ایک دھوپ کا ٹکڑا تھا، ایک بدلی کی چھایا تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رات تاریک تھی، بے حد تاریک!

دبی دبی سسکیاں، بے آواز گرتے آنسو، لرزتا بدن، تنہائی، یادیں، فراق کا کرب، کھو دینے کا غم، کیا تھا جو اس رات میں نہیں تھا!

اجنبی مسافروں کے درمیان تنہا، ایک جوان عورت، چھوٹی سی بچی گود میں سمیٹے، آنسوؤں کے ہار پروتی اپنے آپ سے باتیں کرتی تھی۔ آخر یہ بس اتنی آہستہ روی سے کیوں چلتی ہے؟ بار بار رکتی کیوں ہے؟ ملتان پنڈی سے اس قدر دور کیوں ہے؟ کاش میرے گرد لوگ نہ ہوتے تو میں کھل کے رو تو لیتی۔ میں کیسے بتاؤں ان سب کو کہ زندگی کی تپش سے بچنے کی دعائیں دیتا ہاتھ اپنا سفر تمام کر بیٹھا ہے۔

زندگی کی بے شمار راتیں اکیلے سفر کرتے گزریں، اس رات سے پہلے بھی اور بعد بھی۔ لیکن اکیس برس پہلے کی وہ رات مانو ٹھہر سی گئی ہے، سپیدہ سحر نمودار ہی نہیں ہو پاتا۔ تارکول بھری سیاہ سڑک، اندھیری رات، خاموش آنسو، حیران مسافروں سے بھری بس چلتی ہی جاتی ہے، منزل پہ پہنچ ہی نہیں پاتی۔

ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ جدائی کے برس ستائیس گنیں یا اکیس؟ اکیس برس یوں کہ مٹی مٹی میں مل گئی تھی اور ستائیس ایسے کہ پہچان اور شناسائی کی رمق باقی تو رہی لیکن اصل رنگ زندگی کے اونچے نیچے رستوں میں چلتے چلتے معدوم ہوئے۔

پنڈی سے لاہور جانے والی شام کی ریل کار میں وہ کچھ منفرد، کچھ عجیب سا خاندان تھا۔ ادھیڑ عمر مرد بات بے بات مسکراتا اور ساتھ بیٹھے ہم سفروں کو کچھ بتانے کی کوشش کرتا ہوا، کھچڑی بالوں والی عورت ایک چھوٹی بچی کو گود میں ڈالے، مرد کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد فہمائشی نظر سے دیکھتی اور کبھی چھوٹی سی سرگوشی کرتی ” بس کریں نا”۔ نوجوان نک چڑھی نظر آتی لڑکی بیزاری سےمسلسل کھڑکی سے باہر تکتی ہوئی۔

نانی کی گود میں لیٹی بچی جب غوں غاں کرتی، اس کی توجہ کچھ ثانیوں کے لئے کھڑکی سے ہٹتی، نگاہ غلط انداز سے اپنی بچی کو دیکھتی اور پھر مٹیالی شام کے جھٹپٹے میں ڈوبتے نارنجی سورج، گھر لوٹتے تھکے ہارے پرندوں اور ریل کے ساتھ بھاگتے درختوں میں گم ہو جاتی۔ اسے ابا کا غیروں سے سفر کی غایت بیان کرنا کھلتا تھا۔

وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ شام زندگی کی آخری شام ہو گی جب وہ چاہنے والے باپ کی ان آنکھوں کی مرکز نگاہ ہو گی جن کی وہ بچپن سے عادی تھی۔ اس شام کے بعد اگلے چھ برسوں میں باپ موجود تو ہو گا لیکن وہ، وہ نہیں ہو گا، جو تھا۔

ہمارے ابا نے اپنی زندگی کا آخری سفر ہمارے ساتھ کیا اور ہمارے لئے کیا۔ آنے والا دن ان کی بے پایاں ریاضت کے صلے کا دن تھا جب ہم نے ریاست کی سربراہ سے انعام وصول کرنا تھا اور اصل میں یہ تمغہ ان کے سینے پہ سجنا تھا۔ بے قراری کی یہی داستان وہ اپنے ہم سفروں کو سناتے تھے۔

بعض دفعہ زہر کا پیالہ امرت بن جایا کرتا ہے اور کبھی بے پناہ مسرت گلے کا پھندا ٹھہرتی ہے۔ یہی ہوا ہمارے ابا کے ساتھ کہ جس دن ان کی بیٹی سٹیج پہ چڑھی، اگلی صف میں بیٹھ کے تالیاں پیٹنے کی بجائے وہ قریب کے ہسپتال میں بستر پہ پڑے آکسیجن سلنڈر سے سانسیں لیتے تھے۔

عسرت و پسماندگی کو خاطر میں نہ لانے والے ایک چھوٹے زمیندار کے بیٹے کا علم کی تلاش میں شوق و جذبے کے اس سفر کا، جو گوجرانوالہ کے ایک چھوٹے گاؤں سے شروع ہوا تھا، اختتام ہوا چاہتا تھا۔ محبت کے چراغ کی لو پینسٹھ برس کی عمر میں مدہم ہو کے ٹمٹمانے لگی تھی۔

آنے والے چھ برسوں میں ہمارا اور ابا کا ساتھ تو رہا لیکن ابا کہیں نہیں تھے۔ یہ تو ان کا سایہ تھا جو خبر اور بے خبری کے رستوں پہ ڈگمگاتا ہوا چلتا تھا۔ ہم اسی میں خوش تھے کہ دید تو میسر تھی۔

 چھ مئی انیس سو ننانوے اور ملتان کا ایک گرد آلود اداس دن، نہ جانے کیوں دل صبح سے ہی مضطرب تھا۔ سہ پہر میں ہماری اکلوتی صاحبزادی ہمارے پاس کھیلتی تھی اور ہم فوجی آپریٹر سے بار بار کال ملوانے کی درخواست کرتے تھے۔

فون کے دوسری طرف اماں تھیں،

” صبح سے کچھ نڈھال ہیں تمہارے ابا، کھانا بھی بہت کم کھایا، محض چند لقمے۔ ہاں تمہیں یاد کئے جاتے ہیں”

” اماں ذرا ڈاکٹر بلوا کے چیک تو کروا لیجیے”

معائنے کی نوبت ہی نہ آئی کہ مسافر سامان باندھ چکا تھا۔ رخصت کی وصل بج چکی اور گارڈ نے ریل چھوٹنے کی جھنڈی لہرا دی۔ ہمیں تھوڑی ہی دیر میں خبر ہو گئی کہ جوگی اپنے ٹھکانے سے کوچ کر گیا۔

قیامت شاید ایسی ہی ہوتی ہو گی!

صاحب کسی کورس کے سلسلے میں حیدر آباد میں تھے۔ ملتان کی وہ شام، ہم اور ہماری ننھی بچی نے جس تنہائی، کرب، رنج و الم اور گریہ میں گزاری، وہ شام غریباں سے کم تو نہیں تھی۔

جہاز نے اگلی صبح دس بجے اسلام آباد کے لئے اڑنا تھا۔ اتنے انتظار کی ہم میں تاب نہ تھی۔ سو رات نو بجے روانہ ہونے والی بس کے مسافروں میں ہم ماں بیٹی اپنی سسکیاں گلے میں گھونٹتے ہوئے روتی تھیں۔ صبح ہونے کا انتظار آنکھوں میں کرچیاں بھرتا تھا اور رات گہری ہوئی جاتی تھی۔

صبح کی پہلی کرن کے ساتھ گھر پہنچنے والی بیٹی کو علم تھا کہ دروازہ کھلا تو ہو گا لیکن منتظر آنکھ تھک کے بند ہو چکی تھی۔ اب تو رخصت کا سمے تھا، کچھ قرض تھا جو ہمیں اتارنا تھا۔

ہم نے ابا کی بے لوث محبت، چاہت، اعتماد اور یقین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں بتانا تھا کہ وہ ہمیشہ رہیں گے ہمارے دل میں، جب تک کہ ہم پھر ملیں۔ دور کسی اور جہاں میں وہ سب کہنے سننے جو ہمارے اور ان کے بیچ میں کچھ ان کہا، کچھ ادھورا رہ گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *