‘۔ اصل بات کہہ نہیں پائے۔ تکلف اور تشریفات نے مہلت نہیں دی۔ آج سوچا کہ اپنی ہی بات ہے، اپنوں سے کرنا ہے، تعلق خاطر فریقین میں باہم اعتماد ہی تو ہے۔ اعتماد کو آزمانا چاہیے۔

برطانوی ہند میں مسلم ذہن عظمت رفتہ، احساس شکست، جذباتیت، قدامت پسندی، مالی افلاس اور گروہی تفرقے سے عبارت تھا۔ جہاں ملکیت اور معاش میسر تھے، وہاں عددی اقلیت اور سیاسی ناطاقتی تھی جیسے یوپی اور حیدرآباد کے منطقے۔ جہاں عددی اکثریت تھی وہاں تعلیمی پسماندگی، سماجی کم مائیگی اور سیاسی رسہ گیری کا چلن تھا۔ جیسے شمالی مغربی ہند ۔ بنگال کا خطہ لسانی اور تہذیبی اعتبار سے کبھی ہند کے نقشے میں مدغم نہیں ہوا۔ تاریخ کی ستم ظریفی تھی کہ پاکستان کے حصے میں ایسے مسلم اکثریتی حصے آئے جہاں کی سیاست کا استعارہ یونینسٹ پارٹی تھی۔ یونینسٹ پارٹی کو سمجھنا ہو تو محترم شہباز شریف کی سیاست دیکھیے۔ کنونشن لیگ اور ق لیگ کی داستان پڑھیے۔

اگست 1947ءمیں قائد اعظم اور لیاقت علی پاکستان تشریف لائے تو ان کی شخصی مقبولیت سے قطع نظر، سیاسی طور پر مقامی زورآور حلیف نہیں، حریف تھے۔ فسادات اور تبادلہ آبادی کی قیامت طے شدہ منصوبہ آزادی کا حصہ تو نہیں تھی۔ ایک عہد رخصت ہو رہا تھا اور نئے بندوبست نے ابھی قدم نہیں جمائے تھے۔ اس خلا میں لکیر کے دونوں طرف قزاقوں کی بن آئی۔ ادھر گاندھی جی کو ولبھ بھائی پٹیل کا سامنا تھا اور ادھر قائد اعظم کی عمل داری پر شب خون مارا جا رہا تھا۔ گاندھی جی کی شہادت تعصب کا شاخسانہ تھی تو قائد اعظم کی تقریر سنسر کرنے کی سازش بہت سی کہانیاں سناتی ہے۔ متروکہ املاک کی چھین جھپٹ نے پاکستان کی اخلاقی بنیادوں میں بارودی سرنگ رکھ دی۔

عسکری ادارے اور سول انتظامیہ کا استخلاص وطن کی جدوجہد میں کوئی حصہ نہیں تھا لیکن نئی مملکت میں ریاستی اداروں کو تمدنی قوتوں اور سیاسی حاکمیت پر کاٹھی ڈالنے کا موقع مل گیا۔ مسلم لیگ کے غیر جمہوری رجحانات سے سیاسی روایت مفروضہ غداری، سازش اور شخصی دشنام سے آلودہ ہو گئی۔ چند مثالیں دیکھیے، قائد اعظم اور باچا خان میں مفاہمت کو سبوتاژ کیا گیا، ممدوٹ اور دولتانہ میں رسہ کشی ہوئی، ایوب کھوڑو پر کرپشن کا الزام لگا، سہروردی کا راستہ روکا گیا، جنرل افتخار کے طیارے کو حادثہ پیش آیا۔ قلات پر چڑھائی کا فیصلہ کس نے کیا تھا؟ کشمیر پر قبائلیوں کا حملہ ریاست کی کمزور عمل داری تھی یا درپردہ سازش، یہ تنازع ایسا الجھا کہ بلائے بے درماں ہو گیا۔

انسانی اجتماع میں غلطی کا امکان ہمیشہ موجود ہوتا ہے لیکن دانستہ سازش کو کیا کہیے گا۔ کیا قرارداد مقاصد کا کوئی مطالبہ یا تقاضا موجود تھا؟ کیا یہ قائد اعظم کی آنکھ بند ہوتے ہی مملکت کا بیانیہ بدلنے کی کوشش تھی؟ بارہ مارچ 1949ء کو یہ قرار داد منظور کی گئی تو سب مسلم ارکان نے تائید کی۔ کسی ایک غیر مسلم رکن دستور ساز اسمبلی نے حمایت نہیں کی۔ مذہبی بنیاد پر تفرقے کا دروازہ کھول دیا۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے سازش ہونے میں کوئی شک؟ بے نظیر کی شہادت پر فائدہ اٹھانے والوں کا ذکر کیا جاتا ہے، لیاقت علی کی شہادت سے کسے فائدہ ہوا تھا؟ ملک کی چھپن فیصد آبادی کی زبان کو مسترد کرنا کیا وطن دوستی تھی؟ 1953 کے فسادات کیا دولتانہ کی سازش نہیں تھے؟ سیفٹی ایکٹ کی مدد سے ذرائع ابلاغ کا گلا کس نے گھونٹا؟ ذرایع ابلاغ کو رشوت دینے کی ابتدا کس نے کی؟ دستور ساز اسمبلی توڑنے کا اقدام سازش تھا اور ثبوت یہ کہ جسٹس منیر نے خود 1960 میں جلسہ عام میں دباؤ کا اقرار کیا۔ دباؤ کہاں سے آ رہا تھا؟ سیٹو اور سینٹو میں شمولیت کا فیصلہ کس نے کیا؟ کیا قوم کو رہن رکھنے کے اس فیصلے میں عوام سے استصواب کیا گیا؟ ون یونٹ بنانا کیا سازش نہیں تھی؟ چھ فیصد اکثریت ملیامیٹ کر کے مشرقی اور مغربی پاکستان کو مقابل لا کھڑا کیا۔

غلام محمد، محمد علی بوگرہ، اسکندر مرزا، چوہدری محمد علی اور ایوب خان کی سیاسی حیثیت کیا تھی؟ جہاں عبدالرب نشتر، باچا خان، جی ایم سید اور بزنجو غدار قرار پائیں، وہاں تاریک پردوں سے مسیحائی کا خود ساختہ دعویٰ لیے موہوم کردار نمودار ہوتے ہیں، اور پھر اپنا کردار ادا کر کے پردے کے پیچھے چلے جاتے ہیں۔ افریقی شاعر کی نظم یاد آ رہی ہے۔ ایک بوڑھا مرتا ہے، اپنے پیچھے پرانا اخبار اور شکستہ عینک چھوڑ جاتا ہے۔ ایک بوڑھی عورت مرتی ہے، اپنے پیچھے پوتی اور نواسے کی تصویریں چھوڑ جاتی ہے، ایک بچہ مرتا ہے، صحن میں بکھرے کھلونے چھوڑ جاتا ہے۔ کیا یہ سب یہی چھوڑ کر گئے ہیں، نہیں، یہ اپنے پیچھے مجھے چھوڑ گئے ہیں۔ اس نظم پر ایک سطر بڑھا دینی چاہیے۔ ایک طالع آزما رخصت ہوتا ہے، اپنے پیچھے ایک درماندہ، بدحال اور سراسیمہ قوم چھوڑ جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *