مولانا طارق جمیل کی بہتی گنگا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا طارق جمیل وقت رواں کے ایک معتبر عالم دین ہیں۔ مولانا ڈاکٹر بن رہے تھے مگر خدمت دین کی طرف آگئے اور چہار دانگ عالم میں اپنا لوہا منوایا۔ کیا بریلوی، کیا دیوبندی، کیا اہلحدیث، کیا شیعہ سبھی حلقوں میں مولانا کے قدردان موجود ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مولانا متشدد خیال نہیں۔ معتدل طبیعت ہیں۔ مسکراتے ہوئے گفتگو کرتے ہیں۔ لہجہ پراثر ہے۔ اور سب سے خوبصورت بات یہ کہ جذبہ اتحاد امت کے تحت مخالف مکتبۂ فکر کی درس گاہوں اور امام بارگاہوں میں بھی چلے جاتے ہیں۔

عرب و عجم میں جہاں جہاں اردو سمجھنے والے مسلمان موجود ہیں وہاں مولانا صاحب کے پیروکار موجود ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ سے مولانا کی شہرت اور نیک نامی کی بہتی گنگا سے ارباب بست و کشاد جی بھر کے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ بلکہ ڈبکیاں لگا لگا کر اشنان کر رہے ہیں۔ سیاست دان سونے کا بن کر بھی آجائے تو کل عوام کی حمائیت نہیں جیت پاتا جبکہ وقت دوراں کی سرکار کی کارکردگی سے تو عوام شدید شاکی ہیں۔ اب ایسے حالات میں لبرل نکتہ نظر کی حامل جماعت گاہے گاہے ٹی وی سکرینوں پہ مولانا صاحب کو بٹھا کر اپنی قصیدے پڑھوائے گی تو عوام کا ماتھا تو ٹھنکے گا۔ وہ بخوبی زائچہ کھینچ لیتے ہیں کہ سکرین کے پیچھے کیا چل رہا ہے۔ تاریخ کے اوراق پہ ثبت ہے کہ حکمران وقت کے جید علماء کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتے رہے۔ اس سلسلے میں عہدوں کا لالچ اور نجانے کیا کیا کچھ پیش کیا جاتا رہا۔

ان میں سے کچھ ہی تھے جو کلمۂ حق پہ ڈٹے رہے اور مفادات کو جوتے کی نوک پہ رکھا۔ امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل اس قبیل کے سرخیل ہیں۔ اللہ کی کروڑوں رحمتیں اس قبیلہ حسین کے سپاہیوں پر!

خاکم بدہن کہ میں مولانا طارق جمیل صاحب کو مفاد پرست کہوں۔ مگر مولانا صاحب ضرورت سے زیادہ شریف النفس واقع ہوئے ہیں۔ ان کے پچھلی سرکار سے بھی تعلقات رہے مگر وہ جنازے پڑھانے تک یا فقط رسمی ملاقاتوں تک محدود تھے۔ اب والی سرکار جس بری طرح سے مولانا صاحب کو اپنی قصیدہ گوئی کے لیے استعمال کر رہی ہے اس سے مولانا صاحب کی شخصیت پہ سیاسی ہونے کا گمان کیا جا رہا ہے۔ مولانا صاحب موجودہ ریاست کے لیے ریاست مدینہ کا استعارہ استعمال کرتے ہیں۔ حکمران وقت کو سب سے زیادہ دیانت دار اور مبالغہ آرائی کی حد تک مخلص بتاتے ہیں۔ اس سے ان کی طبیعت کا وہ توازن برقرار نہیں رہ پا رہا جس کی وجہ سے ہر طبقہ فکر سے عوام ان کے گرویدہ ہیں۔ مخالف سیاسی کیمپ اور معاشی حالات کے ظلم کی چکی کے پاٹوں میں پستے غیر سیاسی گروہ بھی مولانا کے اس غیر معمولی جھکاؤ پہ انگشت بدنداں ہیں!

اب چلتے چلتے محترم مولانا صاحب نے سارے ملک کی عوام بشمول (علمأ، فقرآ، خطبآ، اللہ کی راہ میں چلتے مبلغین) اور میڈیا کی بے راہ روی کو موجودہ وبا کی وجہ قرار دے دیا اور حسب سابق ملک بھر میں فقط ایک شخص کو ہی نیک گردانا۔

میڈیا کے کچھ اینکر مولانا پہ چڑھ دوڑے۔ القصہ مولانا صاحب کو ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنا پڑی۔ یہاں پھر مولانا حد سے زیادہ شرافت

سے قائم لے گئے۔ میڈیا جھوٹا ہے، بد کردار ہے، فحاشی کا پرچارک ہے۔ تو ایسے میڈیا سے معافی کاہے کو؟ منہ پہ کہنا بنتا تھا کہ میڈیا اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرے۔ اب مذمتوں کی ایک آندھی شروع ہو چکی ہے۔ ریٹنگ بڑھاتے منہ سے کف اڑاتے اینکر، اینکرنیاں اور کچھ سیاستدان میڈیا کی ان شخصیات پہ چڑھ دوڑے ہیں کہ تمہاری ایسی کی تیسی!

تم مولانا صاحب کے بارے میں کچھ کہو۔ اگر ان احباب کا ٹریک ریکارڈ چیک کیا جائے تو یہ کبھی بھی مذہبی شخصیات اور جذبات کے ساتھ اس شدومد سے کھڑے نہیں ہوئے۔ یہ سب مولانا کی شہرت، نیکی نامی اور شرافت کی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ انہیں صرف اپنی ریٹنگ بڑھانی ہے۔ مولانا کے قریبی حلقوں کو چاہیے کہ وہ مولانا صاحب کو کسی عمران، نواز، و زرداری یا کسی بھی اور سیاست دان کے ہاتھوں صریحاً یا کنایتاً استعمال ہونے سے بچائیں کیونکہ مولانا صاحب تفرقہ بازی کے اس پرفتن دور میں امت مسلمہ کا عظیم سرمایہ ہیں۔ وہ متنازعہ ہوگئے تو پیچھے کون ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply