شعبہ زراعت اور زراعتی افراد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا جیسی موذی وبا کے باوجود بھی محکمہ زراعت اور اس سے منسلک شعبہ جات اپنی تمام تر نیک نیتی اور دل و جان سے ملک و ملت کے لیے شب و روز محنت کر رہے ہیں۔

عصر حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام بالا سے اور متعلقہ ارباب اختیار اداروں سے مودبانہ گزارش ہے کہ

1۔ زرعی ادویات، کھاد بیج، کا کاروبار/دکان کے لیے زرعی ڈگری لازمی ہونی چاہیے، جیسے انسانی ادویات کے لیے بی فارمیسی ہونا لازمی ہے۔ ایسے ہی ایگری گریجویٹ کی ڈگری کا ہونا لازم قرار دیا جائے۔

2۔ جیسے انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور دیگر اداروں کے لیے بیرون ممالک سے نت نئی تحقیقات اور جدت لانے کے لیے حکومت (عرفہ کریم /IT Parks) اور ان اداروں سے وابستہ افراد ہمہ تن کوشاں رہتے ہیں، زراعت میں بھی ایسے ہی ترقی لانے کے لیے محکمہ زراعت اور اس سے وابستہ اور منسلک اداروں کو بین الاقوامی طور پہ زراعت کے سائنسی اور جدید منصوبہ جات، معیار اور عوامل کو پاکستان میں لاگو کروانا اور سود آور بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں، نہ کہ صرف باہر سے ادویات، کھاد، بیج اور دیگر مال اسباب منگوا کر بیچنا ہی مقصد ہو۔

3۔ ہر نیشنل اور ملٹی نیشنل زرعی شعبے سے وابستہ کمپنی کا پلانٹ پاکستان میں ہو اور مکمل انحصار اپنے ہی افراد اور عوامل پہ کیا جائے۔

4۔ تمام زرعی ڈیپارٹمنٹس کو یکساں مواقع میسر آنے چاہئیں، ہم انٹر پاس کو سیلز افسر رکھ لیتے ہیں، فشریز والے کو اس کے میجر کی وجہ سے معذرت کر لیتے ہیں۔

محکمہ، اور ایسوسی ایشن اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر کمپنی میں ہر ڈیپارٹمنٹ کا خصوصی کوٹہ ہو۔
اس سے بیروزگاری کم ہو گی اور سب کو یکساں مواقع میسر آئیں گے

5۔ زرعی ادویات کی سیلز فورس کی تنخواہ، میڈیکل، اور ریٹائرمنٹ کا معیار 17 سکیل کے افسر کے معیار کے برابر کا ہونا چاہیے۔

6۔ محکمہ اور ارباب اختیار اور بات کو یقینی بنائیں کہ زرعی کاروبار کرنے کا لائسنس اس وقت تک کسی ادارے کو نہ دیا جائے جب تک تمام زرعی فیلڈ کے افراد کا بنک اکاؤنٹ اس کمپنی سے وابستہ نہ ہو۔

نیز اس بات کو یقینی اور لازمی منشور کا حصہ بنایا جائے کہ سب کی تنخواہ اور مہینے کے اخراجات بنک اکاؤنٹ میں معینہ مدت تک مل رہے ہیں یا نہیں، بصورت دیگر کمپنی کا لائسنس منسوخ اور تادیبی کارروائی زید عمل لائی جائے اور قرار واقعی سزا ہو۔

7۔ ہر نیشنل یا ملٹی نیشنل زرعی ادویات کے ادارہ اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ ہمارے افراد تعلیم و تربیت، ریسرچ اینڈ ڈیلولیپمنٹ، اور جدید ٹیکنالوجی میں کتنے ہمہ گیر ہیں اور اپنے افراد کو سیلز کانفرنس کے علاوہ، ہر سال ترقی یافتہ ممالک سے زرعی ٹریننگ دلوا کر اپنی کمپنی اور ملک کی ترقی میں اضافے کا باعث بنے۔

8۔ محکمہ زراعت اس بات کو یقینی بنائے زرعی کمپنیز میں جتنے بھی فیلڈ افراد ہوں سب ٹیکنیکل اور زرعی ڈگری ہولڈر ہوں بصورت دیگر سخت تادیبی کارروائی زیر عمل لائی جائے۔

9۔ ہر یونین کی سطح پر ایک ایگری افسر ہونا چاہیے۔

10۔ محکمہ تعلیم میں ایگریکلچر کی لازمی سیٹ ہو، اور ایگریکلچر کا مضمون تمام سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری بورڈذ میں لازمی مضمون قرار ہونا چاہیے۔

11۔ زرعی اجناس کی ترسیل اور مارکیٹنگ کا بہترین نظام وضع کرنے کی اشد اور فی الفور ضرورت ہے۔

ہم زرعی ملک ہوتے ہوئے بھی ٹماٹر 250 روہے، اور چینی 85 روپے خریدنے پہ مجبور نہ ہوں، ہر زرعی جنس پاکستان کے ہر طبقے کے لیے ارزاں نرخوں پہ دستیاب ہو۔

12۔ جیسے زرعی ادویات کی کمپنیوں کا سیلز سسٹم وضع ہے، ایسے ہی ہر ضلع کی پیداواری زرعی جنس، زرعی جنس کی ترسیل اور مارکیٹنگ کا نظام عملی طور پہ، ذمہ دارانہ طور پہ قابل عمل لانے کی اور وضع کرنے کی ضرورت ہے، اس سے ذخیرہ اندوزوں کی ذخیرہ اندوزی اور ان کی ناجائز منافع خوری سے بھی نجات ملے گی۔

13۔ محکمہ زراعت اس بات کو یقینی بنائے اور قوانین میں لازم کرے کہ جس کمپنی کو لائسنس دے یا تجدید لائسنس کرے وہ کمپنی اپنی زرعی پراڈکٹس (کھاد، بیج، زرعی ادویات) کی سیلز کے ساتھ ساتھ پیداوار کی بڑھوتری اور معیار کی بھی علیحدہ سے ٹیم رکھے، جو اس پیداوار کے اعلیٰ معیار اور بروقت ترسیل کی ضامن ہو، اور سیلز کے ساتھ ساتھ پیداوار کی مارکیٹ تک بر وقت ترسیل، بروقت فراہمی، ارزاں اور مناسب نرخوں پہ عام عوام تک رسائی اس کمپنی کے ذمہ داری ہو۔

جب تک تمام کمپنیاں صرف اپنے مفاد کے لیے بغیر کسی منشور کے صرف اور صرف سیلز ہی جن کا پہلا اور حتمی مقصد ہو گا ہم بحیثیت ایگریرین، بحیثیت قوم، اور ملک و ملت، اگلے 100 سال تک بھی ترقی نہیں کر پائیں گے، ہمیں تمام غلامانہ سوچ سے نکلنے کی ضرورت ہے اور اپنی آواز، اپنی قوم کے مفادات اور حقوق کی جدوجہد کے لیے آواز اٹھانا ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
قیصر جمال شاہ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply