مائی مدرز ڈے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ چار پانچ روز سے مجھے دنیا ایک بار پھر سے بے رونق اور پھیکی محسوس ہو رہی ہے۔ جیسے ٹھیک گیارہ برس پہلے نومبر کے مہینے میں ساری روشنیاں ایک دم بجھ سی گئی تھیں۔ اور باوجود کوشش کے کافی مہینے میں اس کرب سے نہ نکل پائی تھی۔

گیارہ برس کے بعد اچانک ایسا محسوس ہونے کی وجہ ہمارے ملک کے مشہورشاعر انور مسعود صاحب کی اہلیہ کے انتقال پر ان کے صاحبزادے عمار مسعود کا کالم ہے جو انھوں نے اپنی والدہ کی یاد میں ان کی محبت میں سرشار ہو کر لکھا۔ دو تین روز کے بعد محترم انصار عباسی صاحب نے اپنی والدہ محترمہ کی یاد میں لکھا، میں یہ دونوں کالم پڑھ کر رہ نہ سکی اور یادوں کی رو میں بہتی بہت دور تک چلی گئی۔

ماں ایک ایسی ہستی ہے جو ہر انسان کو بہت پیاری ہوتی ہے۔ مجھے تو لفظ امی میں اتنی چاشنی محسوس ہوتی ہے کہ گیارہ برس سے میں دنیا کی ہر ماں میں اپنی ماں کو تلاش کرتی ہوں۔ میری ماں، اگر میں یہ کہوں کہ، دنیا کی ہر ماں سے زیادہ پیاری اور خوبصورت شخصیت کی مالک تھیں تو بے جا نہ ہوگا۔ میری اپنی ماں سے دوستی کی زیادہ وجہ عمروں کے فرق کا بہت کم ہونا تھا۔ میرا اور میری ماں کے درمیان عمر کا فاصلہ صرف انیس برس کا تھا۔ جوکہ عام طور پر پرانے وقتوں میں بڑے چھوٹے بہن بھائیوں میں ہوتا تھا۔ اس لیے ہمارا تعلق ماں بیٹی سے زیادہ دوستی کا تھا۔ اس پے طرہ یہ کہ میری ماں بہت زندہ دل اور خوش مزاج تھیں۔ اکثر میری دوستوں کی میری ماں سے بہت زیادہ دوستی ہو جایا کرتی تھی اور وہ کہتی تھیں کہ ہم تو آنٹی جان سے ملنے آتے ہیں۔

میرے والد کا انتقال میری شادی کے چند مہینے بعد ہو گیا۔ باپ کا جانا میرے لیے بہت بڑا صدمہ تھا مجھے حقیقت میں ایسا محسوس ہوا کہ میرے سر سے سائبان اٹھ گیا ہے مگر میری ماں نے باپ کے بعد کبھی احساس نہ ہونے دیا کہ ہمارا باپ اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ حقیقت یہ تھی کہ انھوں نے ماں اور باپ دونوں کا رول ادا کیا۔

زندگی خوبصورتی سے رواں دواں تھی مجھے اپنی ماں کے ہوتے ہوئے کسی کی کمپنی کی ضرورت نہ ہوتی۔ ہم ماں بیٹی گھنٹوں باتیں کرتے اور ہمارے قصے ہی ختم ہونے کا نام نہ لیتے تھے۔

ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم

کہ تو نہیں تھی، تیرے ساتھ ایک دنیا تھی

یہ شعر پڑھ کے پتا چلتا ہے کہ یہ محض ایک شعر نہیں بلکہ شاعر کے دل کی آواز ہے اور اس درد سے صرف وہ آشنا ہوتے ہیں جن بد نصیبوں کی دنیا ان سے روٹھ کر دورجا چکی ہوتی ہے۔ اور وہ تہی داماں تشنہ لبوں سے ساری زندگی اس دنیا کو ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

دنیا کی ہر آسائش، قیمتی سے قیمتی چیز ماں کی یاد کے آگے ہیچ معلوم ہوتی ہے۔ ماں کے ہاتھوں اور پیروں کا لمس میں آج بھی محسوس کرتی ہوں۔ اکیلے بیٹھ کر تصوراتی طور پر ماں کے ہاتھ پکڑتی ہوں وہ احساس اتنی شدت سے میرے اندر گھر کر جاتا ہے کہ جیسے ماں کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہو، زیادہ یاد آئے تو میں اپنی ماں کے پیر پکڑ لیتی ہوں اور سچ میں ایسا لگتا ہے کہ پیر پکڑے بیٹھی ہوں۔ سوچتی ہوں زندگی میں تو دوستوں کی طرح وقت گزار دیا۔ اب کوئی دوستوں کے پیر تھوڑی پکڑتا ہے تو ماں کے پیروں کو ہاتھ لگانے کی تشنگی ہی رہ گئی۔ ویسے سچ بات ہے کی ستاون سال کوئی جانے کی عمر تو نہیں ہوتی میں ماں کے پیر پکڑتی بھی تو کیسے پکڑتی۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میری پہلی بیٹی کی پیدائش ہوئی تو بچوں کا معالج جو اس کا معائنہ کرنے آیا، اس نے بھی ینگ نانی کو دیکھ کر خوشی بھری حیرت کا اظہار کیا۔ اتنی جوان ماں ہونے کا فخر بچپن سے میرے اندر چل رہا تھا اور میں نے کبھی سوچا ہی نہ تھا کہ میری ماں اس دنیا سے اتنی جلدی جا سکتی ہے۔

میری ماں کی توجہ کا سارا مرکز میں، میرا اکلوتا بھائی، میرے شوہر، میری اکلوتی بیٹی اور میرے دو بیٹے تھے۔ ان کو ہم سب کے علاوہ کوئی نظر ہی نہ آتا تھا۔ انکار کرنا میری ماں کی سرشت میں نہیں تھا۔ مجھے جب بھی ماں کی ضرورت پڑتی، وہ چراغ کے جن کی طرح میرے آس پاس موجود ہوتی۔ کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے کہ دنیا کی ہر ماں سے کہہ دوں کہ اتنا پیار نہ دیا کرو اپنے بچوں کو کیونکہ ماؤں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد جینا بہت مشکل نظر آنے لگتا ہے۔ امی جب میرے شوہر اور بچوں کے بہت زیادہ ناز اٹھاتیں تو میں اکثر ان سے الجھا کرتی کہ اتنا زیادہ لاڈ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جس کا جواب وہ یہ دیتی کہ جب تک ہوں، میں نے تو ایسے ہی کرنا ہے۔ مجھے کچھ نہ کہا کرو، شاید ان کے پاس وقت کم تھا۔

ماں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد میں ذہنی طورپر بہت زیادہ ڈسٹرب ہو گئی۔ مجھے دوبارہ زندگی کی جانب آنے میں کافی مہینے لگے اور میں نے امی سے بچھڑنے والے دکھ کا علاج اس طرح کیا کہ اپنی فیملی کے لیے ہر وہ کام کرنا شروع کردیا جو امی کرتی تھی۔ میں اپنے چھوٹے بھائی سے صرف تین سال بڑے ہونے کے باوجود اس کی ماں بن گئی۔ وہ جب کبھی پریشان ہوتا ہے، میں اس سے کہتی ہوں، تم اداس نہ ہوا کرو، تمھاری ماں تو زندہ ہے۔ میں نے اپنے سوچنے کا انداز بدل دیا کہ ماں کہیں نہیں گئی وہ میرے آس پاس موجود ہے کہیں میرے اندر۔ میں اپنے بچوں کے لیے بالکل ویسی ماں بن گئی جیسی میری ماں میرے لیے تھی، قانون قدرت کو تو کوئی نہیں بدل سکتا۔ جو ذی روح اس دنیا میں آیا ہے اس نے لوٹ کر واپس تو جانا ہی ہے۔ اپنی ماں کی یادوں کو زندہ رکھنے کا اس سے اچھا طریقہ کیا ہوسکتا ہے کہ ان جیسا بن جائیں۔

اس ساری کوشش کے باوجود مجھے اس وقت خوشی کا احساس دو چنداں ہو جاتا ہے جب میری بیٹی کہتی ہے کہ “نانو جیسا کوئی نہیں ہو سکتا”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply